ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۵

بروز سنیچر۔ صبح چار بجے (أبو ظبی)

۳۰۔۳۱ اکتوبر ۲۰۱۵ کی شب کے آخری پہر میں میں نے ایک خواب دیکھا۔ آنکھ کھلی تو حسب معمول میری گھڑی میں صبح کے چار بجے تھے۔ خواب کا آخری حصہ اتنا واضح تھا، کہ دن بھر وہ میرے ذہن میں بار بار تازہ ہوتا رہا، حتی کہ جہری نمازوں کے دوران پڑھی جانے والی قرآنی آیات سے اس کی مناسبت اس ذہنی تکرار کا مزید محرک بن گئی۔ چنانچہ اس وقت عشاء کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ریکارڈ کر لینا چاہئے۔ 

میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل ایک بستی ہے۔ ہر طرف سناٹا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آخرت کی دنیا ہے اور انسانوں کا حساب کتاب ہو رہا ہے یا عنقریب ہونے والا ہے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا شکیب عزام اپنی سائیکل پر وہاں ایک گھر کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے۔ اس وقت وہ ۲۵ سال کا ہو چکا ہے مگر خواب میں وہ دس برس کا بچہ دکھائی دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا:

” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

“شکیب(مسکراتے ہوئے): دادا کہتے ہیں کہ اس کمرے میں جو آدمی ہے وہ بہت بے بس اور پریشان ہےکیونکہ اس بیچارے کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے۔” 

میں نے غور سے دیکھا تو گھر کی شفاف دیوار کے پیچھے برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نظر آیا، جو سراسیمگی کی حالت میں اندر اس طرح چل رہا تھا جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ اپنی صورت اور حلیہ کے اعتبار سے وہ بعینہ اس کے مطابق تھا جو اس کی آخری عمر کی تصویروں میں نظر آتا ہے۔میں نے اپنے لڑکے کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی میں کہا:

“Pitiful. He was one of the greatest mathematicians and philosophers of 20th century but now he is so helpless.”

اس جملہ پر میری آنکھ کھل گئی۔ 

برٹرینڈ رسل(1970-1872) دور جدید کے ان معروف ملحدین میں سے ہے جنہوں نے علی الاعلان خدا اور مذہب کا انکار کیا۔ بظاہر اپنے اس انکار کی توجیہ وہ خوبصورت فلسفیانہ اور علمی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں مگر اپنے آخری تجزیہ میں اس سے زیادہ بے بنیاد اور غیر علمی توجیہ کوئی نہیں۔ مذکورہ خواب میں رسل کی بے بسی کا منظر حرف بحرف وہی تھا جو قرآن میں کئی مقامات پر منکرین خدا کے آخری انجام کی تصویر کشی کرتے ھوئے دکھایا گیا ہے۔ مثلاً سورہ غافر کی آیات ۱۰، ۱۱، ۱۲، اور١٦، ۱۷ ۱۸۔ یعنی سخت حسرت و افسوس میں ڈوبی ہوئی سراسیمگی،اور بے بسی کی حالت جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ 

بچہ کی زبان سے خواب میں نکلا ھوا یہ جملہ کہ” دادا کہتے ھیں اس آدمی کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے” شاید وہ فطرت کی زبان میں سورہ غافر کی آیت نمبر ۱۸ کے ایک ٹکڑے کی طرف اشارہ تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں ” ظالموں کے لئے نہ کوئی ہمدرد ہو گا، نہ ہی کوئی سفارشی جس کی بات سنی جائے”۔ 

خواب کے ضمن میں “دادا” کا حوالہ بھی غالباً دوبارہ “فطرت انسانی” کی اس بے آمیز حالت کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے وجدانی تقاضے کے تحت کسی فلسفیانہ تعمق یا منطقی دلیل کے بغیر ایک خدا پر سنجیدہ ایمان رکھتی ہے۔ شکیب کے دادا (محمد لقمان ، وفات ۱۹۹۸) بیسویں صدی کی اس مسلم نسل سے تعلق رکھتے تھے، جن کی اکثریت اگرچہ نیم خواندہ تھی مگر اپنی بے آمیز فطرت کی بنا پر وہ ایک خدا پر گہرا وجدانی یقین رکھتی تھی جبکہ اسی زمانہ میں ایک قابل لحاظ اقلیت ایسی بھی ابھر رہی تھی، جو خود کو “جدید تعلیم” اور “جدید فلسفہ” اور “ترقی پسند رجحانات” کی علمبردار سمجھتی تھی اور ان کی اس مستعار لی ہوئی”جدیدیت” یا ترقی پسندی کا واحد کارنامہ یہ تھا کہ خدا کے وجود کا انکار کرے اور مذہب کو افیون اور دقیانوسیت قرار دے۔ 

رسل اور اس جیسے ملحدین کے پاس انکار خدا کی آخری دلیل یہ ہے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا، تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا، جس کا، ان کے بقول، کوئی عقلی یا منطقی جواب نہیں۔ بنا بریں، ان کی نظر میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ” خدا نہیں ہے”۔ مگر یہ موقف بذات خود حد درجہ غیر منطقی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ اصل سوال “کائنات کو کس نے پیدا کیا”، اپنی جگہ بدستور قائم رہتا ہے، جس کا ان کے پاس کوئی عقلی یا علمی جواب نہیں۔ ایسی حالت میں خدا کے خالق کائنات ہونے کے مذہبی تصور کا انکار گویا یہ دعوی کرنا ہے کہ کائنات اپنی خالق آپ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خدا کو خالق ماننے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ غیر منطقی اور خلاف عقل بات ہے۔ 

مزید گہرائی سے دیکھئے تو انکار خدا کا سبب کوئی عقلی دلیل نہیں، بلکہ ایک قسم کا عقلی غرور اور گھمنڈ ہے۔ کائنات کی با معنی توجیہ ایک خالق کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے باوجود جو خالق کا انکار کرے وہ در حقیقت ایک نفسیاتی فریب کا شکار ہے اور گویا اس بات کا مدعی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو خدا کا ہمسر خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں منکرین خدا کو متکبر کہا گیا ہے۔ چونکہ اپنے ملحدانہ موقف کے ذریعہ وہ دنیا میں یہ اعلان کرتے تھے کہ انہیں خدا کی ضرورت نہیں۔ وہ اور ساری کائنات خدا سے “بے نیاز” ہے۔ خدا کو ماننا کمزور، سادہ لوح اور بزدل لوگوں کا کام ہے، اس لئےقرآن میں ان کے جواب میں عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ ان کے آخری حسرتناک انجام کی جا بجا تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ تصویر بذات خود ایک نفسیاتی دلیل ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگوں کا انکار خدا در اصل محض ان کی انانیت اور خود پسندی اور اپنے محدود علم پر لا محدود فخر و ناز کا نتیجہ تھا نہ کسی سنجیدہ علمی غور و فکر کا نتیجہ۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کو ماننا عقلی طور اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ممکن تھا جتنا کہ اس کو نہ ماننا۔ مگر خدا کو ماننے کی صورت میں اپنے کو خدا کے مقابلہ میں چہوٹا بنانا پڑتا، اس لئے ان کا متکبرانہ مزاج، نہ کہ کوئی حقیقی عقلی دلیل، ان کے لئے ایک خدا پر ایمان لانے میں رکاوٹ بن گئی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں خدائے وحدہ لا شریک کو دیکھے بغیر ماننا، نہ صرف عقلی طور پر سب سے زیادہ ممکن بات ہے، بلکہ وہی سب سے زیادہ اہم چیز ہے جو انسان سے اس دنیا میں مطلوب ہے ۔خدا کا انکار یا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا، حقیقتاً خود اپنے آپ کو خدا کے برابر یا خدا سے بھی بڑا سمجھنا ہے ، اسی لئے کفر اور شرک کرنے والے، اپنے آخری نفسیاتی تجزیہ میں ، خود پسندی اور تکبر کے مجرم ثابت ہوتے ہیں نہ کہ عقلیت پسند یا سچائی کے سنجیدہ متلاشی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا جرم خدا کے یہاں نا قابل معافی ہے۔

“خدا کو کس نے پیدا کیا؟”، یہ کوئی ایسا عقلی اعتراض نہیں ہے جس کو رسل یا ڈاوکنس وغیرہ نام نہاد عقلیت پسند ملحدین نے تاریخ میں پہلی بار اٹھایا ہو۔ یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان اور اس کی عقلی تگ و دو کی تاریخ۔ غالباً روایتی فلسفہ کی کوئی کتاب اس کے ذکر سے خالی نہیں۔ اس طرح آج کے منکرین خدا کے پاس جو عقلی سرمایہ ہے وہ ان کی”جدیدیت” سے زیادہ ان کی “دقیانوسیت” کا ثبوت ہے۔   

صحیح مسلم کی ایک روایت (134) میں مذكوره سوال کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” شیطان تم میں سے کسی کے پاس آکر کہے گا، مخلوقات کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہے گا اللہ۔ پھر شیطان کہے گا: اس خالق یا اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ سو تم میں جو کوئی اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہو، وہ کہے کہ “آمنت بالللہ” یعنی میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں”۔ 

الطبرانی اور البیہقی کی ایک روایت کے مطابق آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم اللہ کی مخلوقات اور نشانیوں میں غور و فکر کرو، اس کی ذات میں نہیں ورنہ تم ھلاک ہو جاؤ گے۔

پیغمبر اسلام کی یہ ہدایت محض ایک واعظانہ تلقین نہیں، بلکہ وہ مذکورہ قسم کے ملحدانہ سوال کا آخری معقول ترین جواب ہے۔ ” میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں” کہنا در اصل انسانی عقل کی آخری حد کو شعوری طور پر دریافت کرنے کا نام ہے۔ اسی حد کے اندر رہتے ہوئےانسان زندگی اور کائنات کی حقیقتوں کا گہرا ادراک کر کے ایک با معنی زندگی گزار سکتا ہے۔ جو عقل کی اس محدودیت کو تسلیم نہ کرے، اس کا کیس عقلیت پسندی کا نہیں، بلکہ غیر عاقلانہ گھمنڈ اور خود پسندی کا کیس ہے۔ اس کا انجام اس دنیا میں مسلسل حیرانی اور آخرت میں ابدی حسرت اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں۔

Advertisements

Hikmah/ Wisdom

Once I participated in a group discussion in my school on: ‘What is Wisdom and How to acquire it’. It was attended by a number of experienced educationists and highly qualified Islamic and secular scholars. Towards the end of the discussion, there was almost a unanimous agreement on that Hikmah or Wisdom consists in whatever the Prophets in general and Prophet Muhammad (PBUT) in particular ‘said’ or ‘did’ and subsequently the more we reflect on it the more treasure of wisdom we explore. 
In my concluding remarks as the host I disagreed and opined that actually the most significant and invaluable pearls of Hikmah or ‘prophetic wisdom’ are disguised in what the Prophet ‘Did NOT do or did NOT say’ in a given situation when someone would have otherwise ‘said or did’ something! And the more we reflect on this aspect of Prophet’s ideal life and ask ‘Why’ the wiser we become. 

For example, Quran permits to take ‘revenge’ against anyone who harms you in equal measure. But the Prophet never retaliated to any verbal and non verbal abuse he had been so frequently subjected to both in Makkah and Madinah. Ask why and you will discover a well of wisdom. 

The hypocrites in Madinah insulted him including his family and Companions on many occasions but he did NOT take any disciplinary action. Ask why and you will explore yet another treasure of wisdom. 

In fact, unless we thoroughly understand what the Prophet did NOT do or say in a given set of circumstances and reflect on Why, we won’t be ever able to appropriately and consistently follow him in what he did or said. Hence, I so often insist on knowing what ‘NOT to be done’ in order to be able to ‘do what ought to be done.’ The more insightful you are in consciously realizing this difference, the wiser you grow.

Redefining Hijrah

This is a portion of my diary:

Wednesday,

1st Muharram 1405-26 Sep. 1984

Nomaniya Hostel-Nadwah-Lucknow

(Originally penned in Urdu)

Shared with a hope that it may motivate EBUC® group members to redefine Hijrah for themselves and strive to make the new Hijri Year 1437 the best ‘Islamic Year’ of their own life by Almighty’s Grace.

-————–——

“Just came back from Pata Nala after attending the inaugural ‘Jalsah’ organized by ‘Anjuman-e-Tahaffuz-e-Namus-e-Sahabah’. My senior roommate informed that he never miss a single day this 10 day series of Jalsahs which is annually conducted to “defend” Sahabas’ dignity particularly the first Two Righteous Caliphs against Shi’ahs’ ‘Tabarra’ and other allegedly ‘malpractices’ they do in Imam Barah area during the first 10 days of Muharram….Speeches as usual were fiery and inviting the audience to being ever ready to die for ‘protection of Sahaba’s’ honor and dignity’. This is first time I realized why so often we hear about clashes between the two Muslim sects in Lucknow that sometimes even requires police intervention.

Regardless of this sad aspect, my mind since dawn of the 1st Muharram was focused on exploring some meaningful relevance of Hijrah to me and other Muslims today. 

First Muharram as a begging of New Islamic year is basically related to commemorate an epoch making event of Islamic and human history and that should be the focal point of reflection on this occasion instead of any other event. And that is Prophet’s migration from Makkah to Madinah which has also been highlighted in the Quran. 

Prophet’s Hijrah was both a geographical shift as well as a Strategic Action Plan to march forward with the Islamic mission. Each and every step of this plan was well thought of and divinely guided. Hence, it must have an everlasting relevance to all Muslim generations to come thereafter. 

Hijrah, in the sense of ‘geographical shift was obligatory for all contemporary Muslims till Conquest of Makkah but after that Prophet himself stopped this process as he declared ” لا هجرة بعد الفتح” that is ‘there no more migration from Makkah or elsewhere to Madinah’.  

However, Hijrah in the sense of a ‘strategy’ for intellectual, moral and social transformation at individual as well as community levels is a continuing process. This aspect has been defined by the Prophet as:

 ‘المهاجر من هجر ما نهى الله عنه’

‘The true Muhajir/migrant is one who quits whatever is forbidden by Allah.’

In application this broader and perpetual aspect of Hijrah would mean a range of different things for individuals, families and groups they should ‘quit’ in order to do what they have got to do as Muslims and subsequently get closer to Allah. This act of consciously ‘quitting’ what ought not to be done for the sake of doing what ought to be done will be counted as their Hijrah.

Thus, every Muslim individual or group willing to initiate self-renewal or self-transformation has to ‘re-define’ Hijrah within one’s own situational context. One has to simply ask oneself: Am I living here and now up to the Islamic standards and values? If not, then what is there within me or my surroundings that I am preoccupied with instead? As soon as one honestly finds the answer to this question, one’s intellectual, moral and social Hijrah begins instantly. 

For some it would mean to quit some useless or rather harmful habits such as: laziness, procrastination, late sleeping and late rising, smoking, over spending on food, cloths and luxuries. For others it would require to repent/Tawbah from sinful tendencies and behavior. While still others find their Hijrah in saying goodby to some ‘friends’ or seemingly innocent hobbies or parties or family -get-togethers to minimize distraction and maximize concentration on the things that matter the most. And so on.

-—————

EBUC- Introduction

السلام  علیکم،

بلاگ کا تعارف

بلاگ کا نام EBUC در اصل شارٹ فارم ہے، جس کا فل فارم حسب ذیل ہے:

 Expected Behaviour Under Unexpected Circumstances = "متوقع کردار ، غیر متوقع حالات میں"-

 یہ ڀوزیٹیو تھنکنگ سے آگے کا مرحلہ ہے جسے ميں اٻنے تمام تعليمی اور دعوتی مطالعات ،تجربات اور غور و فکرکا خلاصہ سمجھتا ہوں- معياری تعلیم وتر بیت ، دعوتی جد و جہد اور روحانی تزکیہ کا مقصد میری نظر میں ایسے انسان وجود میں لانا ہے جو نہ صرف "متوقع حالات" میں بلکہ انتہائی "غیر متوقع حالات" میں بھی اس معیاری کردار کا ثبوت دے سکیں جو ان سے بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان "متوقع" ہے- اس اصول کو میں وہ ربانی کسوٹی سمجھتا ھوں چس کی بنیاد ٻر خدا اس دنیا کے مختلف احوال و ظروف کے درمیان اٻنے ان مخلص بندوں کا انتخاب کرتا ہے جو جنت کی شہریت کے قابل ہوں – ٻیغمبرانہ اسوہ کی اگر کوئی عملی اور قابل عمل تعریف کرنی ہو تو شاید مختصر لفظوں میں يہی ہو گی: متوقع کردار، غیر متوقع حالات میں-

اس بلاگ کے ذریعہ اسی فلسفہ حیات کے مختلف نظری اور عملی پہلوؤں پر اپنے افکار و تجربات اور مطالعے کا حاصل ناظرین کے ساتھ تبادلہ خیالات اور ارادہ و استفادہ کی غرض سے پیش کرنا مقصود ہے۔ حسب موقع و ضرورت میں کبھی اردو ، کبھی انگریزی اور کبھی عربی زبان کو اظہار خیال کا ذریعہ بناؤں گا-