رمضان ڈائری 2017

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

سنیچر، 27 مئی مطابق یکم رمضان، 2017

تمام گروپ ممبران کو رمضان کی خصوصی مبارکباد۔

متعدد احباب کی گزارش پر، سال گزشتہ کی طرح، اس سال بھی “رمضان ڈائری” لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے اللہ کی توفیق سے یہ کوشش مکمل اور مفید ہو گی۔

رمضان کے روزے نیز، دیگر اسلامی عبادات اور جملہ شرعی احکام کا مقصد صرف ایک ہے: ہر انسان کے فکر و شعور اور کردار و عمل کو رباني سانچہ میں ڈھالنا، جیسا کہ سورہ آل عمران، آیت 79 میں کہا گیا ہے:”کونوا ربانیین”= رب والے بن جاؤ، یعنی “خود پرستی” کی بجائے “خدا پرستی” کو اپنی اصل شناخت اور اپنی زندگی کا دائمی مرکز و محور بناؤ۔

“ربانی انسان” بننے کا نقطۂ آغاز (starting point) سچی توبہ (توبۂ نصوح، سورہ التحریم، آیت 8) ہے۔ بلکہ میں اسے کسی بھی عبادت یا نیک کام کی افادیت اور قبولیت کے لئے شرطِ لازم سمجھتا ہوں۔ کمپیوٹر کی زبان میں توبہ ایک قسم کا “اینٹی وائرس” میکانزم ہے جو آپ کی ایمانی، اخلاقی اور روحانی سلامتی و ترقی کو نقصان پہنچانے والے تمام داخلی اور خارجی عناصر کا مقابلہ کرتا ہے اور آپ کو مسلسل صراط مستقیم پر جمے رہنے میں مدد دیتا ہے۔

لہذا تمام ممبران سے میری اولین اور اہم ترین گزارش یہ ہے کہ وہ ماہِ رمضان بلکہ اس کی ہر صبح و شام کا استقبال سچی شعوری توبہ سے کریں، نیز اپنے اہل و عیال اور احباب کو بھی اسی کی تلقین کریں، قرآن کی رو سے اہلِ ایمان کو فلاح و کامیابی، توبہ ہی کے راستے مل سکتی ہے: “۔۔۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ” (سورہ النور، آیت ۳۱) “۔۔۔اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ”

توبہ کے مختلف پہلوؤں پر گزشتہ سال کی ڈائری میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اسے مندرجہ ذیل بلاگ میں دیکھا جا سکتا ہے:

‏EBUC®https://asalnadwiebuc.wordpress.com/

اسی طرح توبہ کے موضوع پر ایک مفصل بیان (اگست 2015) اس لِنک میں موجود ہے:

‏https://youtu.be/XNkXkTi5JCk

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 28 مئی مطابق 2 رمضان، 2017

روزہ اور “وقت شناسی”(۲/۱)

تمام اسلامی عبادتوں کا “وقت کی تنظیم” یعنی اس کے سنجیدہ اور با مقصد استعمال سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ان عبادتوں کو شعوری طور پر ادا کرنے کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ ایمان “وقت” کے معاملہ میں انتہائی حساس ہو جاتا ہے۔ وہ لغو تفریحات اور بے فائدہ کاموں میں وقت کے ضیاع کو خود کشی کے مترادف سمجھتا ہے۔ ابتدائی دور کے مسلمانوں نے فلکیات اور دیگر علومِ طبعی میں جو پیش رفت اور ترقی حاصل کی، میں سمجھتا ہوں اس کا ایک بنیادی محرک، وقت کی نسبت سے ان کا وہ ذمہ دارانہ ذہنی رجحان اور منصوبہ بند عملی رویہ تھا، جو اسلامی عبادات کی شعوری ادائیگی سے پیدا ہوتا ہے۔

مثلا روزانہ کی پانچ فرض نمازوں کے مقررہ اوقات، ہمارے نظامِ شمسی کے پانچ حیرت ناک انقلابی مراحل سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح زکوۃ کے حساب کتاب اور حج کے مخصوص دنوں کا تعین کرنے کے لئے سال بھر چاند کی گردش پر نظر اوراس پر منحصر قمری مہینوں کا شمار رکھنا ضروری ہے۔ جبکہ رمضان کے مہینے میں روزہ کے آغاز اور خاتمہ کے وقت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنا آخری حد تک نازک بن جاتا ہے۔ وہ ایک اعتبار سے گویا “زندگی اور موت” کا فیصلہ کرنے کے ہم معنی ہو جاتا ہے۔ عبادات کی یہ ترتیب بے حد حکیمانہ ہے، ان پر غور کرنے سے بیک وقت ربانی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، اور کائنات اور زندگی کے گہرے اسرار کا سُراغ ملتا ہے۔

ترقی یافتہ سائنسی اور صنعتی وسائل (گھڑی، کیلنڈر، سیٹلائٹ وغیرہ) نے “وقت کی پیمائش” کو بہت آسان بنا دیا ہے جن کے ذریعہ ہم روزہ اور دیگر عبادتوں کے مقررہ اوقات اور ایام کا پیشگی تعین کر لیتے ہیں۔ تاہم یہ “وقت پیمائی” وہ چیز نہیں جسے میں “وقت شناسی” کہتا ہوں، جو میری نظر میں انسانی شعور کی پختگی کی اہم ترین علامت ہے اور جس کے بغیر انسان نہ خالق کی سچی معرفت حاصل کر سکتا ہے، نہ ہی مخلوق کی سچی خدمت کے قابل بن سکتا۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

پیر، 29 مئی مطابق 3 رمضان، 2017

روزہ اور “وقت شناسی”(۲/۲)

“وقت شناسی” محض یہ جاننے کا نام نہیں کہ اس وقت دن یا رات کے کیا بجے ہیں، یا آج ھجری یا عیسوی کیلنڈر کی کون سی تاریخ ہے یا یہ تاریخ پچھلے سال کس دن تھی یا اگلے سال وہ کس دن پڑے گی، وغیرہ۔ اس قسم کی معلومات آج کے دور میں انسان سے زیادہ سرعت اور قطعیت کے ساتھ کمپیوٹر اور دوسرے مشینی آلات فراہم کر سکتے ہیں۔

بحیثیت انسان، اور بالخصوص بحیثیت ایک صاحبِ ایمان کے آپ سے جو “وقت شناسی=time-consciousness” مطلوب ہے وہ اس حقیقت کا شعوری ادراک کرنا ہے کہ جس طرح ہر “کام” کا ایک “مقرر وقت” ہوتا ہے، اسی طرح ہر “وقت” کا ایک “مقرر کام” ہے۔ بنا بریں، آپ کی ذمہ داری صرف یہی نہیں کہ آپ ہر “کام” کو اس کے مقرر وقت پر انجام دیں؛ بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی جانیں کہ ہر وقت؛ کسی بھی گزرتے ہوئے وقت کا “مقرر کام” کیا ہو سکتا ہے جسے حسبِ استطاعت آپ کو انجام دینا ہے۔ کیونکہ آپ کی دنیوی کامیابی اور اخروی نجات و سعادت کا دار و مدار انہیں دو طرفہ تقاضوں کی معیاری یا کم از کم ممکنہ تکمیل پر ہے۔

میرے علم میں “وقت شناسی” کے اس عارفانہ تصور کی واحد بہترین تعریف حضرت ابو بکر الصدیق (رض) کی وہ وصیت ہے جو انہوں نے اپنی موت کے وقت حضرت عمر (رض) کو ان الفاظ میں کی تھی:”اللہ کا ایک حق رات میں مطلوب ہے جو دن میں کیا جائے تو اسے قبول نہیں ہو گا اور اس کا ایک حق دن کے وقت مطلوب ہے جس کی ادائیگی کو وہ رات میں قبول نہیں کرے گا۔ نیز اللہ کوئی نفل عبادت قبول نہیں کرتا جب تک فرض ادا نہ ہو جائے۔۔۔۔جو شخص رمضان کِے مہینے میں روزہ نہ رکھے اور بقیہ تمام مہینوں میں تا عمر روزہ دار بنا رہے تو اس کی یہ روزہ داری قابلِ قبول نہ ہوگی”۔(العقد الفرید، کنز العمال)

رمضان کے روزہ کی فرضیت کا مقصد اہلِ ایمان کے اندر “تقوی” یعنی خدا شناسی اور خدا ترسی کی زندہ اسپرٹ پیدا کرنا ہے ( البقرۃ، آیت 183)۔ یہ “تقوی اسپرٹ” جب انسان کے ذہن و شعور اور مزاج میں سما جاتی ہے تو اس کا عملی اظہار سب سے زیادہ اسی کیفیت میں ہوتا ہے جسے میں نے عارفانہ “وقت شناسی” کا نام دیا ہے اور انبیاء و رسل کے بعد اس کا مثالی نمونہ حضرت ابو بکر الصدیق (رض) کے کردار میں ملتا ہے۔ ماہِ رمضان کا مخصوص نظام الاوقات “وقت شناسی” کے اس مزاج کو پروان چڑھانے کے لئے بہترین تربیتی کورس ہے بشرطیکہ اس کے ہر تقاضے کو نہایت ہوش مندی کے ساتھ پورا کیا جائے۔

روزے سے تقوی اسپرٹ اور تقوی اسپرٹ سے “وقت شناسی” کا یہ ذہنی رجحان اور عملی مزاج جس فرد یا خاندان یا قوم میں پیدا ہو جائے، اس کی زندگی حسنِ عمل اور کسبِ کمال کے لئے ایک سراپا اضطراب اور تگ و دو بن جاتی ہے۔ بظاہر سب کچھ کر کے بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا انہوں نے کچھ نہیں کیا، یا شاید جو کچھ کیا وہ سب وقت کے “نوافل” تھے، اور جو وقت کے اصل “فرائض” تھے انھیں وہ بر وقت اور کما حقہ انجام نہ دے سکے۔ یہ احساس ایک وقت شناس مومن کو ڈر اور امید کے درمیان مسلسل توبہ و استغفار میں غرق رکھتا ہے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

منگل، 30 مئی مطابق 4 رمضان، 2017

روزہ: برتر اسلامی کردار کی شناخت

روزہ کے تعلق سے ایک مشہور روایت صحیح البخاری وغیرہ میں اس طرح آئی ہے:

“روزہ ایک ڈھال ہے، لہذا روزہ دار نہ تو بیہودہ ہنسی مذاق کرے، نہ کسی قسم کی بد سلوکی کرے اور اگر کوئی شخص اس سے جھگڑنے لگے یا اس کے ساتھ گالی گلوچ کرے تو وہ کہے کہ:’میں ایک روزہ دار ہوں'”۔

ظاہر ہے، اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر آپ روزہ سے نہ ہوں تو پھر دوسروں کے ساتھ بیہودہ مذاق یا بد سلوکی اور لڑائی جھگڑا کرنے کے لئے آپ بالکل آزاد ہیں۔

اسلامی معیارِ اخلاق کی رو سے قول و فعل کی ہر برائی ہر حالت میں نا جائز ہے، حتی کہ ایک سچے مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ برائی کے ردِ عمل میں بھی بھلائی کرے یا کم از کم اسی درجہ کی جوابی برائی نہ کرے جو انتقامی کار روائی کے طور پر ایک حد تک جائز بھی ہے (سورہ النحل، آیت 126)

برائی سے ہمیشہ بچنا اور بھلائی پر ہر حال میں جمے رہنا_ یہ وہ برتر اخلاقی صفت ہے جو، قرآن و حدیث کی رو سے، ایک مومن اور غیر مومن کے درمیان فرق کرتی ہے(سورہ الجاثیہ، آیت، 14)۔

در حقیقت روزہ سمیت تمام اسلامی عبادتوں کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ مومنانہ کردار کے اس امتیازی وصف کو زیادہ سے زیادہ پختہ اور پائیدار بنایا جائے۔ مثلاً قرآن میں حج کے احکام بتاتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے:” ۔۔۔جو حج کا ارادہ کر لے تو پھر وہ بے جا ہنسی مذاق، بد کلامی اور بحٹ و تکرار سے بچے” (سورہ البقرة آیت 197)۔ نماز کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ فحشاء اور منکر ( ہر قسم کی بے حیائی اور بد اخلاقی) سے روکتی ہے (سورہ العنکبوت آیت 45) اسی طرح صدقہ و خیرات کرتے ہوئے اہل ایمان کے دلوں پر اپنی سخاوت کا فخر و ناز نہیں بلکہ خدا کے سامنے حاضری کا ڈر چھایا رہتا ہے۔ (سورہ المومنون، آیت 60)

اس برتر اخلاقی اصول کو غیر مشروط طور پر عملاً وہی شخص اپنا سکتا ہے جس کے اندر مکمل ضبطِ نفس (total self-control) کی صلاحیت ہو اور یہ صلاحیت، حقیقی معنوں میں، صرف خدا پر زندہ ایمان اور اس کے سامنے جوابدہی کے شعوری استحضار سے پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے روزہ، دیگر عبادتوں کے مقابلہ میں، سب سے زیادہ نمایاں طور پر مکمل ضبط نفس کی تربیت دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے خارجی اور داخلی ہر پہلو سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آپ خدا پر اپنے ایمان کو مسلسل زندہ رکھیں اور اس حقیقت سے کبھی غافل نہ ہوں کہ آپ بالآخر رب العالمین کے آگے جوابدہ (accountable) ہیں، جس کے پاس آپ کے ذہنی ارادوں اور پوشیدہ جذبات و خیالات سے لے کر چھوٹے بڑے تمام عملی حرکات و سکنات تک کا بے کم و کاست ریکارڈ موجود ہے۔

اس بنا پر یہ کہنا بجا ہو گا کہ روزہ برتر اسلامی کردار کی شناخت ہے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

بدھ، 31 مئی مطابق 5 رمضان، 2017

روزہ: “حساسيت کے توازن ” کی بحالی کا ذریعہ(۲/۱)

انسان کی کامیابی اور نا کامیابی، خوشحالی اور بد حالی دونوں کا بہت گہرا تعلق اس کی “حساسیت” (sensitivity) اور اس کی بے حسی (insensitivity) سے ہے۔ اگر آپ وہاں بیش حساس (over-sensitive) بن جائیں، جہاں آپ کو بے حس یا کم حساس (less-sensitive or insensitive) ہونا چاہئے؛ یا آپ ایسے معاملہ میں بے حسی برتیں، جس میں آپ کو بیش حساسیت سے کام لینا چاہئے، تو بالآخر آپ کی زندگی مختلف پہلوؤں سے ناکامی و نا مرادی اور بد حالی کی ایک عبرتناک داستان اور درد ناک تصویر بن کر رہ جائے گی۔

اس درد ناک انجام سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان شعوری طور پر اپنی حساسیت کے توازن کو بحال کرنے اور بحال رکھنے (restoration cum maintenance of sensitivity equilibrium) کی سنجیدہ کوشش کرے۔ رمضان کا روزہ اپنی ظاہری شکل اور اندرونی اسپرٹ دونوں اعتبار سے انسان کی حساسیت کے بگڑے ہوئے توازن کی بحالی اور بر قرآری کا موثر ترین ذریعہ ہے۔

جب ایک شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ، صرف اپنے خالق اور رازق کے حکم کی مخلصانہ اطاعت کے لئے ایک طرف کھانا پینا اور دیگر ممنوعہ چیزوں کو ایک خاص مدت تک چھوڑ دیتا ہے، دوسری طرف اس دوران وہ اپنی زبان، اپنے منفی خیالات، اپنے شہوانی جذبات اور جسمانی حرکات و سکنات پر بالارادہ کنٹرول رکھتا ہے اور تیسری طرف وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت خدا کی عبادت، کلامِ خداوندی کی تلاوت وسماعت اور خدا کے محتاج بندوں کی غمگساری اور اعانت میں گزارتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی سوچ میں گہری انقلابی تبدیلی پیدا ہو، اس کی زندگی کی ترجیحات اور اس کا معیارِ قدر بدل جائے، وہ حیات اور کائنات کی ربانی اسکیم کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے لگے اور اپنے فکر و عمل کو اس سے مکمل اور غیر مشروط طور پر ہم آہنگ کر لے۔

جو انسان اس طرح اپنے خالق و مالک کی کائناتی اسکیم سے ہم آہنگ ہو جائے وہ یقیناً حساسیت کے عدم توازن (imbalance of sensitivity) اور اس کے مہلک نتائج سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا اور وہ فلاح و سعادت کی صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی سے چلتا رہے گا۔(باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعرات، یکم جون مطابق 6 رمضان، 2017

روزہ: “حساسيت کے توازن ” کی بحالی کا ذریعہ(۲/۲)

اکثر انسان اپنی عادات اور معمولات اور خاندانی وسماجی رسوم و روایات کے خول میں بند ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ خول ان کے لئے ایک قسم کا “خطۂِ راحت = comfort zone” بن جاتا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک عادتوں اور روایتوں کے اس مانوس خول میں رہتے رہتے بیشتر انسان اسی کو صحیح اور غلط کا پیمانہ اور رد و قبول کا معیار بنا لیتے ہیں۔ یعنی جس چیز کے وہ عادی ہیں وہ زندگی کی اولین ترجیح (top priority of life) کا درجہ رکھتی ہے اور ان کے گھر اور معاشرے کی روزمرہ سرگرمیاں جس طریقے اور جس رخ پر چل رہی ہیں وہ بالکل درست ہیں، ان پر نظرِ ثانی کی مطلق ضرورت نہیں۔ اس رجحان کے نتیجہ میں ان کا توازنِ حساسیت (sensitivity equilibrium) بگڑ جاتا ہے۔ وہ ایک فرسودہ روایت یا غلط عادت کو درست مان کر اس کے بارے میں بیش حساس (hyper-sensitive) بن جاتے ہیں اور اس کی پُر جوش حمایت کرتے ہیں مگر اس کے بالمقابل ایک واقعی درست بات کو بے حسی کے ساتھ نظر انداز کر دیتے ہیں خواہ اس کے حق میں کتنے ہی ٹھوس عقلی و نقلی دلائل کا انبار لگا دیا جائے۔ اس طرح وہ آہستہ آہستہ قبولِ حق اور اصلاح پذیری کی استعداد کھو دیتے ہیں۔

رمضان کا روزہ اپنے مخصوص نظام الاوقات اور دیگر عملی پابندیوں کی بنا پر گویا ایک حفاظتی ڈھال ہے جو اہلِ ایمان کو حساسیت کے عدمِ توازن کی اس تباہ کن بیماری سے بچاتا ہے۔ہر سال پورے ایک مہینے کے لئے وہ انھیں عادتوں اور روایتوں کے مانوس مگر مہلک خطۂ راحت سے باہر نکال کر ایک غیر معمولی روحانی سرگرمی میں مشغول رکھتا ہے۔ اس دوران خاص طور پر قرآن سے ان کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے، جو انسانیت کی ہدایت کے لئے روشن دلائل پر مبنی صحیح اور غلط کا ابدی معیار (الفرقان) بنا کر اسی مہینے میں اتارا گیا۔ جس کو پڑھنے، سننے اور سمجھنے کی سنجیدہ کوشش اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ ایک مومن فرد یا گروہ کبھی راہِ راست سے بھٹکنے نہ پائے۔ وہ “نعمتوں” سے زیادہ “مُنعِم” کا ذاکر و شاکر بنے، وہ مخلوقات کے آئینے میں خالق کے جلال و کمال کی تجلیاں دیکھے، وہ اپنے حق سے زیادہ اپنی ذمہ داری پر نظر رکھے اور دنیا کی ظاہری اور وقتی رونقوں سے زیادہ وہ آخرت کی لا فانی مسرتوں کا طلبگار بنے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعه، 2 جون مطابق 7 رمضان، 2017

ايمان آور احتساب

رمضان کے صیام (روزے) اور قیام (تراویح، تہجد وغیرہ) کے سلسلے میں مشہور حدیث ہے کہ جو شخص ان کو “ایمان” اور “احتساب” کے ساتھ ادا کرے گا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔ یہی الفاظ لیلۃ القدر کی عبادت کے ذیل میں بھی آئے ہیں۔ گویا ماہِ رمضان وہ سنہری موقع (Golden opportunity) ہے جبکہ آپ اپنی سابقہ لغزشوں، خطاؤوں اور کوتاہیوں کے منفی اور مضر اثرات سے پاک صاف ہو کر ایک نئی بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں، ایسی زندگی جو قرآنی ہدایت کے روشن نشانات اور حق و باطل کے ابدی معیار (الفرقان) پر قائم ہو، جس کا مقصد خدا کی بڑائی اور شکر گزاری کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کرنا اور خلقِ خدا کو اس کے قریب لانا ہو۔

تاہم حدیث کے مطابق اس سنہری موقعے سے فائدہ اٹھانے کا دار و مدار “ایمان اور احتساب” پر ہے۔ اس لئے گہرائی سے ان کا مطلب سمجھنا ضروری ہے۔ معمولی لفظی فرق کے ساتھ تمام شارحینِ حدیث اس پر متفق ہیں کہ یہاں “ایمان” سے مراد اس یقین کو دل و دماغ میں از سرِ نو زندہ اور پختہ کرنا ہے کہ روزہ خدا کی طرف سے فرض ہے جسے پوری مستعدی اور خوشدلی کے ساتھ ایسے ہی ادا کرنا ہے جیسے ایک وفادار غلام اپنے مالک کا حکم بجا لاتا ہے۔ جبکہ “احتساب” سے مراد بیک وقت رمضان کے صیام و قیام پر خدا کے خصوصی اجر و انعام کو پانے کا سنجیدہ شوق و ولولہ اور کسی دانستہ یا نا دانستہ سبب کی بنا پر اس سے محروم ہو جانے کا خوف و اندیشہ ہے۔

یہ “ایمان” اور “احتساب” کا اصطلاحی مفہوم ہوا۔ البتہ ہر لفظ کی طرح ان کا ایک تطبیقی مفہوم (applied implication) ہے اور وہی یہاں مقصود ہے۔ وہ یہ کہ رمضان کے فیوض و برکات سے استفادہ کے لئے اہلِ ایمان کو شعور اور فکر و عمل کی سطح پر ویسے ہی تیار (prepared) اور یکسو (dedicated) ہونا چاہئے؛ جیسے ایک ہوش مند تاجر کسی تجارتی سیزن سے منافع کمانے کے لئے ہوتا ہے۔ وہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ کا پیشگی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیتا ہے اور اسی لحاظ سے ضروری سرمائے اور مطلوب اشیاء کی بر وقت سپلائی کے انتظامات پوری تندہی کے ساتھ کرتا ہے اور بالآخر وہ ایک سیزن میں اتنا منافع کما لیتا ہے کہ پچھلے نقصانات کی بھر پائی کرتے ہوئے آئندہ مزید مستحکم کاروبار کا منصوبہ بھی بنا لے۔ مادی دنیا میں ایک ہوش مند تاجر کا یہ ذہنی رجحان اور عملی رویہ جب رمضان کے صیام و قیام اور دوسرے دینی اور روحانی اعمال کے میدان میں اپنایا جائے تو اسی کا نام ایمان اور احتساب ہے، جن کے بغیر یہ اعمال بے جان اور بے سود؛ جبک ان کی شمولیت سے یہی اعمال رحمت اور مغفرت اور ابدی نجات کے زینے بن جاتے ہیں۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

سنیچر، 3 جون مطابق 8 رمضان، 2017

تلاوت اور تدبرِ قرآن (۲/۱)

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں نزولِ قرآن کا آغاز ہو۔ اس مناسبت سے، ماہِ رمضان میں فطری طور پر قرآن کے پڑھنے اور سننے اور حسبِ امکان اسے سمجھنے کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال اس مہینے میں فرشتۂ وحی جبریل علیہ السلام کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ قرآن کا إعادہ اور مذاکرہ کیا کرتے تھے۔

لغوی اعتبار سے قرآن کے معنی ہی ایسے کلام کے ہیں جس کو بار بار مسلسل پڑھا جائے۔ بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ سنہ 610 عیسوی کے ماہِ رمضان کی جس شب کو غارِ حراء میں آکر خدا کے فرشتے نے رسول اللہ (صلعم) سے کہا کہ: “اقرأ” (پڑھ)، تب سے یہ کلامِ الہی بلا انقطاع (non-stop) کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے کسی نہ کسی خطہ میں پڑھا جارہا ہے۔ سب سے پہلے خود رسول اللہ (صلعم) اسے ہر وقت پڑھتے رہتے، پھر یہی عمل آپ پر ایمان لانے والے کرنے لگے، پھر وہ روزانہ پنج وقتہ نماز کا ایک لازمی حصہ بن گیا اور بتدریج نماز کے اندر اور باہر قرآن کو پڑھنے پڑھانے اور سننے سنانے کا یہ معمول آج ایک ارب سے زیادہ مسلم آبادی میں اس طرح رائج ہے کہ عالمی ٹائم زون کے نقشے پر دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں، جہاں وہ جاری نہ ہو۔(میری ہدایت پر میرے کچھ طلبہ نے 2010 میں اس موضوع پر ایک ریسرچ پروجکٹ تیار کیا تھا، جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں)۔

اس سلسلے میں گزشتہ صدی کے دوران برِ صغیر کی بعض دینی تنظیموں کی طرف سے ایک قابلِ قدر کوشش یہ ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کو “قرآن” کے الفاظ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی سمجھنے اور ان پر تدبر کرنے کی ترغیب دیں۔ اس مقصد کے لئے جگہ جگہ درسِ قرآن یا قرآن فہمی کی کلاسوں کا اجراء کریں، مختلف مقامی اور عالمی زبانوں میں قرآن کے ترجمے اور تفاسیر چھاپ کر مفت یا رعایتی قیمت پر تقسیم کریں۔ آگے چل کر مسلم ممالک خصوصا سعودی عرب کی سربراہی میں مترجَم قرآن کی اشاعت اور تقسیم کا یہ کام عالمی پیمانہ پر پھیل گیا۔ موجودہ صدی میں متنِ قرآن اور اس کے ترجموں کے ڈیجیٹل نسخے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعہ امکانی طور پر اب کرۂ ارض کے ہر باشندے کی دسترس میں ہیں۔ شاید یہ حفاظت ِ قرآن کے خدائی وعدہ (سورہ الحجر، آیت ۹) کی آخری تکمیل ہے۔

اس ضمن میں بعض پُر جوش افراد قرآن کے فہم و تدبر کی اہمیت بتاتے ہوئے اس کی لفظی تلاوت کو بے فائدہ کہہ کر اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ مگر یہ رویہ درست نہیں۔ قرآن کا عربی متن ہی اصل ربانی کلام ہے جو بذریعہ وحی نازل کیا گیا، اور اس کو بعینہ پڑھنا، سننا اور یاد کرنا ایک مستقل نیکی ہے۔ چاہے پڑھنے والا عربی زبان و بیان سے ناواقفیت کی بنا پر اسے روانی سے نہ پڑھ سکے اور نہ ہی اس کے مطالب کو سمجھ پائے۔ اس لفظی تلاوت کا ثواب پانے کی واحد شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا صدقِ دل سے اس کو رب العالمین کا آخری اور لا ریب کلام مانتا ہو۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 4 جون مطابق 9 رمضان، 2017

تلاوت اور تدبرِ قرآن (۲/۲)

متنِ قرآن کی لفظی تلاوت کے باعثِ اجر ہونے کی دلیل کے لئے ابن مسعود (رض) کی وہ حدیث کافی ہے جسے ترمذی نے روایت کیا ہے جس میں صراحةً قرآن کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیوں کے اجر کی بشارت آئی ہے- قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلعم) نے بطورِ مثال تین حرف ( الم ) کا ذکر گیا ہے، جو حروفِ مقطعات میں سے ہیں اور جمہور مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ان سے مراد کیا ہے اس کا قطعی علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ قرآن کی مجرد تلاوت، بشرطِ ایمان، موجبِ اجر ہے، خواہ کسی وجہ سے پڑھنے والا اس کے معانی کو نہ سمجھ سکے۔ حتی کہ اگر ایک صاحبِ ایمان، پوری کوشش کے باوجود، الفاظِ قرآن کو دشواری کے ساتھ اٹک اٹک کر پڑھے، تو بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں اسے دہرے اجر کا مستحق بتایا گیا ہے۔

البتہ قرآن میں تدبر اور دعوت و اصلاح کے لئے اس کی تفہیم ایک مستقل دینی فریضہ ہے۔ تاہم قرآن کا ترجمہ و تفسیر، خواہ وہ کسی زبان میں کیا جائے، وہ متنِ قرآن کا بدل نہیں۔ وہ اس کے معانی کو سمجھنے اور سمجھانے کی انسانی کوشش ہے، وہ درست ہو تب بھی “وحی الہی” کا درجہ ہرگز نہیں رکھتی – اس عمل کو کرنے والا اپنے اجتہاد اور اخلاص کے بقدر یقینا عند اللہ ماجور اور مشکور ہوگا۔

مزید یہ کہ تدبرِ قرآن محض اس کے الفاظ کے مطالب و معانی کو سمجھنے کی خشک عقلی و علمی کاوش کا نام نہیں؛ بلکہ وہ اپنی عقل اور علم اور ارادہ و اختیار کو قرآن کے تابع بنانے کا نام ہے۔ تدبر کا حقیقی مقصد ہے، قرآن میں غور و فکر کر کے اس سے نصیحت لینا (سورة ص، آيت، 29) اور پھر اس کے بہتر پہلو کی عملی پیروی کرنا(سوره الزمر، آيت، 18)۔ ایسا تدبرِ قرآن جس کے نتیجہ میں “تذکر” یعنی نصیحت پذیری اور “اتباع” یعنی اس کی عملی پیروی کا دو گونہ مقصد حاصل نہ ہو، وہ ایک قسم کا ذہنی تعیش (intellectual indulgence) ہے؛اور سخت اندیشہ ہے کہ اس کو کرنے والا عند اللہ عذاب کا مستحق ٹہرایا جائے نہ کہ ثواب کا۔ اسی بنا پر مسلم کی ایک روایت میں یہ تنبیہ ہے کہ قرآن تمہارے حق میں خدا کی حجت ہے یا تمہارے خلاف (القرآن حجة لك أو عليك)۔

آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی تاریخ میں، قرآن کی تلاوت اور حفظ کی روایت جو نزولِ قرآن کے اوّل دن سے قائم ہوئی اور بلا انقطاع جاری رہی؛ ایک انتہائی انوکھا استثناء ہے، جس کے ذریعہ، پرنٹنگ پریس، ٹیپ ریکارڈر اور الیکٹرانک میڈیا کے انقلاب سے پہلے یہ “معجزہ” ممکن ہوا کہ قرآن کے الفاظ کسی بھی قسم کی تبدیلی کے بغیر اپنی اصل شکل میں محفوظ رہیں اور آنے والی عرب اور غیر عرب تمام نسلیں ہر زمانے میں اس کی صوتی قرات ٹھیک اسی طرح کرتی رہیں جس طرح اس کے لانے والے نے خود کر کے بتایا تھا اور بتوفیق الہی، دعوت و اصلاح کی غرض سے اس کو سمجھنے سمجھانے کی ممکنہ کوشش بھی جاری رکھیں۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

پیر، 5 جون مطابق 10 رمضان، 2017

مقبول روزے کی علامت

رمضان کے روزے کی فضیلت میں غالباً سب سے زیادہ مشہور وہ حدیثِ قدسی ہے، جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ انسان کے ہر نیک عمل کا انعام دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے، “۔۔۔سوائے روزے کے، کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا اجر دوں گا؛ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا تک چھوڑ دیتا ہے” (“۰۰۰إِلَّا الصَّوْمَ ، فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي”۔ صحیح مسلم )

اس حدیث کی تشریح میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تاہم آج اس ہر غور کرتے ہوئے ایک بالکل ہی نیا اور لطیف پہلو یہ سامنے آیا کہ اس میں روزے کی فضیلت کے ضمن میں گویا اہلِ ایمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ روزے کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ روزہ کا عمل خود روزہ دار کو ایسا بنا دے ک وہ اپنی اندرونی سوچ اور خارجی سرگرمیوں سمیت حقیقی اور مکمل طور پر سراپا “خدا کے لئے” ہو جائے۔ اور جب کوئی اس طرح سراپا “خدا کے لئے” وقف ہو جائے تو وہ خدا جو أكرم الأكرمين ہے بلاشبہ اس کا اکرام و انعام بھی بذات خود اور بے حساب شکل میں عطا کرے گا۔

یوں تو کوئی بھی نیک عمل جو خالصۃً اللہ کے لئے نہ کیا جائے، وہ اللہ کی نظر میں بے وقعت بلکہ قابلِ مؤاخذہ ہے۔ البتہ روزہ اپنے معمول شکن نظام الاوقات(routine-breaking schedule) اور خلافِ نفس پابندیوں کی وجہ سے استثنائی طور ہر ایک ایسا فریضہ ہے، جسے انجام دینے کے لئے انسان کو خدا کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے پر یقین اور اس کے سامنے جوابدہی کے احساس کو ہر لمحہ اپنے قلب و دماغ میں زندہ اور فعال رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ کوئی بھی شخص صحیح معنوں میں روزہ کا حق ادا نہیں کر سکتا، بلکہ ایک حدیث کے مطابق اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کو رمضان کے صیام و قیام سے سوائے بھوک، پیاس، تکان اور تلخ مزاجی کے اور کچھ نہیں ملتا۔

روزہ، ایک اعتبار سے قرآنی تصورِ حیات: “إنا لله وإنا إليه راجعون”(یعنی ہم اللہ کے لئے ہیں اور بالآخر ہمیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) کی جیتی جاگتی تصویر بن جانے کا نام ہے۔ اس تصور کے زیرِ اثر آپ کے فکر و کردار کے ہر پہلو میں “ربانیت” کی جھلک پیدا ہو گی۔ اور آپ کی زندگی رمضان اور غیر رمضان دونوں میں ایک قسم کی “روزہ دارانہ زندگی” بن جائے گی۔ بالفاظ دیگر روزے کی قبولیت کی پہچان یہ ہے کہ آپ کی زبانِ حال یہ کہنے لگے کہ “خدایا میں اور میرا سب کچھ صرف تیرا اور تیرے لئے ہے”؛ اور اسی کی تصدیق کرتے ہوئے رب العالمین اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ: “روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا انعام دوں گا”

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

منگل، 6 جون مطابق 11 رمضان، 2017

دعاء کی قیمت

“وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ” (البقرة، آيت، 186)

“اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں دریافت کریں تو میں بلا شبہ قریب ہوں؛ دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعاء کرے۔ لہذا ان کو چاہیئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت یاب ہوں” (سوره البقرة، آيت، 186)

یہ آیت رمضان کے روزے سے متعلق آیات کے درمیان آئی ہے۔ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ روزہ کی حالت میں دعاء کی اہمیت اور اس کی قبولیت کا امکان عام دنوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ متعدد احادیث میں بھی اس پر زور دیا گیا ہے۔

تاہم اس آیت میں در اصل یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دعاء جہاں ایک مومن کے لئے خدا سے ہمکلام ہونے اور اس سے اپنی حاجت روائی کی درخواست کا ذریعہ ہے؛ وہیں وہ خدا کے ساتھ ایک قسم کا عہد (pledge) ہے جو گویا دعاء کو حقیقی معنوں میں مقبول بنانے کی قیمت ہے۔ وہ عہد ہے: خدا کی مخلصانہ اطاعت کا اور اس پر اپنے ایمان و یقین کو زندہ اور پختہ کرنے کا۔ اسی عہد کی شعوری پابندی کے ذریعہ اہلِ ایمان کو “رُشد و ہدایت” کی توفیق ملتی ہے یعنی ان پر ہر قسم کی فلاح و سعادت کے دروازے کھلتے ہیں۔

اگر دعاء کے ساتھ آپ کے اندر ایمان اور اطاعت کے اس عہد کی تجدید کا گہرا شعور بیدار نہ ہو، تو عین ممکن ہے اس کے باوجود خدا اپنی بے نیازی اور سخاوت سے آپ کو وہ چیز دے دے جو آپ نے طلب کی مگر اندیشہ ہے کہ وہ چیز انجامِ کار آپ کے لئے “رُشد و ہدایت” کا باعث نہ ہو، بلکہ خدا سے “غفلت” اور اس کی “معصیت” کا سبب بن جائے۔ گویا خدا سے مانگتے ہوئے آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ آپ کو اسے کچھ “دینا” بھی ہےاور وہ ہے ایمان اور اطاعت کا سچا عہد و پیمان۔ آپ کی “مانگ” اسی وقت آپ کے حق میں با برکت اور موجبِ سعادت بنے گی جب آپ اس کی مطلوبہ قیمت چکانے کے لئے صدقِ دل سے تیار ہوں۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

بدھ، 7 جون مطابق 12 رمضان، 2017

روزہ: قرآنی زندگی کی تمہید

سورہ البقرة، آیت 183 میں رمضان کے روزے کی فرضیت کا مقصد اللہ تعالی نے یہ قرار دیا ہے کہ اس کے ذریعہ اہلِ ایمان کے اندر تقوی (خدا شناسی اور خدا ترسی) کی صفت پیدا ہو۔ پھر اس کی اگلی آیت کے بعد (البقرة، 185) میں بتایا گیا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اور ہدایت کے روشن دلائل اور حق و باطل کا فیصلہ کُن معیار فراہم کرنے کے لئے۔

دوسری طرف قرآن کے بالکل شروع (سورہ البقرة، آیت 2) میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اس کتابِ لا ریب سے عملاً وہی لوگ ہدایت اور رہنمائی لے سکتے ہیں جن میں تقوی کا جوہر موجود ہو (ھُدیً للمتقین)۔

مذکورہ تینوں آیات کا مجموعی خلاصہ یہ ہو گا کہ روزہ بیک وقت ایک مستقل عبادت بھی ہے اور قرآنی زندگی کی تمہید بھی – روزہ کو کما حقہ ادا کرنے سے ایک طرف تقوی اسپرٹ پیدا ہو گی اور پھر یہی تقوی اسپرٹ وہ قوتِ محرکہ (driving force) ہے جو ایک صاحبِ ایمان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ قرآنی ہدایات کے مطابق اپنی شخصیت کی ربانی تشکیل اور اپنی زندگی کو قرآن کی عملی تصویر بنا سکے تاکہ آخرت میں خدا کی ابدی جنت کا مستحق قرار پائے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعرات، 8 جون مطابق 13 رمضان، 2017

صبر کا مہینہ

رمضان کو ایک حدیث میں “شھر الصبر” یعنی صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ صبر کی تمام قسموں کا جامع ہے۔ چنانچہ یہ پورا مہینہ، صبر کا مہینہ قرار پایا۔

علماء نے صبر کی مختلف تعریفیں اور اقسام بیان کی ہیں جن کا خلاصہ تین وسیع عنوانات کے تحت یہ ہو گا (۱) اللہ کے احکام کی اطاعت پر صبر؛ جو راہِ راست پر استقامت اور ثابت قدمی کے ہم معنی ہے (۲) اللہ کی ممنوعہ چیزوں سے بچنے پر صبر (۳) قدرتی آلام و مصائب( مثلاً: بھوک ، پیاس، بیماری، مالی تنگ دستی، اور ناگہانی آفتیں وغیرہ) نیز دعوت و اصلاح کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات، دل شکن تجربات اور دوسروں کی ایذاء رسانیوں پر صبر۔

تاہم صبر کی ایک نہایت لطیف اور شاید اعلی ترین قسم وہ ہے جسے “ربانی صبر” (divine patience) کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد اس ذہنی تکلیف اور نفسیاتی اذیت کو برداشت کرنا ہے جو اپنے ایک جائز اصولی حق کو لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود اس سے دست بردار ہونے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک شخص آپ کے ساتھ بد کلامی کرے، یا آپ کی کسی چیز پر نا جائز قبضہ کر لے، یا آپ کا کوئی علمی یا عملی کارنامہ اپنے یا کسی اور کے نام منسوب کردے، یا جس پوزیشن کے آپ حقدار تھے اسے کسی سازش کے تحت کوئی اور حاصل کر لے۔

ان تمام حالتوں میں آپ کو ایک نا قابلِ برداشت ذہنی کرب کے طوفان سے گزرنا پڑتا ہے اور بظاہر آپ کے لئے یہ ممکن نظر آتا ہے کہ جوابی یا انتقامی کارروائی کے ذریعہ اپنا حق بحال کرلیں یا کم از کم اپنے جذبات کی تسکین کا سامان کریں مگر آپ صرف خدا کی خاطر اس کو بلا بحث سہ جاتے ہیں تو اس وقت گویا آپ “ربانی صبر” کا تجربہ کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح خدا، قادرِ مطلق ہونے کے باوجود، اپنی شان میں گستاخی کرنے والے مجرموں کو اپنی بنائی ہوئی کائنات میں برداشت کرتا ہے اور انہیں مقررہ وقت تک زندگی کی تمام آسائشوں کا سامان فراہم کرتا ہے، اسی طرح آپ اپنی محدود قدرت کا استعمال اپنے حریف یا بد خواہ کے خلاف نہیں کرتے اور اس کے معاملہ کو قادرِ مطلق کے حوالے کر دیتے ہیں۔

روزہ مختلف پہلوؤں سے اہلِ ایمان کو اسی ربانی صبر کی عملی تربیت دیتا ہے اور ایسے ہی صابر بندوں کے لئے خدا نے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے۔ (إنما یوفی الصابرون أجرھم بغیر حساب (سورہ الزمر، آیت ۱۰)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعہ، 9 جون مطابق 14 رمضان، 2017

تخلیہ اور تحلیہ

تزکیۂ نفس کے دو بنیادی پہلو ہیں، ایک تخلیہ اور دوسرے تحلیہ۔

تخلیہ کا لفظی مطلب ہے خالی کرنا۔ یہ گویا ایک قسم کی ذہنی و نفسیاتی جراحی (intellectual & psychological surgery) ہے، جس کے ذریعہ آپ اپنے اندرون کو، قرآنی اصطلاح میں “فجور” سے پاک کرتے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی وہ اعتقادی خامیاں (شرک و ریاء وغیرہ) اور فکری وجذباتی کمزوریاں (غصہ، انانیت، سطحیت، عاجلہ پرستی، حرص و حسد، بغض و عناد، گھمنڈ وغیرہ)، جن کی بنا پر آپ روز مرہ زندگی میں اخلاق و عمل کی مختلف برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔

تحلیہ کے لفظی معنی ہیں سنوارنا۔ اس سے مراد اپنے باطن اور ظاہر کو قرآن کی اصطلاح میں “تقوی” کے اوصاف سے آراستہ کرنے کی سنجیدہ اور منظم کوشش ہے، یعنی توحید پر ایمان کو اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اس طرح زندہ اور پختہ کرنا کہ وہی آپ کے فکر و شعور اور احساسات و جذبات کا دائمی مرکز و محور بن جائے اور پھر عملِ صالح (خالق کی مخلصانہ عبادت اور مخلوق کی بے لوث خدمت وغیرہ) کے ذریعہ اپنے اخلاق و کردار کی ربانی تشکیل کے لئے آپ کو ہمہ تن اور ہمہ وقت پُر جوش طور پر سرگرم رکھے۔

رمضان کے صیام و قیام اور اس کے متعلقہ ضوابط کو اگر گہرے فہم و شعور کے ساتھ اپنایا جائے، تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک صاحبِ ایمان کو اس قابل بنادیتے ہیں کہ وہ تزکیۂ نفس کے ان دو گونہ تقاضوں (تخلیہ اور تحلیہ) کو پورا کر سکے اور اپنی شخصیت اور کردار کو ربانی پیکر میں ڈھال کر بالآخر جنت کی شہریت کا مستحق بن جائے۔ ان شاء اللہ۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

سنیچر، 10 جون مطابق 15 رمضان، 2017

اسوۂ یوسفی (۲/۱)

آج تراویح میں سورۂ یوسف پڑھی گئی۔

سورۂ یوسف ایک سو گیارہ آیتوں پر مشتمل ہے۔ قرآنی ترتیب میں وہ بارہویں نمبر پر ہے۔ پوری سورہ میں پچیس سے زاید بار حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بنام ذکر آیا ہے۔ مفسرین کے مطابق وہ ہجرتِ مدینہ سے کچھ پہلے “عام الحزن” یعنی سالِ غم میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ ابو طالب اور حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے صدمے کے ساتھ ساتھ پیغمبرِ اسلام (صلعم) کے خلاف مکہ والوں کی دشمنی اور ایذاء رسانی اپنی آخری حد کو پہنچ چکی تھی اور تمام قبائل نے مل کر آپ کے قتل کا ظالمانہ منصوبہ بھی بنا لیا تھا۔

اس پسِ منظر میں سورۂ یوسف گویا پیغمبرِ اسلام (صلعم) اور اہلِ اسلام کے لئے بالواسطہ انداز میں اس بات کی پیشگی خوش خبری تھی کہ “آج” کے بظاہر مایوس کن اور حوصلہ شکن حالات کے باوجود ان کا “کل” بہت شاندار اور کامیاب ہونے والا ہے۔ البتہ اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ ہر حال میں “تقوی” اور “صبر” کی روش پر ثابت قدم رہیں۔ کیونکہ محض تقوی اور صبر ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہےکہ انسان ایک طرف زندگی اور کائنات کی ربانی اسکیم کو گہرائی سے سمجھے اور غیر مشروط طور پر اس سے ہم آہنگ ہو جائے اور دوسری طرف وہ “اپنوں” اور “غیروں” کی تمام “سازشوں” کے منفی اثرات کی زد سے نہ صرف محفوظ ہو جائے بلکہ وہی “سازشیں” بالآخر اس کی کامیابی کے مواقع کھولنے اور اس کی سر بلندی کی راہیں ہموار کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔

سورۂ یوسف ربانی معرفت، روحانی بصیرت اور اخلاقی حکمت و عبرت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ اس کے نمایاں ترین اسباق کی مختصر فہرست یہ ہو گی: خدا پر زندہ ایمان، آخرت پر گہرا یقین، دنیوی آلام و مصائب اور انسانی ظلم و زیادتی پر صبر، حاسدوں اور بد خواہوں کی سازش کا مقابلہ بذریعہ توکل علی اللہ و استعانت باللہ، توحید کی دعوت، پاکدامنی اور عالی ظرفی، تقوی، احسان، امانت داری، قناعت پسندی اور خود داری، نعمتوں کی قدر شناسی اور شکر گزاری، قدرت کے با وجود عفو و در گزر، علم و دانش اور مستقبل بینی کی بنیاد پر سرکاری مالیات کا مثالی نظم و نسق، تنظیمِ بحران (crisis management) اور رفاہِ عام کی منصوبہ بندی (public welfare planning) اور اس کا مؤثر عملی نفاذ وغیرہ۔(باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 11 جون مطابق 16 رمضان، 2017

اسوۂ یوسفی (۲/۲)

موجودہ عالمی حالات کے پسِ منظر میں تدبر کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں سورۂ یوسف یا “أسوۂ یوسفی” میں آج کے مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا اور اہم ترین for سبق وہ حکمتِ عملی ہے جسے سیاسی ہم آہنگی (political adjustment) کہہ سکتے ہیں۔ یعنی کسی بھی ملک کے قائم شدہ نظامِ اقتدار اور اس کے آئینی یا تعزیری قوانین کو

“اعتقاد” (دوسرے لفظوں میں کفر اور ایمان) کا مسئلہ بنائے بغیر اس کے دائرے میں پُر امن طور پر رہتے ہوئے اپنے انفرادی، خانگی اور اجتماعی مسائل کا مثبت عملی حل تلاش کرنا۔ ذاتی طور پر اپنے عقیدۂ توحید کو درست اور مستحکم بناتے ہوئے، حسبِ امکان اس کی دعوت دینا، جیسا کہ معلوم ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل خانے میں قیدیوں کو دعوتِ توحید دی، مگر شاہی محل میں اس کا امکان نہیں تھا۔

اسی طرح قید خانہ میں انہوں نے صرف دعوتِ توحید دی۔ وقت کے سیاسی نظام کے خلاف کوئی انقلابی منصوبہ نہیں پیش کیا نہ ہی مروجہ عدالتی قوانین اور ضوابط پر کسی قسم کا تبصرہ یا تنقید کی۔ بلکہ اسے “قضاءِ الہی” قرار دے کر خاموشی کے ساتھ تسلیم کیا (سورۂ یوسف، آیت، 41)- مزید یہ کہ اس کے تحت اگر ایک مومن و مسلم کو کوئی سرکاری عہدہ مل جائے تو وہ پوری امانت اور دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ اپنی امتیازی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوتے بہترین خدمات پیش کرے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے پیش کیا۔

خود اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روکنے کے لئے انہوں نے خدا کی طرف سے جو خصوصی الہامی تدبیر اختیار کی، وہ بھی دین الملک (آیت 76) یعنی مروجہ شاہی ضابطوں کے عین مطابق تھی۔ اس سلسلے میں مشہور مفسر شیخ جمال الدین القاسمی اپنی تفسیر “محاسن التنزیل” میں لکھتے ہیں کہ “یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ یوسف علیہ السلام بادشاہ کے قانون سے تجاوز نہیں کرتے تھے ورنہ وہ اپنی مرضی چلاتے۔ یہ طرزِ عمل ان کی کامل ذہانت اور حکمت کا ثبوت ہے۔ نیز اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ کافرانہ مذاہب کے قوانین کو “دین” کہنا جائز ہے اور اس ضمن میں اور بہت سی آیات موجود ہیں (“۔۔۔وفيه إعلام بأن يوسف ما كان يتجاوز قانون الملك ، وإلا لاستبد بما شاء، وهذا من وفور فطنته وكمال حكمته . ويستدل به على جواز تسمية قوانين ملل الكفر ( ديناً ) لها والآيات في ذلك كثيرة .”)

بحیثیتِ مجموعی اہلِ اسلام کے لئے “اسوۂ یوسفی” کی اہمیت کی تایید میں اتنا کافی ہے کہ اس سورہ کے خاتمے پر آیت نمبر 108 میں پیغمبرِ اسلام کی زبانی یہ اعلان کرایا گیا ہے: “قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ” (سورۂ یوسف، آیت، 108)

“کہہ دو: یہ ہے میرا راستہ؛ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں؛ خوب سمجھ بوجھ کر میں بھی اور میرے پیرو بھی۔ اور tخدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں” (سورۂ یوسف، آیت، 108)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

پیر، 12 جون مطابق 17 رمضان، 2017

عادت اور عبادت

الطبرانی نے سہل بن معاذ بن انس (رض) سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:” ایک شخص نے رسول اللہ (صلعم) سے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول، سب سے بڑا اجر پانے والا مجاہد کون ہے؟ آپ نے کہا: جو سب سے زیادہ خدا کو یاد کرے۔ اس نے پھر پوچھا کہ: سب سے بڑا اجر پانے والا روزہ دار کون ہے؟ آپ نے کہا: جو سب سے زیادہ خدا کو یاد کرے۔ پھر اس شخص نے نماز اور زکوۃ اور حج اور صدقہ کے حوالے سے یہی سوال کیا اور ہر بار اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: جو سب سے زیادہ خدا کو یاد کرے- تب حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ: ذکر کرنے والے تو سارا خیر لے کر چلے گئے۔ اس پر آپ (صلعم) نے فرمایا: یقیناً”۔

الله کے ذکر سے مراد یہاں محض کچھ اوراد و وظائف کی زبانی تکرار نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد خدا کی ذات و صفات کا وہ شعوری ادراک و استحضار (conscious awareness & visualization) ہے جس کے تحت ایک مومن

اپنے دل و دماغ کی سطح پر گویا ہر وقت خدا کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کے دیکھنے کو دیکھتا ہے۔

خدا کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کا یہ یقین جس قدر آپ کے اندرون کی گہرائی میں سمایا ہو گا اسی قدر آپ کا روزہ اور نماز اور زکوۃ اور حج اور صدقہ وغیرہ بے جان “عادات” کے بجائے زندہ “عبادات” کی شکل اختیار کریں گے اور اسی تناسب سے آپ کو ان کا اجر بھی ملے گا۔

اس کی وضاحت مسندِ احمد کی ایک اور حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عمار بن یاسر (رض) سے یوں مروی ہے کہ رسول اللہ (صلعم) فرمایا کرتے کہ:”بندہ نماز پڑھتا ہے مگر وہ اس کے حق میں نہ آدھی شمار ہوتی ہے، نہ ایک تہائی، نہ ایک چوتھائی اور نہ اس کا پانچواں اور چھٹا اور دسواں حصہ اجر ہی اس کو ملتا ہے۔ کیونکہ بندہ کو اس کی نماز سے اسی قدر (اجر یا فائدہ) حاصل ہوتا ہے جس قدر وہ اس کا شعوری ادراک کرتا ہے:” إنما يكتب للعبد من صلاته ما عقل منها “

ذکرِ الہی در حقیقت فکر و شعور کی پاکیزگی اور ارتقاء کا وہ مقام ہے جہاں ایک صاحبِ ایمان “ان دیکھے خدا” کو سب سے زیادہ “دیکھنے” لگتا ہے، محسوسات کے ہجوم میں وہ خدائی صفات کی “غیر محسوس” تجلیات کو سب سے زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی “نعمت” اسے “مُنعِم” کی حمد و ثناء سے سرشار کرتی ہے اور ہر چھوٹی بڑی “مصیبت” اسے اپنی عاجزی کے احساس میں ڈبو کر قادرِ مطلق کی پناہ کا طلبگار بنادیتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو اس کی ہر “عادت” کو “عبادت” بناتی ہے اور جس کے بغیر ہر عبادت محض ایک بے روح عادت بن کر رہ جاتی ہے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

منگل، 13 جون مطابق 18 رمضان، 2017

دو مسرتیں

سورج ڈوبا۔ مغرب کا وقت ہوا۔ روزہ دار نے کھجور، پانی، پھل اور دیگر اشیائے خور و نوش کے ذریعہ افطار کیا۔ دن بھر بھوک اور پیاس کی شدت سے مرجھانے ہوئے چہرے پر تازگی اور بشاشت کی لہر دوڑ گئی اور پورے بدن میں، نڈھال پن کی جگہ سیرابی اور شکم سیری کا مسرت بخش احساس ایک نئی زندگی، نئی توانائی بن کر جاری و ساری ہو گیا۔ اسی کے ساتھ ایمانی حِس اور اسلامی شعور کے تحت، اس کی زبان سے بے ساختہ خدا کی حمد و ثناء اور شکر گزاری کے کلمات نکلنے لگے۔ جس نے اس کو مزید روحانی کیف و سرور سے سرشار کردیا۔ یہ ایک ایسی مسرت ہے جس کا تجربہ ایک باشعور روزہ دار کو روزانہ بوقتِ افطار ہوتا ہے یا ہونا چاہئے۔

روزہ دار اگر افطار کے وقت مزید غور و فکر سے کام لے تو اس کا دستر خوان صرف جسم کو تقویت پہنچانے والی خوراک کا نہیں، بلکہ اس کی روح کا تزکیہ کرنے اور اس کے ملکوتی جوہر کو نکھارنے والا ربانی معرفت کا دستر خوان بن جائے- وہ سراپا عجز اور حیرت کا پیکر بن کر سوچے گا کہ یہ پانی جو میری پیاس بجھاتا ہے اور یہ کھانا جو میری بھوک مٹاتا ہے، ان کو وجود میں لانے کے لئے زمین و آسمان سمیت اس لامتناہی کائنات کے کھربوں عناصر، خود میرے وجود میں آنے سے کھربوں سال پہلے سے مسلسل اور حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میرا وہ خالق اور رازق کتنا مہربان، کتنا حکیم اور کیسی بے پناہ قدرتوں کا مالک ہے، جو تنہا مجھ جیسی عاجز و ناتواں مخلوق کو اتنی فیاضی سے تمام سامانِ زندگی فراہم کرتا ہے۔

پھر اسی کے ساتھ اس کے اندر یہ یقین ابھرتا ہے کہ جس طرح میری موجودہ زندگی کے لئے خدا نے مجھے ایسے بیش قیمت اسباب پیشگی مہیا کئے ہیں، وہ مرنے کے بعد آنے والی میری ابدی زندگی کو بلاشبہ ان تمام آسودگیوں اور مسرتوں سے بھر سکتا ہے جو کبھی میرے خواب و خیال میں گزریں یا میرے تخیل کی گرفت سے باہر رہیں۔ یہ یقین اس کے اندر اپنے رحمن و رحیم پروردگار سے ملاقات کا سچا شوق اور تڑپ پیدا کر دیتا ہے۔

اس طرح گویا روزہ اور افطار ایک باشعور مومن کے لئے روزانہ دو لطیف مسرتوں کا عملی تجربہ بن جاتا ہے۔ حضرت ابو ھریرہ (رض) سے مروی ایک مشہور حدیث میں رسول اللہ(صلعم) نے انہیں دو مسرتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: “روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی افطار کرتے وقت اور دوسری خوشی جب وہ اپنے پروردگار سے ملے گا”۔(للصائم فرحتان: فرحة حين يفطر، وفرحة حين يلقى ربه)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

بدھ، 14 جون مطابق 19 رمضان، 2017

روزہ: حیات بعد الموت کی تیاری (۲/۱)

آج بوقتِ سحر ایک رشتے دار خاتون کے انتقال کی خبر ملی۔ “إنا لله وإنا إليه راجعون”…اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان ہر اپنی رحمتوں کا سایہ کرے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔

موت کو حدیث میں “ھادم اللذات” ( لذتوں کو ڈھا دینے والا) کہا گیا ہے اور اسے مسلسل یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی صبح وشام اپنی انگلیوں یا تسبیح کے دانوں پر “موت، موت” کا ورد کرے۔ یہ در اصل موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر کی نصیحت ہے تاکہ انسان اپنی موت سے پہلے اس کی مطلوبہ تیاری کر لے ورنہ اس کے بعد کسی کو ایک لمحے کے لئے بھی اس بات کی مہلت نہ ملے گی کہ وہ اپنی کسی سابقہ کوتاہی یا بد عملی کی تلافی کر سکے- گویا موت کو یاد کرنے کا مطلب اسے اپنے لئے حسنِ عمل اور خدا کی صراطِ مستقیم پر چلنے کا محرک بنانا ہے۔

انسان کی موجودہ زندگی جتنی یقینی ہے اتنا ہی یقینی موت کے ذریعہ اس زندگی کا خاتمہ بھی ہے۔ جس سے ہر شخص کو جلد یا بدیر لا محالہ دوچار ہونا ہے۔ (كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ -سورة آل عمران، آيت، 185) مگر اکثر لوگ اس سنگین، اٹل اور یقینی خاتمۂ حیات سے اتنا غافل ہیں جیسے اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ جیسے انہیں کبھی مرنا ہی نہیں۔

موجودہ زندگی ہر انسان کو “بے مانگے” ملتی ہے۔ وہ خالق کا ایک یک طرفہ عطیہ ہے اور موت اس عطیۂ زندگی کا کسی پیشگی اعلان یا “نوٹس” کے بغیر اس کے خالق کے حکم سے واپس لئے جانے کا نام ہے۔ “عطیۂ زندگی” کو دینے اور پھر اسے ایک مختصر یا نسبتاً طویل مدت کے بعد اچانک واپس لینے کا فیصلہ یک طرفہ طور پر خالق خود کرتا ہے۔ ظاہری اسباب خواہ کچھ ہوں، تاہم زندگی اور موت دونوں کا اوّل اور آخری صرف ایک ہی حقیقی سبب ہے اور وہ ہے خالق کا خود مختارانہ فیصلہ، جس میں کسی مخلوق کو کسی قسم کی مداخلت کا مطلق اختیار نہیں۔ چھوٹے اور بڑے، بادشاہ اور فقیر اور طاقتور اور کمزور سب زندگی اور موت کے اس خدائی فیصلے کے آگے یکساں طور پر بے بس ہیں۔ بقیہ تمام “اسباب” در اصل اس “اولین حقیقی سبب” کے نتائج ہیں نہ کہ بذاتِ خود سبب۔

خالقِ موت و حیات کے اس خود مختارانہ فیصلہ کو شعوری طور پر ماننے اور اس پر راضی ہونے کا اظہار ایک مومن و مسلم “استرجاع” کےان با معنی الفاظ میں کرتا ہے”إنا لله وإنا إليه راجعون”، یعنی ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم بالآخر اسی کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعرات، 15 جون مطابق 20 رمضان، 2017

روزہ: حیات بعد الموت کی تیاری (۲/۲)

البتہ زندگی اور موت کے درمیان کی جو مختصر یا طویل مدت ہے، اس میں ہر انسان کو اپنی مرضی سے کچھ “کرنے” اور کچھ “نہ کرنے” کے “اختیارات” حاصل ہیں۔ انھیں محدود وقتی اختیارات کے صحیح یا غلط؛ بالفاظ دیگر اپنی ذاتی مرضی یا خالقِ موت و حیات کی مرضی کے مطابق استعمال پر انسان کی اگلی زندگی کی ابدی کامیابی یا ابدی ناکامی کا دار و مدار ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو روزہ ایک مومن کو حیات بعد الموت کی ابدی کامیابی کے لئے تیار کرتا ہے۔ کیونکہ روزہ عملاً اپنے نفس کی سطح پر خود کو جیتے جی مارنا ہے۔ وہ موت کی طرح اپنے تئیں “ھادم اللذات” بن جانا ہے۔ وہ اپنے اختیار سے خود کو بے اختیار بنا لینے اور آنے والی دائمی راحت و مسرت کی خاطر اپنی موجودہ وقتی راحت و مسرت کو اپنے ہاتھوں ڈھانے کی مشق ہے۔

یہ “خود مختارانہ بے اختیاری” اور خالقِ موت و حیات کے حکم سے “کل” کے لئےاپنے “آج” سے دست بردار ہو جانا، در اصل یہی وہ “اسلام” (فرمانبردارانہ خود سپردگی obediently self-surrender) ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے، اور جس کے عوض میں آخرت کی پُر مسرت اور ہر قسم کے خوف و غم سے خالی، لا زوال بہشتی زندگی کا وعدہ کیا گیا ہے: {بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}.. [البقرة ، آیت 112].

جو شخص اس “اسلامی اسپرٹ” کے مطابق رمضان کے روزے رکھے، اس کی پوری شخصیت اور کردار مستقل طور پر اسلام کے پیکر میں اپنے آپ ڈھلتے چلے جائیں گے اور وہ اس صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہ سکے جو اسے موت کے بعد خدا کی جنت تگ پہنچائے گا۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایک شخص رمضان میں بظاہر کھانا پینا اور دوسری جائز چیزوں بلکہ ناگزیر ضرورتوں کو ترک کر دے، وہ رمضان یا غیر رمضان میں، جھوٹ، غیبت، کینہ، بغض، سود خواری، شراب نوشی، مکر و فریب، عہد شکنی، کردار کشی اور فتنہ انگیزی جیسی حرام چیزوں سے خود کو نہ بچائے۔ اگر کوئی روزہ رکھتے ہوئے یا اس کے بعد ان محرمات کا دانستہ ارتکاب کرتا ہے تو اس کا روزہ محض ایک سماجی روایت یا بے جان عادت شمار ہوگا نہ کے ایک حي و قیوم پروردگار کی زندہ عبادت۔

سچا روزہ دار وہی ہے جس کا روزہ اسے زندگی کے ہر معاملے میں اپنے “مختارِ کُل” خالق و مالک کے آگے “بے اختیار” ہو جانے کا سلیقہ سکھائے تاکہ وہ اس دنیا کو اپنی آخرت کی کھیتی پروان چڑھانے اور موجودہ زندگی کو حیات بعد الموت کی حقیقی تیاری میں استعمال کر سکے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعہ، 16 جون مطابق 21 رمضان، 2017

دعائے لیلة القدر (۳/۱)

مشہور حدیث ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلعم) سے غالباً رمضان کے آخری عشرہ کے دوران پوچھا کہ اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو میں اللہ سے کیا دعاء مانگوں؟ اس موقع پر آپ (صلعم) نے انھیں یہ مختصر اور جامع دعاء سکھائی؛”أللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني”؛ یعنی اے اللہ تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، تو عفو و در گزر کو پسند کرتا ہے لہذا مجھے معاف کر دے”۔

اس دعائے نبوی میں تفکر اور تدبر کرنے سے ایک صاحبِ ایمان کو دین کی چند نہایت گہری حقیقتوں کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ خدا سے مانگنے کی اہم ترین چیز کیا ہے، دوسرے یہ کہ جو چیز آپ خدا سے مانگ رہے ہیں، وہی چیز آپ گو بشریت اور عبدیت کے دائرۂ استطاعت میں خدا کو بھی آپ سے مطلوب ہے۔ تیسرے یہ کہ خدا کی معافی کسی کو بے طلب نہیں مل سکتی بلکہ وہ صرف معافی کے ایسے سنجیدہ طلبگار کو ملے گی جو خدا سے مانگنے کے سب سے بہترین موقع پر اسی کا عاجزانہ اور والہانہ سوال کرے۔

مذکورہ دعائے نبوی کی تعلیم جس پسِ منظر میں دی گئی وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ خدا سے مانگنے کی اصل چیز دنیا کی وقتی آسائشیں اور فانی رونقیں نہیں، بلکہ وہ چیز ہے جو آپ کے لئے آخرت کی ابدی فلاح و سعادت کا دروازہ کھول دے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حشر کے دن جب آپ خدا کے سامنے حاضر ہوں تو وہ آپ کے ساتھ “عفو و در گزر” کا معاملہ کرے، اس کی بنائی ہوئی حسین کائنات میں اپنی آزادی کے دانستہ یا نادانستہ غلط استعمال سے آپ نے خود اپنی اور دوسروں کی زندگی میں جو مادی آلودگی اور معنوی اور اخلاقی فساد پیدا کیا تھا، اسے وہ اپنی قدرت کاملہ سے مٹادے تاکہ آپ “نفسِ مزکی” بن کر جنت کی نفیس دنیا میں رہائش کے قابل ہو سکیں۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

سنیچر، 17 جون مطابق 22 رمضان، 2017

دعائے لیلة القدر (۳/۲)

دوسری حقیقت جو اس پیغمرانہ دعاء میں مضمر ہے وہ یہ ہے کہ جب آپ یہ الفاظ کہتے ہیں کہ “اے اللہ، تو بہت معاف کرنے والا ہے؛ تو معافی کو پسند کرتا ہے”، تو اس کے ساتھ آپ یہ غیر ملفوظ اعلان بھی کرتے ہیں کہ خدا کو جس طرح “معافی پسند ہے”، اسی طرح وہ “معاف کرنے والے کو بھی پسند کرتا ہے” اور اس کا لازمی تقاضہ یہ ہو جاتا ہے کہ آپ خود بھی دوسروں کی خطاؤوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے والے بنیں۔ اگر آپ بندگانِ خدا کو عفو و در گزر دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے، جو خود آپ کے اقرار کے مطابق خدا کو بہت پسند ہے؛ تو پھر آپ کا اس سے اپنے لئے عفو و درگزر کا سوال کرنا ایک ایسا غیر سنجیدہ فعل بن جاتا ہے جو ایمان اور اسلام کی حقیقی روح کے منافی ہے کیونکہ ایک سچا مومن و مسلم دوسروں کے لئے وہی چاہتا ہے، جو وہ خود اپنے لئے چاہتا ہے (لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه-رواه البخاري)

چنانچہ اس صفتِ عفو و درگزر کو اہلِ ایمان کے انفرادی اور اجتماعی کردار کا اٹوٹ اور سب سے نمایاں حصہ بنانے کے لئے ایک موقع پر جب کسی نے پوچھا کہ”دن بھر میں مجھے اپنے نوکر کو کتنی بار معاف کرنا چاہئے”، تو پیغمبرِ اسلام (صلعم) نے جواب دیا:”روزانہ ستّر (70) بار معاف کرو”۔ گویا آپ کو خدا کی “معافی پانے والا” (pardon-receiver) بننے کے لئے اس کے بندوں کو “معافی دینے والا” (pardon-giver) بننا ہو گا۔ اِس مفہوم کی تایید اُس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں پیغمبرِ اسلام (صلعم) نے فرمایا کہ:”جو رحم کرنے والے ہیں، انہیں کے ساتھ خدائے رحمان بھی رحم کا معاملہ کرے گا” (الراحمون یرحمھم الرحمان-رواه الترمذي)۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 18 جون مطابق 23 رمضان، 2017

دعائے لیلة القدر (۳/۳)

اس دعاء کا تیسرا غور طلب اور نہایت سنگین پہلو یہ ہے کہ خدا کی معافی، بالخصوص آخرت میں، کسی کو “بے مانگے” نہیں ملے گی، بلکہ ہر شخص کو بطورِ خود اس دنیا میں مرنے سے پہلے اس سے معافی کی سنجیدہ، عاجزانہ اور والہانہ دعائیہ درخواست کرنی پڑے گی نیز اس کے لئے شب و روز کے دوران قبولیتِ دعاء کے خاص اوقات کا مستعدی اور دلجمعی سے استعمال کرنا ہوگا جو اس معاملے میں اس کی سنجیدگی کا ثبوت ہو۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں “عفوِ الہی” کا سزاوار نہ ٹھہرایا جائے۔ 

خدا نے اپنی فیاضانہ ربوبیت کے تحت اس دنیا میں انسان کو ہر وہ شئے مفت دے رکھی ہے جس کی اسے زندہ رہنے لئے ضرورت پڑتی ہے یا پڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا اور پانی اور روشنی جن کے بغیر زندگی نا ممکن ہے، یہ زرخیز زمین جو ہر ذی حیات کے لئے خوراک کا قدرتی بھنڈار بھی ہے اور خالق کی معجزاتی صناعی اور اس کے جمال و کمال کا پُر اسرار اور دل آویز مرقع بھی۔ پھر یہ سورج  اور چاند اور ستاروں کا جُھرمُٹ اور فضائے آسمانی کی لا متناہی وسعتوں میں بکھری ہوئی اس سے بھی اربوں گنا بڑی کھربوں کہکشائیں_ یہ سب کچھ رب العالمین نے، محض اپنے فیضانِ رحمت سے، بے مانگے اور بلا معاوضہ فراہم کر رکھا ہے جن پر انسان کا حیاتیاتی بقاء اور تہذیبی و تمدنی ارتقاء منحصر ہے۔ 

تاہم آخرت میں “عفوِ الہی” اور اس کی بنا پر جنت میں داخلہ کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ جنت خدا کی سب سے بیش قیمت تخلیق ہے۔ ایک حدیث میں اسے خدا کا مہنگا سامانِ فروخت کہا گیا ہے (أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ) گویا وہ اس پوری کائنات سے بے حساب گنا زیادہ قیمتی اور بے نظیر اور لا زوال حسن و کمال کا مظہر ہے، اس لئے وہ کائنات کی طرح کسی کو مفت میں نہیں مل جائے گی۔ وہ صرف انہیں بندگانِ خدا کو دی جائے گی جو اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں اس کے لئے عاجزی اور عبودیت کے آنسوؤں میں ڈوبی درخواست اپنے پروردگار کے سامنے پیش کرتے تھے۔ 

“اے اللہ، مجھے معاف کر دے”__ بظاہر ایک سادہ سا جملہ ہے۔ مگر حقیقت میں وہ ایک مومن کی خود شناسی، خدا شناسی اور آخرت شناسی کی نہایت جامع اور موزوں ترین تعبیر ہے۔ ان الفاظ کو زندہ ایمانی شعور اور اخلاص سے کہنے والا در اصل ڈر اور امید کے مشترک جذبات پر مشتمل  یہ اقرار آمیز التجا کرتا ہے کہ:’خدایا، میں خطا کار ہوں اور ایک دن یقیناً تو مجھ سے ان خطاؤوں کی باز پُرس کرنے والا ہے۔ تو اس “یوم الحساب” یا “روزِ جزاء” کا مالک اور مُنصف ہے۔ اس لئے تو مجھے ان خطاؤوں پر سخت ترین سزا دینے کا پورا اختیار اور قدرت رکھتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ تو رحمن و رحیم اور عفو و غفور اور تواب و حکیم بھی ہے اور تیری انھیں کریمانہ صفات کے واسطے سے میں یہ عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے’۔

غالباً اسی جامعیت اور وسیع و عمیق معنویت کی بنا پر اسے لیلة القدر جیسی مبارک ترین رات کی خصوصی دعاء قرار دیا گیا۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

پیر، 19 جون مطابق 24 رمضان، 2017

روزہ داری: ربانی اوصاف کی آئینہ داری(۲/۱)

“روزے کے مقاصد و فوائد کو چند لفظوں میں کس طرح بیان کیا جائے؟”۔ آج فجر بعد ذہن میں یہ سوال ابھرا اور پھر اس کا جواب سوچتے ہوئے بے ساختہ یہ عبارت زبان پر آ گئی : “روزہ داری: ربانی اوصاف کی آئینہ داری”، جو میرے خیال میں بڑی حد تک روزے کے اغراض و مقاصد اور اس کے متوقعہ عملی نتائج کا احاطہ کرتی ہے۔

غور کیجئے تو روزہ بحیثیتِ مجموعی ایک مومن کی شخصیت کو گویا “صبغة اللہ”یعنی خدائی صفات کے رنگ میں رنگنے کا عمل ہے۔ اس بنیادی فرق کے ساتھ کہ جو صفاتِ جمال و کمال خدائے وحدہ لا شریک کی برتر و بے مثل ذات میں مطلق اور ازلی طور پر موجود ہیں ایک صاحبِ ایمان کو روزہ (نیز کم و بیش دیگر عبادات کے ذریعہ) ان کا بشری سطح پر ایک محدود تجرباتی عرفان حاصل ہوتا ہے جس سے اس کے احساسِ عبدیت میں گہرائی اور پختگی آتی ہے اور وہ ربانی اوصاف بتدریج اس کے فکر و کردار کا مستقل شعوری حصہ بنتے جاتے ہیں۔

مثلاً روزے میں کھانے پینے اور دیگر نفسانی تقاضوں سے وقتی طور پر دستبردار ہونا، اللہ کی صفت “الصمد” (ہر شئے سے بے نیاز،ہر ضرورت سے پاک، بذاتِ خود قائم و دائم) کا محدود عابدانہ تجربہ ہے- یہ صفت خدا کی ذاتِ اقدس میں مطلق اور ازلی طور پر موجود ہے اور وہی اس کو معبودِ برحق بناتی ہے۔ جبکہ روزہ میں اس کا ایک ظاہری اور محدود تجربہ مومن کے اس یقین میں لا محدود اضافہ کردیتا ہے کہ حقیقی “الصمد” صرف خدا کی ذات ہے، وہ کھانے پینے اور دیگر تمام ضرورتوں سے پاک اور اپنی تمام مخلوقات سے مکمل بے نیاز ہے۔ انسان اگرچہ عارضی طور پر اپنی بعض ضروریات اور خواہشات سے “بے نیازی” کا مظاہرہ کر سکتا ہے مگر اس تجربے سے اس پر صرف یہ حقیقت مزید شدت سے منکشف ہوتی ہے کہ وہ “مخلوق” ہے جو سراپا عجز و احتیاج ہے اور اللہ “خالق” ہے جو قدرتِ کاملہ اور مطلقہ کا مالک ہے۔ اور مخلوق اور خالق کے درمیان صحیح رشتہ عبادت کا رشتہ ہے یعنی مخلوق عابد ہے اور خالق معبود۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

منگل، 20 جون مطابق 25 رمضان، 2017

روزہ داری: ربانی اوصاف کی آئینہ داری(۲/۲)

ٹھیک اسی طرح حالتِ روزہ میں خدا کی بعض دیگر صفات جیسے الصبور الحلیم (بہت صبر و تحمل والا)، الجواد آلکریم(بہت سخاوت اور نوازش کرنے والا)، العفو الغفور(بہت در گزر اور معاف کرنے والا)، الرؤوف الرحیم (بہت نرمی اور مہربانی کا معاملہ کرنے والا) وغیرہ کے عابدانہ تجربے کا موقع ملتا ہے۔ مثلاً روزہ دار کو لازم ہے کہ وہ ہر حال میں مکمل ضبطِ نفس (total self-control) سے کام لے، وہ دوسروں کی زبانی یا عملی زیادتی اور بد سلوکی پر صبر و تحمل اور عفو و در گزر کرتے ہوئے سراپا احسان اور خیر خواہی کی روش پر قائم رے۔ ایسی صورت حال میں وہ یہ سوچے کہ جب خدا قادرِ مطلق ہو کر اپنے سرکش اور نافرمان بندوں سے فوری انتقام نہیں لیتا بلکہ انھیں تائب ہو کر راہِ راست پر آنے کی مہلت اور ہر ممکن سہولت فراہم کرتا ہے تو پھر مجھے بھی اس کی رضا پانے کے لئے ایسا کرنا چاہئیے نہ کہ اپنی محدود قدرت کے بھرم میں منفی ردِ عمل اور انتقام کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔

اس کا بدن اگرچہ خود بھوک اور پیاس اور شب بیداری کی وجہ سے نڈھال ہے، مگر اسے دوسرے روزہ داروں کو افطار فراہم کرنے، تنگ دستوں اور ناداروں کی حاجت روائی (صدقہ، زکوة اور عطیات) کرنے میں ایسا فراخ دل اور نشیط ہونا چاہئے جیسے وہ، حدیث کے مطابق، لطیف ہوا کا نرم خرام جھونکا (کالریح المرسلة) ہو جو نہ کہیں اٹکتا نہ کسی پر بار بنتا اور بلا امتیازِ نیک و بد، ہر ایک کے اندر یکساں طور پر ایک حیات افروز خوشگواری کا احساس جگاتا ہوا خاموشی سے آگے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، وغیرہ

ہر روزہ دار اپنے مخصوص احوال و ظروف اور دائرۂ عمل میں اگر اپنے قول و فعل کی مسلسل شعوری نگرانی کرے، تو اسے خود بخود یہ رہنمائی ملتی جائے گی کہ کس موقع پر وہ خدا کی کس صفت کا “عابدانہ تجربہ” کر سکتا ہے یا اسے کرنا چاہئے تا کہ بتدریج اس کی شخصیت اور کردار “ربانیت کے آئینہ دار” بنتے جائیں۔ ان شاء اللہ العزیز۔

یہ تقریباً وہی بات ہے جو مشہور عارفانہ مقولہ “تخلَّقوا بأخلاق الله” میں کہی گئی ہے_ یعنی “اللہ کے اخلاق کو اپنا اخلاق و کردار بنانے کی کوشش کرو”۔ “اللہ کے اخلاق” سے مراد یہاں خدا کی وہ صفاتِ کمال ہیں، جنہیں قرآن و حدیث میں اللہ کے بہترین نام “أسماء اللہ الحسنی” کہا گیا ہے۔ بعض لوگ اس جملہ کو حدیث نبوی کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ مگر تحقیق سے یہ ثابت نہیں۔ البتہ فی نفسہ وہ ایک نہایت با معنی کلامِ معرفت ہے۔ حتی کہ بعض علماءِ تزکیہ اور مشائخِ تصوف اسے تمام عبادتوں اور ریاضتوں کا نصب العین اور آخری حاصل (ultimate outcome) قرار دیتے ہیں۔ امام غزالی نےاپنی کتاب شرح أسماء الله الحسنی کی چوتھی فصل میں اسے کمالِ عبدیت اور حصولِ سعادت کا راستہ بتایا ہے(الفصل الرابع في بيان أن كمال العبد وسعادته في التخلُّق بأخلاق الله تعالى والتحلِّي بمعاني صفاته وأسمائه بقدر ما يُتصوَّر في حقه)۔

قرآن کی تلاوت و سماعت اور اس میں تدبر کی ایمان پرور سرگرمیوں سے معمور، رمضان کا یک ماہی سالانہ تربیتی نظام غالباً اسی لئے قائم کیا گیا ہے کہ ہر فردِ مومن اپنے فکر و کردار کو ممکنہ حد تک ربانی اوصاف کا آئینہ دار بنا سکے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

بدھ، 21 جون مطابق 26 رمضان، 2017

قرآن:انسانیت کی تقدیر

‏(Al Quran: The Destiny of Humanity)

سورۂ القدر کی پہلی آیت اور اسی طرح سورۂ الدخان کی دوسری آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کا نزول ایک بہت ہی عظیم الشان اور با برکت رات میں ہوا جو “ہزار مہینوں سے بہتر ہے” (سورہ القدر، آیت ۳)؛ اس رات میں “ہر حکیمانہ امر کو طے کیا جاتا ہے” (سورہ الدخان، آیت ۳)۔ احادیث سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس رات (لیلة القدر) میں خدا کے حکم سے فرشتے ہر انسان کی سابقہ سال کی کار کردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے آئندہ سال کی تقدیر کا مفصل ریکارڈ تیار کرتے ہیں۔

اس ضمن میں خصوصی طور پر یہ بتانے کا مقصد کہ قرآنِ مجید اسی رات کو نازل کیا گیا، غالبا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ قرآن در اصل پوری کائنات اور انسانیت کی تقدیر کا نوشتہ ہے۔ دونوں کا آغاز اور آخری انجام اس میں درج ہے۔ اور جو کچھ “لیلة القدر” میں ہر سال لکھا اور طے کیا جاتا ہے وہ اسی “نوشتۂ تقدیر” کے رہنما اصول و ضوابط کی روشنی میں ہر انسان کا بالفعل (actual) یا بالقوة (potential) ذاتی کسب (کمائی) کی سالانہ تحریری رپورٹ ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کتابِ لا ریب (قرآن) میں واضح دلائل کے ساتھ یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ ابدی سعادت اور ابدی شقاوت کا معیار کیا ہے۔ خدا کا انعام یافتہ بننے کی سیدھی راہ کون سی ہے اور گمراہی کے خود ساختہ طریقے کیا ہیں جو انسان کو خدا کے غضب کا مستحق بناتے ہیں۔ لہذا ہر انسان کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنی اور اس کائنات کی “تقدیر” کو قرآن میں پڑھ لے اور چاہے تو اسے سنجیدگی سے مان کر اس کی تحصیل میں مکمل یکسوئی کے ساتھ سرگرم ہو جائے یا اسے اپنی غفلت یا جھوٹے غرور کی بنا پر رد کر دے۔ ان دونوں طرزِ عمل کا آخری انجام کیا ہے وہ کائنات اور انسانیت کے اس “نوشتۂ تقدیر” میں صاف صاف لکھا ہوا ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا (لا تبديل لكلمات الله).

میں سمجھتا ہوں سورہ الانبیاء کی آیت ۱۰ سے اس مفہوم کی تایید ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی کا ارشادِ ہے: “لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ” یعنی “ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ پھر کیا تم سمجھتے نہیں “۔

اس بنا پر شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ لیلة القدر کو پانے والا وہی ہے جو قرآن کو اپنے رہنمائے حیات کی حیثیت سے پالے اور بلا بحث اس کی ہدایات کی روشنی میں اپنی “تقدیر” کے بہترین ممکنات کو بالفعل واقعہ بنانے میں اپنی عمر کھپا دے۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعرات، 22 جون مطابق 27 رمضان، 2017

تقدیر کیا ہے (۳/۱)

کل رات بحوالہ سورۂ القدر، سورۂ الدخان اور سورۂ الانبیاء، قرآن کے “تقدیرِ انسانیت” ہونے کے بارے میں جو بات لکھی تھی وہ اب تک کسی بھی قدیم و جدید تفسیر یا کتبِ علمِ کلام میں میری نظر سے نہیں گزری ۔ آج سورۂ الأعلی میں تدبر کرتے ہوئے مجھے اس پر مزید شرحِ صدر حاصل ہوا۔

ذاتی طور پر مجھے تقریباً پورا یقین ہے کہ قرآن، جو وحی الہی کا آخری مستند اور محفوظ ترین ایڈیشن ہے؛ بیک وقت انسان کے لئے “کتابِ ہدایت” بھی ہے اور وہی اس کی “بالقوة تقدیر” (potential destiny) کا نوشتہ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اس استنباط کے حق میں بطورِ دلیل یہی واقعہ کافی ہے کہ قرآن کا نزول “لیلة القدر” میں ہوا، جو “ہزار مہینوں سے بہتر” اور خدا کے “تمام حکیمانہ فیصلوں” کی رات ہے جن کے مطابق بالآخر کائنات کی ہر مخلوق کی “قسمت” یا “تقدیر” متعین ہوتی ہے۔ انسان چونکہ عقل اور ارادہ و اختیار کی آزادی کی بنا پر دیگر مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے اس کی تقدیر کے مضمرات اور ممکنات سے اس کو کتابِ الہی کی شکل میں آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنی عقلی و ارادی قوتوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ان “مقدر ممکنات” (predestined possibilities) میں سے جن کا چاہے اپنے لئے انتخاب اور اکتساب (selection & acquisition) کرے۔ پھر اسی انتخاب اور اکتساب کے صحیح یا غلط ہونے کی بنیاد پر آخرت میں اس کی ابدی فلاح و سعادت یا ابدی خسران و شقاوت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

گویا انسان اگرچہ اپنی تقدیر کے “ممکنات” کا ذمہ دار نہیں، مگر ان “ممکنات” کو بالفعل “واقعات” (actual events) میں بدلنے کی عملی اور اخلاقی ذمہ داری اس پر ضرور عائد ہوتی ہے۔ (باقی)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

جمعہ، 23 جون مطابق 28 رمضان، 2017

تقدیر کیا ہے (۳/۲)

سورۂ الأعلی کی آیات ۱-۳ سے تقدیر کے اس تصور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جن میں کائنات کی ہر جاندار اور غیر جاندار مخلوق (بشمول انسان) کے چار وجودیاتی مراحل بتائے گئے ہیں: پہلا اس کو پیدا کرنا (خلق یا تخلیق)، دوسرا اس کو اپنے مقصدِ تخلیق کے لحاظ سے موزوں ترین ساخت میں ڈھالنا (تسویہ)، تیسرا اس کی “تقدیر” متعین کرنا اور چوتھا اس کو اس “تقدیر” پر چلنے کی رہنمائی دینا۔ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ، وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ)

بالکل سادہ زبان میں “قدر” یا “تقدیر” کے معنی ہیں کسی شئے کی نشوونما ، افادیت اور کارکردگی کا امکانی اندازہ اور پیمانہ مقرر کرنا۔ یعنی یہ طے کرنا کہ اس چیز کا مقصدِ وجود کیا ہے، اس کے بقاء و ترقی کا نظام اور دائرۂ کار کیا ہے اور وہ اپنی داخلی قوتوں اور خارجی عناصر کے باہمی تعامل سے کیا بن سکتی ہے اور کیا کر سکتی ہے۔

انسان (نیز جن) کے سوا دوسری ہر مخلوق کی جو “تقدیر” مقرر کردی گئی ہے وہ اس کی مجبورانہ پابند ہیں کیونکہ یہی ان کے خالق کی “ہدایت” ہے، انھیں اس کے سوا کسی دوسرے طریقے کا نہ علم ہے نہ اس پر چلنے کا اختیار۔ مثلا شہد کی مکھی کی “تقدیر” یہ ہے وہ “شہد سازی” کا قدرتی کارخانہ چلائے۔ اس “مقدر” کو امکان سے واقعہ بنانے کے لئے اسے خدا نے یہ “ہدایت” دی کہ وہ صبح و شام باغ اور بیابان میں گشت لگائے اور وہاں طرح طرح کے پھولوں اور پھلوں کا رس جمع کرے، پھر اپنے پیٹ کی رطوبتوں کے ساتھ آمیزش کرتے ہوئے ان سے مختلف ذائقوں اور رنگوں کا شیریں مشروب تیار کرے، جو شہد کہلاتا ہے اور جس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے (سورۂ النحل، آیت 68-69)۔

گویا شہد کی مکھی اور اس جیسی تمام مخلوقات کی “بالقوة تقدیر” (potential destiny) اور “بالفعل تقدیر” (actual destiny) دونوں ایک ہے، کیونکہ عملاً وہ دونوں خدا کے براہِ راست کنٹرول میں ہیں۔ بالفاظ ِ دیگر ان کی “ہدایت” ان کی “تقدیر” کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام ارضی و سماوی مخلوقات کبھی خدا کی “ہدایت” کے سیدھے راستے سے منحرف نہیں ہوتیں اور ان کی تقدیر کے ممکنات اور واقعات کے درمیان کبھی کوئی فرق یا تضاد پیدا نہیں ہوتا۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

سنیچر، 24 جون مطابق 29 رمضان، 2017

تقدیر کیا ہے (۳/۳)

البتہ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اگرچہ بحیثیتِ مجموعی اس کا مادی وجود و بقاء اور ارتقاء بھی خالق کے مقررہ نظامِ “تقدیر” کا ایسے ہی پابند ہے جیسے شہد کی مکھی اور دیگر مخلوقات۔ مثلا وہ آنکھ سے دیکھے گا، کان سے سنے گا، ہاتھ پیر سے پکڑنے اور چلنے کا اور منہ سے بولنے اور کھانے پینے کا کام لے گا، وغیرہ۔

تاہم وہ آنکھ سے کیا دیکھے اور کان سے کیا سنے، زبان سے کیا بولے اور منہ سے کیا کھائے اور کیا پئے، اپنے پیروں کو کس سمت میں یا کس راستے پر چلائے اورہاتھوں سے کیا کام لے، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام عملی تفصیلات میں انسان کو پوری آزادی دی گئی ہے اور اس کے سامنے متعدد اور متنوع اختیارات (diverse and multiple choices) رکھ دئے گئے ہیں۔ جنہیں ان کے اخلاقی و روحانی نتائج کے اعتبار سے دو وسیع متقابل قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے یعنی: خیر اور شر، تقوی اور فجور، ایمان اور کفر، احسن تقویم کی روش اور اسفل سافلین کی روش، جنت کا راستہ اور جہنم کا راستہ، ربانی کردار اور شیطانی کردار، وغیرہ۔

در اصل یہی “اختیارات” انسان کی “بالقوة تقدیر” (potential destiny) اور “بالفعل تقدیر”(actual destiny) کے درمیان فرق یا تضاد پیدا کرتے ہیں جس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ کیونکہ خدا نے اپنے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ اس کی “ہدایت” کا مسلسل انتظام کیا، تاکہ وہ اپنی “تقدیر” کے دو متقابل ممکنات سے پوری طرح آگاہ ہو جائے اور سوچ سمجھ کر اسی “ممکن” کو عملاً “واقعہ” بنانے کا انتخاب کرے جس کا آخری انجام اس کے حق میں بہتر ہو۔ اسی آگہی اور انتخاب کی صلاحیت کو قرآن (یعنی خدائی ہدایت کے آخری مستند ترین نسخے) میں دو دشوار گزار چڑھائی (النجدین) کی ہدایت سے تعبیر کیا گیا ہے: “وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ”۔(سورۂ البلد، آیت ۱۰)۔

خلاصہ یہ کہ ہر انسان کی “تقدیر” دو متقابل “ممکنات” (paradoxical possibilities) پر مشتمل ہے جن کو قرآن نے نہایت کھلے لفظوں میں نہ صرف بیان کیا بلکہ عقلی دلائل اور تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ بھی بتا دیا کہ انسان ان “ممکنات” کے بہتر اور احسن پہلو کو کس طرح اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے والے “حقیقی واقعات” میں تبدیل کرے۔ اس طرح یہ کہنا بجا ہو گا کہ قرآن ہی ہر انسان کی ممکن یا متوقع “تقدیر” کا آئینہ بھی ہے اور اس ممکن اور متوقع تقدیر کو بالفعل واقعہ بنانے کا ہدایت نامہ بھی۔ ہر سال لیلة القدر میں فرشتۂ وحی جبریلِ امین کے ساتھ بڑی تعداد میں فرشتوں کا نزول غالباً عالمِ بالا کو اس بات کا عینی مشاہدہ کرانے لئے ہوتا ہے کہ کتنے انسانوں نے قرآن میں بیان کردہ اپنی “تقدیر کے ممکنات” کو حقیقی واقعات میں بدلنے کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کی تاکہ ان کی سعی کو خدا کی طرف سے قبولیت بخشی جائے اور کتنے ہیں جو اس کوشش کا سچا شعور اور سچا ارادہ رکھتے ہیں اور کتنے ہیں جو اس سے مطلق غافل پڑے ہوئے ہیں تاکہ اسی لحاظ سے ہر ایک کے حق میں خدائی تایید و توفیق یا اس سے محرومی کا فیصلہ کیا جائے- و اللہ اعلم۔

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 25 جون مطابق یکم شوال، 2017

ہلالِ عید کا پیغام (۲/۱)

تمام گروپ ممبران کو عید الفطر کی پُر خلوص مبارکباد۔

ہلال (نیا چاند)، خواہ وہ عید کا ہو یا غیرِ عید کا، وہ خالقِ کائنات کے ایک حکیمانہ تخلیقی قانون کی علامت اور یاد دہانی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں کسی شئے کے لئے ایک حالت پر ٹہرنا نا ممکن ہے۔ یہاں عروج اور زوال،، طلوع اور غروب، بڑھنا اور گھٹنا اور ترقی اور پسماندگی کے دو متقابل مرحلوں سے گزرنا ہر شئے کا “مقدر” ہے۔ اس کائنات میں کوئی مخلوق اس قانون سے مستثنی نہیں ۔ یہ صرف خالقِ کائنات کی بلند و برتر، عظیم اور بے مثل ہستی ہے جو “لا زوال” ہے، کسی بھی خارجی عامل کے زیرِ اثر اس میں کوئی تغیر نہیں آتا، تمام “کائناتی تغیرات” اس کے علم اور حکم اور قدرت سے ہوتے ہیں مگر وہ خود ہمیشہ “غیر متغیر” رہتا ہے کیونکہ وہ “الصمد” ہے؛ یعنی ہر شئے سے بے نیاز؛ مگر ہر شئے اپنے وجود و بقاء و ارتقاء کے لئے اس کی محتاج اور نیاز مند۔

ہلالِ عید کے اس علامتی پیغام کا ایک اور خاص عملی پہلو یہ ہے کہ وہ جہاں ایک “پُر مشقت” مہینے (رمضان) کے خاتمے کا اعلان ہے وہیں وہ ایک نئے مہینے (شوال) کے”پُر مسرت” آغاز کا نشان بھی ہے، جو گویا زندگی کے ایک دوسرے خدائی قانون کی یاد دہانی ہے اور وہ قانون ہے: ہر دشواری کے بعد یا اس کے ساتھ ساتھ آسانی کا موجود ہونا؛ ہر مشقت کے پہلو بہ پہلو راحت کا راستہ ہموار ہونا۔

اس طرح ہلالِ عید بیک وقت ایک مومن کو خدا کی لا زوال عظمت و کبریائی کے احساس سے سرشار کرتا ہے نیز اسی کے ساتھ زندگی کے بارے میں خدا کی حکیمانہ ہدایت کے گہرے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لئے اس کے ذہن کو مہمیز بھی کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صیامِ رمضان سے متعلق آیات کے ذیل میں یہ ارشاد ہوا کہ:”۔۔۔اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے وہ تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا اور تاکہ تم روزے کی مقررہ مدت پوری کرو اور اللہ کی ہدایت ہر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس کے شکر گزار بن جاؤ۔” انھیں دو گونہ کیفیات کا اظہار عید کے دن تکبیر اور حمد اور صدقہ وغیرہ کی شکل میں کیا جاتا ہے۔(سورۂ البقرة، آیت 185)

—————-

رمضان ڈائری 2017

ابو صالح انیس لقمان-ابو ظبی

اتوار، 25 جون مطابق یکم شوال، 2017

ہلالِ عید کا پیغام (۲/۲)

خالص اسلامی نقطۂ نظر سے ہلالِ عید (یا کسی بھی نئے مہینے کے چاند) کی فکری معنویت اور اس کا عملی پیغام بس یہی ہے یعنی ایک طرف اس کو دیکھ کر ایک مومن کے عقیدۂ توحید میں یقین کا تازہ اور پختہ ہونا؛ اور دوسری طرف اسے اپنے لئے “آغازِ نو” کی علامت (symbol of a new beginning) سمجھنا تا کہ وہ اپنے پُر مشقت حال یا تلخ ماضی کی یادوں میں دل شکستہ اور افسردہ ہو کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ان سے نئی بصیرت کی روشنی اور نئے عزم و ہمت کی توانائی کشید کرے اور “اللہ الصمد” پر توکل کرتے ہوئے، ایک نئے، بہتر اور روشن تر مستقبل کا آغاز کرے۔

میرا یہ استنباط، پیغمبرِ اسلام (صلعم) کی اس دعاء میں طویل اور گہرے تدبر کا حاصل ہے، جو کتبِ احادیث میں “دعائے رؤیتِ ھلال” کے تحت نقل کی گئی ہے۔ الترمذی کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ علَيْنَا بِالأَمْنِ والإِيمَانِ ، وَالسَّلامَةِ والإِسْلامِ ، رَبِّي ورَبُّكَ اللَّه ، هِلالُ رُشْدٍ وخَيْرٍ » یعنی “اے اللہ، اس نئے چاند کو ہمارے اوپر امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ نمودار کر۔ میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے، اے خیر اور بھلائی کے نئے چاند!”۔

تاہم یہ اسلامی تاریخ کا شاید سب سے بڑا ملی المیہ ہے کہ اس بصیرت افروز اور حیات آفرین پیغمبرانہ سنت کو سمجھنے اور اس کے سانچے میں اپنے انفرادی اور اجتماعی رجحانات کی تشکیل کرنے کے بجائے، “ھلال” کو خود ساختہ طور پر مسلمانوں کا “عسکری و سیاسی نشان”(military & political symbol) بنا دیا گیا۔ خصوصا عثمانی ترکوں نے اسے عیسائیوں کے قومی نشان صلیب (Cross) کے مقابلہ میں ہر سطح پر استعمال کیا، یہاں تک کہ سیاسی اور فوجی پرچم سے لے کر انسانی رفاہِ عام میں سرگرم تنظیموں کے نام اور دستاویزات میں ہلال (Crescent) کا نشان مسلمانوں کی ملی شناخت بن کر ابھر آیا۔ حالانکہ اس کا اسلامی شریعت یا اسلامی تہذیب و ثقافت سے مطلق کوئی تعلق نہیں۔ محققین جانتے ہیں کہ “ہلال” کا نشان اسلام سے بہت پہلے قدیم یونانی ، رومن، مجوسی اور مصری تہذیبوں میں ان کے مشرکانہ دیو مالائی عقائد پر مبنی ایک “مقدس علامت” کی حیثیت سے صدیوں تک استعمال ہوتا رہا ہے۔

اس خلافِ سنت روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس “ہلال” کو ہر مہینہ یا کم از کم ہر سال عید الفطر کے موقع پر، مسلمانوں کے اندر “اللہ الصمد” پر ایمان و توکل تازہ اور پختہ کرنے اور امن و سلامتی کی نئی امید سے مسلح ہو کر، نئے عزم اور ولولے کے ساتھ زندگی کی تعمیر و ترقی کے سفر کا آغازِ نو کرنے کا محرک بننا چاہئے، وہی “ہلال” ان کے نام نہاد قومی شاعر کے بقول اب پوری ملتِ اسلام کی ذلت و خواری کا تماشہ کرتا ہے۔ آج سے تقریبا سو برس پہلے عید کا چاند دیکھ کر اس شاعر نے کہا تھا:

“خزاں میں مجھ کو رُلاتی ہے یادِ فصلِ بہار

خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سو گوار ہوں میں

اجاڑ ہو گئے عہدِ کہن کے مے خانے

گزشتہ بادہ پرستوں کی یادگار ہوں میں

پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے

ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے”

یہ “مضحکہ خیز ذلت و خواری” در اصل نتیجہ ہے کئی صدیوں سے چھائے ہوئے اس غلط فکری اور عملی رجحان کا جس کے زیرِ اثر مسلمانوں نے “ہلال” کو “خنجر” کے روپ میں دیکھا اور اسے اپنا “قومی نشاں” بنا لیا، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

مسلمانوں کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اگر اس عبرتناک زبوں حالی سے نجات پانی ہے تو انھیں شعوری طور پر از سرِ نو یہ دریافت (re-discover) کرنا ہوگا کہ “ہلال” نہ تو “خنجر نما” ہہے نہ ہی وہ مسلمانوں کا قومی نشان ہو سکتا ہے۔ قرآن (سورۂ یس، آیت 39) کے مطابق وہ شکلی طور پر کھجور کی پرانی ٹہنی کی مانند (کالعرجون آلقدیم) نظر آتا ہے جبکہ اپنے رمزیاتی پہلو (symbolic aspect) کے لحاظ سے وہ دیگر اجرامِ سماوی کی طرح خدا کی ایک نشانی ہے اور انسانوں کے لئے وقت شناسی کا ایک ذریعہ۔ نیز پیغمبرِ اسلام (صلعم) کے سچے پیرو کار کے لئے ہر نیا چاند، “آغازِ نو” کا امید افزا پیغام لے کر آتا ہے تاکہ وہ اپنے گردوپیش کے منفی حالات اور ماضی و حال کے تلخ تجربات سے اوپر اٹھ کر، امن و سلامتی اور ایمان و اسلام اور خیر و فلاح کی مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی مسلسل تعمیرِ نو کرتا رہے۔ (أللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه وأرنا الأشياء كما هي___آمين).

———————————————–

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s