رمضان ڈائری ۲۰۱۶

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

رمضان المبارک کو ایک حدیث میں “شہر التوبہ” یعنی توبہ کا مہینہ کہا گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ سچی توبہ کے بغیر کوئی بھی شخص رمضان اور قرآن کی ہدایات اور برکات سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ تاہم توبہ سے میری مراد کچھ الفاظ کی زبانی تکرار نہیں، بلکہ توبہ ایک ذہنی انقلاب اور عملی رویہ میں ٹھوس تبدیلی کا نام ہے جس کی تشریح میں نے گزشتہ سال کی بعض نشستوں میں کی تھی۔ اسی کی یاد دہانی کے لئے ایک نشست کی ریکارڈنگ یہاں منسلک کی جاتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان بندوں میں شامل ہونے کی توفیق دے جن کو قرآن میں “بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور مسلسل اپنے آپ کو پاک کرنے والے” کے الفاظ سے موصوف کیا گیا ہے:”إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ”

سورہ البقرہ- آیت، ۲۲۲

‏https://youtu.be/XNkXkTi5JCk

-——

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ و استغفار، محض چند مخصوص الفاظ کو سینکڑوں اور ہزاروں اور لاکھوں یا کروروں بار زبان سے دہرانے کا نام نہیں، بلکہ وہ ربانی معیار کے مطابق، انسانی فکر و کردار کی تطہیر اور تعمیر کا ایک نہایت سنجیدہ عمل ہے، جو ساری زندگی ایک مومن کے اندر گہرے شعور و ادراک کی سطح پر؛ ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی شخص عبدیت اور عبودیت کے اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، جہاں رب العالمین بذات خود اپنے سچے بندوں کو یہ ابدی مژدہ سنائے گا کہ:” اے اطمینان پانے والے نفس، اپنے مالک کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے۔ لہذا اب تو شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں”

(( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي )) (سورة الفجر27-30)

———

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ و استغفار کی ضرورت جتنی ایک “خطا کار اور گنہگار” کو ہے؛ اسی قدر ایک “متقی اور پرہیز گار” کو بھی ہے۔

اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے، توبہ و استغفار در حقیقت بے لاگ خود احتسابی کا عمل ہے، یعنی اپنی نیت اور اپنے قول اور فعل کا مسلسل تنقیدی جائزہ لے کر یہ دیکھنا کہ وہ درست ہے یا نا درست؛ وہ اعلی ربانی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر وہ نا درست ہے تو گناہ ہے اور اس پر اصرار ظلمِ عظیم، اس لئے اس سے فوری طور پر مخلصانہ توبہ اور استغفار کرنا ایمان اور اسلام کا اولین تقاضہ ہے۔

تاہم اگر اپنا قول یا فعل یا نیت بظاہر درست معلوم ہو، تو اسے اعلی ربانی معیار کے مطابق بنانے کی سنجیدہ تگ و دو کرنا اور اس پر ثابت قدم رہنا؛ ایک مستقل اور نہایت پُرمشقت کام ہے؛ جس سے ایک صاحبِ معرفت مومن عمر بھر ایک لمحہ کے لئے بھی فارغ نہیں ہوتا۔حتی کہ ربانی معیار کی عظمت کا شعور اور اس کے ساتھ ہم آہنگی کی تڑپ اکثر اس کو اتنا حساس بنا دیتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فرصت یا فراغت یا خود پسندی کے محض ایک وقتی احساس کو بھی خدا کی تحقیر یا قدر ناشناسی کے ہم معنی “کناہ” تصور کرتا ہے اور بے اختیار وہ توبہ و استغفار میں سرگرم ہو جاتا ہے۔

————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

روحانی تزکیہ اور اخلاقی ارتقاء کا واحد یقینی ذریعہ، مسلسل توبہ و استغفار کا شعوری عمل ہے۔ اس کے زیر اثر سچے مومن کا ضمیر ایک طرف، انتہائی حساس ہو جاتا ہے جو اسے اپنی ہر چھوٹی یا بڑی غلطی پر شدت سے ٹوکتا اور ملامت کرتا رہتا ہے تاکہ وہ اس کی تلافی کے لئے ہمہ وقت فکر مند اور متحرک رہے۔ جبکہ دوسری طرف، اس کا ذہن کمال پسندی کے اس اعلی ترین ربانی معیار سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، جو جنت کی کامل اور لا زوال دنیا سے کم تر یا اس کے سوا کسی بھی دوسری شئے پر اسے قانع ہونے نہیں دیتا۔ یہ ذہنی رجحان عملاُ اسے اپنی ہر خوبی میں خامی کا متلاشی اور اپنے ہر خوب کو مسلسل خوب تر دیکھنے کا آخری حد تک حریص بنادیتا ہے۔ اس طرح توبہ و استغفار کا عمل ایک سچے مومن کی زندگی میں کبھی جمود یا ٹھراؤ آنے نہیں دیتا۔ بلکہ وہ ایک ایسے “روحانی ایندھن” کا کام کرتا ہے جو بیک وقت اسے ربانی بصیرت کی روشنی بھی عطا کرے جس میں وہ کھرا اور کھوٹا اور صحیح اور غلط کو پہچان لے؛ نیز اسی کے ساتھ ایسی خود کار قوت محرکہ بھی فراہم کرے جو اسے خدا کی رضا اور جنت تک پہنچانے والی صراط مستقیم پر تا عمر رواں دواں رکھے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۱۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

۱-“اپنا حساب خود لے لو؛ قبل اس کےکہ تم سے حساب لیا جائے؛ اور اپنے عمل کو خود تول لو؛ قبل اس کے کہ اس کو تمہارے لئے تولا جائے”۔

۲-“اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھے میری خامیوں کا تحفہ دے” (یعنی میری کمزوریوں سے مجھے خبردار کرے تا کہ میں اس کو دور کرکے خود کو مزید بہتر بنا سکوں)۔

ایک سچے مومن کی شخصیت کی امتیازی خصوصیت کیا ہے؟ اس کی بہترین ترجمانی حضرت عمر (رض) کے مذکورہ بالا حکیمانہ اقوال میں موجود ہے۔ وہ ہے: مسلسل اپنا محاسبہ کرنا، اپنے ہر عمل کا، خواہ بظاہر وہ اچھا دکھائی دے، بے لاگ تنقیدی جائزہ لیتے رہنا تاکہ آپ خود فریبی اور خود پسندی کی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکیں اور اس سلسلہ میں اپنے کمالات اور خوبیوں سے زیادہ اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو ٹٹولنا تاکہ آپ دنیا و آخرت میں گرفت ہونے سے پہلے ان کا ہر ممکن تدارک اور ازالہ کر سکیں۔

ایسی زندہ ضمیر اور ربانی معیارِ کمال کی جستجو میں سرگرمِ عمل ایمانی شخصیت، کسی روایتی درسگاہ یا خانقاہ میں پیدا نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ گہرے شعور و ادراک کی سطح پر ہمہ وقت دہکنے والی توبہ و استغفار کی بھٹی میں برسہا برس تپ کر بنتی ہے۔

————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۱۱ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا

ترمذی کی ایک روایت کے مطابق عقبہ بن عامر (رض) نے رسول اللہ (صلعم) سے پوچھا کہ:”نجات کیا ہے؟”، آپ (صلعم) نے فرمایا:” اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو، اپنے گھر میں رہو، اور اپنی خطاؤوں پر رویا کرو” ((عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قلت يا رسول الله ما النجاة؟، قال صلى الله عليه وسلم [أمسك عليكَ لسانكَ وليَسعْـكَ بَيتـُك وابكِ على خطيئتكَ]. رواه الترمذي))

یہ حدیث موجودہ دنیا میں امن و آشتی اور آخرت میں ابدی نجات اور سلامتی پانے کا مختصر مگر مفید ترین فارمولا پیش کرتی ہے؛ جو شاید ماضی سے زیادہ آج کے پُر فتن دور کے انسانوں کے لئے مشعل راہ بلکہ ایک نسخہ کیمیاء کی حیثیت رکھتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے مفہوم کو گہرائی سے سمجھا جائے اور پھر اس پر سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۱۲ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

مسند احمد اور البیہقی کی ایک روایت کے مطابق، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”النَّدَمُ تَوْبَةٌ ” یعنی ‘ندامت ہی توبہ ہے’۔

گناہ یا غلطی پر ندامت اور شرمندگی کا احساس ، در اصل انسانی فطرت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں نفس لوامہ ہے جو انسان کی صلاح و فلاح کا واحد سب سے طاقتور وسیلہ ہے ۔اگر وہ زندہ اور بیدار ہو تو کسی گناہ یا غلطی کے سر زد ہوتے ہی وہ اندر سے انسان کو سخت ملامت کرتا ہے؛ جو شدید ندامت اور شرمندگی کی شکل میں اس کے ذہن پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ اسے ہر طرف اپنی ذلت اور ہلاکت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ عاجزانہ خدا سے مسلسل توبہ و استغفار کرنے لگتا ہے، نیز اس کے لازمی تقاضہ کے طور پر وہ ایک طرف اپنی غلطی یا گناہ کے منفی اثرات کو حسنِ عمل سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف اس کے اندر دوبارہ اسے کبھی نہ کرنے کا سچا عزم ابھرتا ہے۔

مگر شاید انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنی انانیت اور خود پسندی (قرآنی اصطلاح میں نفس امارہ) کے تحت اکثر وہ ندامت اور شرمندگی کے اس فطری احساس کو دباتا یا چھپاتا ہے بلکہ اپنے ظاہری وقار کے تحفظ کی خاطر یا سطحی خاندانی رجحانات کی رو میں بہہ کر یا مروجہ سماجی اور ثقافتی روایات کے زیر اثر؛ وہ کسی غلطی کے اقرار یا گناہ پر اظہارِ ندامت کو اپنی “شان کے خلاف” ایک معیوب فعل یا بزدلی سمجھ لیتا ہے، اس لئے نفسِ لوامہ کے بالکل بر عکس، اس کا نفس امارہ اسے اپنی ہر غلطی اور گناہ کا خوبصورت جواز تلاش کرنے اور بسہ اوقات اس کو ناگزیر بتانے حتی کہ اسے ایک قسم کی ‘نیکی’ ثابت کرنے میں سرگرم کر دیتا ہے-اس طرح جو گناہ بر وقت سنجیدہ ندامت کے ذریعہ ‘توبہء نصوح’ بن کر اس کے ڈگمگاتے قدموں کو خدا کی صراطِ مستقیم پر جما دیتا، وہ “گناہ پر دانستہ اصرار” کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان بتدریج صراطِ مستقیم سے بھٹک کر خدا کے غضب کی راہ پر چل پڑتا ہے، پھر شیطان ایسے شخص کو اپنے جھوٹے بھرم اور خود فریبی کے جال سے نکلنے نہیں دیتا بلکہ اپنی وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ گناہوں کے بارے میں اس کی بے حسی اور ڈھٹائی کو بڑھاتا رہتا ہے تا کہ وہ کبھی آدم کی طرح سچی توبہ و استغفار کی توفیق نہ پا سکے۔ غالب کا یہ شعر اسی “شیطانی مزاج” سے مغلوب انسان کی تصویر کشی کرتا ہے:

نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد

یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

یاد رکھئیے، خدا کی داد و بخشش، کردہ یا ناکردہ گناہوں کی حسرت پر نہیں؛ بلک سچی ندامت پر ملتی ہے۔ اسی سچی ندامت کے احساس کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کے لئے ایک اور حدیث میں اہل ایمان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ: “اپنے گناہوں پر رویا کرو”۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۱۳ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۱)

ترمذی کی ایک روایت کے مطابق عقبہ بن عامر (رض) نے رسول اللہ (صلعم) سے پوچھا کہ:”نجات کیا ہے؟”، آپ (صلعم) نے فرمایا:” اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو، اپنے گھر میں رہو، اور اپنی خطاؤوں پر رویا کرو”۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، مذکورہ حدیث موجودہ دنیا میں امن و آشتی اور آخرت میں ابدی نجات اور سلامتی کا ایک نہایت سادہ عملی فارمولا پیش کرتی ہے؛ جو ایک با مقصد انسان کے لئےہر زمانے میں، بالخصوص آج کے پُر فتن دور میں نسخہ کیمیاء ہے۔ اس فارمولے کے تینوں نکات گویا سنگ میل ہیں، جو ایک سچے تائب اور جنت کے طالب کو صراطِ مستقیم سے بھٹکنے نہیں دیتے اور ان کی مدد سے وہ اپنے ماحول کے پُرکشش تماشوں سے بچتے ہوئے اپنی اخروی منزلِ مقصود کی سمت یکسوئی کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے۔یہاں اس کے ہر نکتے کی مختصر تشریح کی جاتی ہے:

۱-“اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو”:- اس کا مطلب سادہ طور پر صرف چپ رہنا نہیں، بلکہ زبان یا الفاظ کا “ذمہ دارانہ” استعمال ہے۔ “زبان”، انسان کی سوچ، اس کی نیت اور ارادہ، اور اس کے تخیلات، جذبات اور احساسات کی ترجمان بھی ہے اور بیک وقت ان کو خوبصورت اور پُر فریب اور گمراہ کن الفاظ کے پردے میں چھپانے کا ذریعہ بھی۔ اس کا ذمہ دارانہ استعمال، جہاں فرد اور سماج اور وسیع تر انسانیت کے لئے فائدہ مند ہے؛ وہیں اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہر ایک کے لئے بے پناہ حد تک نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔ اسی لئے قرآن و حدیث کی رو سے قول اور فعل دونوں کو خدا کی میزان میں یکساں طور ہر قابلِ ثواب یا قابلِ عذاب بتایا گیا ہے۔ توحید اور شرک، محبت اور نفرت، تجارت اور سیاست، دوستی و دشمنی جیسے شخصی تعلقات، نکاح و طلاق جیسے خاندانی روابط، اور امن و جنگ،جیسے قومی اور بین اقوامی معاملات وغیرہ وغیرہ؛ زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے اندرونی ارادہ و اذعان کا پہلا اظہار زبان (قول) سے ہوتا ہے اور پھر وہ اس کی نیت اور خارجی حقیقت کے ساتھ مطابقت یا عدم مطابقت کے تناسب سے، اچھے اور برے فعل، یا مفید اور مضر سرگرمی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ہر نیکی یا بدی کا بیج، پہلے فکر اور خیال اور سوچ اور نیت اور آرزو بن کر انسانی ذہن میں پنپتا ہے پھر انسان اسے اپنے قول اور فعل کے ذریعہ پروان چڑھاتا ہے۔لہذا انسان اگر “زبان” اور “الفاظ” کے بارے میں اپنی جوابدہی اور ذمہ داری کا حقیقی احساس کر لے تو وہ حد درجہ محتاط ہو جائے-خصوصاً آج کے دور میں جبکہ جدید ذرائع ابلاغ نے “زبان” کے منفی یا مثبت دائرہ اثر کو انتہائی غیر محدود اور ناقابلِ انضباط بنا دیا ہے۔ مثلاً کسی ملی یا قومی معاملہ میں ایک غلط رائے یا فتوی محض ایک فرد یا چند افراد کو نہیں بلکہ لاکھوں اور کروروں انسانوں کی گمراہی اور ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے، جس کا تدارک کرنا شاید کئی صدیوں اور نسلوں میں بھی ممکن نہیں۔

“اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو”۔۔۔اس نکتہ کا سب سے زیادہ پُر حکمت اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ نفسیاتی اور عملی دونوں اعتبار سے انسان صرف ‘زبان’ اور ‘قول’ پر ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ وہ اپنے ذہن میں ابھرنے والے قول کے محرکات (فکرو خیال، نیت اور جذبات وغیرہ) پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا نہ ہی زبان سے نکلے ہوئے اقوال پر مترتب ہونے والے افعال اور ان کے نتائج اس کی دسترس میں ہوتے ہیں۔اسی بنا پر اسلام نے “زبان” کے صحیح یا غلط استعمال اور بالآخر اس کے متعلقہ اچھے یا برے اثرات کے لئے ہر انسان کو مکمل طور پر جوابدہ اور ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس کو اپنے قابو میں رکھنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ چنانچہ سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 70 میں اہل ایمان کو “قول سدید” کا حکم دیا گیا ہے، یعنی زبان سے صرف ایسی بات کہنا جو آپ کی نیت اور ارادہ کا سنجیدہ بیان ہو اور جو اس کے مطابق جلد یا بدیر خارجی دنیا میں حقیقی عمل یا مثبت واقعہ بن سکے جس پر بالآخر آپ کو اجر ملے گا۔ دوسری طرف سورہ الصف کی آیت (2-3) میں “زبان” کے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے اہلِ ایمان کو کہا گیا ہےک:”ایسی بات کیوں کہتے ہو جسے کرتے نہیں، یہ خدا کی نظر میں بہت زیادہ ناگوار امر ہے کہ تم وہ بات کہو جس کو کرتے نہیں”۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۱۴ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۲)

۲-“اپنے گھر میں رہو”۔۔۔یہاں “گھر” سے مراد بنیادی طور پر وہی جگہ ہے جہاں آدمی تنہا یا اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتا ہے۔ البتہ اس کے توسیعی مفہوم میں عام رہائش گاہ کے ساتھ آدمی کا دائرہ اختیار و نفوذ (area of capacity & influence) بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ غالباً یہاں “اپنے گھر میں رہو” کے الفاظ سے روزمرہ زندگی میں اسی حکمت عملی کو اپنانے کی تلقین مقصود ہے جو حضرت موسی (۴) نے بنی اسرائیل کو اس طرح کی تھی کہ “اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو”(سورہ یونس، آیت 87) یعنی اپنی توجہ اور سرگرمیوں کا مرکز، خدا پرست، با مقصد اور آخرت پسند گھرانے اور خاندان کی تعمیر کو بناؤ۔ صالح افراد کے ذریعہ صالح خانوادے اور صالح خانوادوں کے ذریعہ صالح معاشرہ اور صالح قوم۔ یہ ہے انسانی اصلاح اور تعمیر و ترقی کا پیغمبرانہ فریم ورک۔

زمانی فرق کو ملحوظ رکھا جائے تو اپنی توجہ، توانائی اور سرگرمی کا مرکز و محور اپنے “گھر” اور توسیعی معنی میں اپنے “دائرہ اختیار و نفوذ” کو بنانا، بیک وقت انتہائی دانشمندی اور اعلی درجہ کی شائستگی کی علامت ہے۔ جو مرد یا عورت اپنے گھر اور دائرہ اختیار و نفوذ سے باہر کے معاملہ میں جتنی زیادہ دلچسپی لے گا اتنا ہی وہ اپنے گھر اور دائرہ اختیار و نفوذ کے اندر اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے میں کوتاہ یا ناکام ثابت ہو گا اور اس سے بڑی نادانی کی بات اور کوئی نہیں۔ کیونکہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایسا شخص اکثر حقیقت کی دنیا میں عملاً اپنے “گھر” کے “اندر” اور “باہر”، دونوں ہی جگہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اپنے”خارجِ استطاعت” دائرہ میں داخل ہوتے ہی آدمی اپنے “داخلِ استطاعت” دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے اور بالآخر دونوں جگہ اس کا اثر و نفوذ کم یا بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ مختلف تاریخی و تمدنی اسباب کے نتیجہ میں موجودہ دور آخری حد تک انفرادیت پسندی اور دوسروں کے معاملات میں “عدم مداخلت ” کا زمانہ ہے۔ اس طرح “اپنے گھر میں رہو” کا اصول زمانی شائستگی کے برتر معیار سے ہم آہنگ بھی ہے۔ تیز رفتار مواصلات اور فوری کمیونیکیشن کے ترقی یافتہ وسائل نے ساری دنیا کو سمیٹ کر نہ صرف ایک ‘گلوبل ویلیج’، بنا دیا ہے، بلکہ تقریباً ہر گھر کو ایک “گلوبل ہاؤس” میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ ایک با مقصد اور خدا شناس انسان کے لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اس پیغمبرانہ حکمتِ عملی کے مطابق اپنے “گھر” اور “دائرہ اختیار و نفوذ” میں رہتے ہوئے بھی اپنے وسیع تر خاندان، معاشرہ اور انسانی برادری کے ساتھ خوش گوار تعلقات استوار رکھے، ان کی حتی الامکان خبر گیری اور حسب استطاعت دستگیری کرے اور رفاہ عام اور اصلاح و دعوت کے کام میں اپنا مؤثر کردار بھی ادا کر سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۱۵ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۳)

۳-“اپنی خطاؤوں پر رویا کرو”۔ اس نکتہ کی تشریح مسند احمد کی روایت “الندم توبة” یعنی ندامت ہی توبہ ہے کے ذیل میں ہو چکی ہے (ملاحظہ ہو، رمضان ڈائری، بروز اتوار، ۱۲ جون، ۲۰۱۶)۔ تاہم یہاں مزید چند نازک پہلوؤں کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

“خطاؤوں پر رونا” در اصل شرمندگی اور ندامت کا سنجیدہ احساس کرنے کا نام ہے جو اکثر آنکھوں سے آنسو بن کر بے اختیار چھلک پڑتا ہے۔ تاہم اصل مطلوب سچا احساس ندامت ہے، خواہ اس پر کبھی رونا آئے یا نہ آئے۔ یہ احساسِ ندامت کوئی سلبی (passive) عمل نہیں، بلکہ اپنے ضمیر یا نفس لوامہ کو زندہ اور بیدار رکھنے کا واحد مؤثر ترین وسیلہ ہے جس کے براہ راست مثبت نتیجہ کے طور پر ایک خدا شناس آدمی کے اندر یہ صحت مند جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن عمل اور نیکیوں میں مسلسل کمیاتی اور نوعیاتی اضافہ کا حریص بن کر اپنی خطاؤوں کی تلافی کرتا رہے نیز اپنے آپ کو وہ قساوتِ قلب، غفلت اور اخلاقی بے حسی کے مہلک روگ سے محفوظ رکھے تاکہ آئندہ اس قسم کی دوسری خطائیں اس سے سرزد نہ ہوں۔

اپنی خطاؤوں پر رونا بمعنی نادم اور تائب ہو کر اس کی تلافی کیے لئے مثبت عمل میں ہمیشہ سرگرم رہنا، “آدمیت” ہے، جبکہ اس کے بر عکس “ابلیسی یا شیطانی” ماڈل ہے: اپنی خطاؤوں اور خامیوں کا خوبصورت جواز تلاش کرنا؛ اپنی سوچ اور عملی روش پر کبھی نظر ثانی نہ کرنا بلکہ مختلف دینی ودنیوی تنبیہات کے باوجود انھیں بدلنے کی سنجیدہ کوشش کے بجائے خود ساختہ بہانوں اور جھوٹے عذر کی بنیاد پر اپنے آپ کو معصوم اور مظلوم ثابت کرنا۔

قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ انھیں دو متضاد کرداروں کو واضح کرنے کے لئے بار بار بیان ہوا ہے تاکہ ہر انسان خدا کی اسکیم اور اس کی نظر میں مقبول (آدمی) اور غیر مقبول (ابلیسی) کردار سے اچھی طرح با خبر ہو جائے اور اس زندگی میں اپنی آزادی سے جس کردار کو چاہے اپنائے تاکہ اسی کے مطابق اسے آخرت کی دنیا میں جنت یا جہنم کا مستحق قرار دیا جائے۔ جنت اس کے لئے ہے جو آدم کی طرح بلا بحث اپنی خطا کی پوری ذمہ داری قبول کرے، اس پر شرمندہ اور نادم ہو کر خدا سے سچی توبہ کرے اور نیک عملی کو اپنا نصب العین بنائے۔ جبکہ جہنم اس کے لئے ہے جو ابلیس کی طرح اپنی خطا کو اپنا کمال یا دوسروں کا ظلم بتائے اور پھر خطا در خطا کا مرتکب ہوتا چلا جائے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۱۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ اور جدید علم نفسیات

توبہ اور اس پر مبنی ذہنی تصورات اور عملی سرگرمیوں (جیسے گناہ پر ندامت و شرمندگی، خدا کی پکڑ کا ڈر، آخرت کا ابدی عذاب اور اس سے بچنے کے لئے کفارہ وغیرہ) کو جدید علم نفسیات میں خلشِ گناہ (Guilt) کا نام دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، حتی کے سگمنڈ فرائڈ اور اس کے نظریۂ لا شعور پر مبنی وسیع و عریض لٹریچر میں، ضمیر یا خدا یا والدین یا کسی اور برتر مذہبی یا اخلاقی اتھارٹی کے خوف کو اکثر دماغی بیماریوں(mental disorders)، نفسیاتی الجھنوں (complex)، متعدد جسمانی عوارض اور مجرمانہ رجحانات(criminal tendencies) کا اصل سبب بتایا گیا ہے۔ کارل مارکس نے اگر مذہب کو ‘افیون’ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا تھا تو فرائڈ اور اس کے ہمنوا جدید ماہرینِ نفسیات نے مذہبی عقائد و اعمال کو ایک قسم کا ‘جنون’ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کم و بیش موجودہ زمانے کا ہر تعلیمی، سماجی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی ادارہ ان نظریات سے متاثر ہے اور ان کے تصوراتی ڈھانچہ اور عملی نظام پر ان کی براہ راست یا بالواسطہ گرفت ہے۔ ناول، ڈرامے، فلم انڈسٹری اور فنون لطیفہ کے تمام شعبوں پر ان کی چھاپ شاید سب سے زیادہ گہری اور ہمہ گیر ہے۔

یہاں ان کے تفصیلی تجزیہ یا تنقید کا موقع نہیں۔ مگر مختصراّ یہ کہنا ضروری ہے کہ تاریخ، علم الانسان اور انسانی نفسیات کا گہرا علمی مطالعہ بر عکس طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہب انسان کی ایک فطری ضرورت ہے، جس کی صحیح تسکین کے بغیر انسان کو حقیقی معنوں میں صحت مندی اور سعادت مندی کا تجربہ نہیں ہو سکتا۔

جو چیز انسان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لئے نقصان دہ اور تباہ کن ہے وہ فی نفسہ “مذہب” نہیں، بلکہ مذہب کی غیر مستند شکلیں ہیں جو غیر مشتبہ وحی و الہام کے بجائے انسانی توھمات، دیو مالائی قصوں اور خود ساختہ فلسفوں کی بنیاد پر قائم ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ گناہ پر “ندامت اور شرمندگی” کا سچا احساس کسی بھی درجہ میں انسان کے لئے مضر نہیں، بلکہ اصل مضرت انگیز چیز ہے اس احساس کو دبانے یا اس سے بچنے کی کوشش میں خود گناہ کے گناہ ہونے کا آنکار کرنا، یا اس کو جواز کا رنگ دینا، یا اس کی ذمہ داری اپنے سوا کسی اور (ماحول، والدین، خاندانی و سماجی روایات، دوست یا دشمن، ظالم دنیا کے ناسازگار حالات، قسمت کی خرابی اور خدا کی نا مہربانی وغیرہ) کے اوپر ڈالنا ہے۔ کائنات میں اس مہلک رجحان کا بانی ابلیس ہے، جدید نفسیات کے بعض مذہب بیزار عناصر نے اسے محض سائنسی توجیہات کا پر فریب لبادہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔

“خلشِ گناہ یا گِلٹ” اگر حقیقی خوفِ خدا اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کا نتیجہ ہو تو وہ جتنا شدید اور گہرا ہوِگا، اتنا ہی انسان کی صلاح اور فلاح و سعادت کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔ پہلے انسان (آدم علیہ السلام) سے لے کر تاريخ کے ہر دور میں انبیاء و رسل اور دیگر صالحین، بلا استثناء عام لوگوں سے زیادہ “احساسِ خطا” اور “خوفِ خدا” میں جینے والے افراد تھے اور اس کے باوجود بلکہ اسی بنا پر ان کی شخصیت تمام نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک، ہر پہلو سے متوازن (balanced) اور زندگی کے مختلف مسائل اور چیلینجوں سے نہایت حکیمانہ انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی تھی نیز اکثر ظاہری شان و شوکت کے اسباب سے محرومی اور سخت مخالفت اور دشمنی کے ہجوم میں بھی وہ اپنے ذہنی سکون اور خود اعتمادی کو بحال رکھتے ہوئے اپنے اصولوں اور ترجیحات کے مطابق اپنے مقصدِ حیات کے لئے یکسو رہے۔اس قسم کی متوازن، یکجہت اور ہر طرح کے حوصلہ شکن اور نامساعد حالات کے سایہ میں اپنے مذہبی عقیدہ اور مقصدِ اعلی کے لئے تاعمر پوری دلجمعی کے ساتھ سرگرمِ عمل رہنے والی شخصیتیں، اس حقیقت کا تاریخی ثبوت ہیں کہ سچا مذہب در اصل انسان کی ہمہ جہتی صحت و سلامتی اور کامیابی و سعادت کا واحد سر چشمہ ہے اور اس سے انحراف، ہر قسم کی الجھنوں، پریشانیوں اور روحانی و اخلاقی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۱۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

‘احساسِ خطا’ – ایک شخصیت ساز عامل

جدید نفسیات کا یہ انتہائی پُر فریب نظریہ ہے جو ساری دنیا کے ذہین طبقوں پر چھایا ہوا ہے، کہ احساسِ خطا یا “خلشِ گناہ” (guilt) انسان کی عقلی و جسمانی صحت اور اس کی شخصیت کی متوازن نشوونما میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر، مذہبی عقائد یا اخلاقی قدروں کے حوالے سے کسی گناہ یا غلطی پر ملامت کرنا یا خدائی عذاب سے ڈرنا اور ڈرانا یا ندامت و شرمندگی وغیرہ کا اظہار کرنا، نام نہاد ماہرین کے بقول، مختلف قسم کے ذہنی اضطراب اور نفسیاتی الجھنیں پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے جو بالآخر اخلاقی انحراف سے لے کر جسمانی امراض اور بعض مجرمانہ افعال تک کے ارتکاب کا سبب یا محرک بن جاتی ہیں۔

مگر اس سلسلہ میں میری تحقیق اور غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ در حقیقت جو چیز انسان کے عقلی نشو و نما اور اخلاقی ارتقاء کی قاتل ہے وہ خود “احساسِ خطا’ یا ‘خلشِ گناہ’ نہیں؛ بلکہ اس سے بچنے یا اس پر پردہ ڈالنے کی مصنوعی کوشش ہے جو اپنے خود ساختہ بھرم یا ‘وقار’ یا وقتی مفاد کو بچانے کے لئے اکثر و بیشتر لوگ کرتے ہیں۔

احساسِ خطا فی نفسہ ایک فطری ردِ عمل ہے، جو گناہ یا غلطی سر زد ہوتے ہی ہر انسان کے اندر خود بخود ایسے ہی ابھرتا ہے جیسے آگ میں ہاتھ ڈالنے سے درد اور جلن کا احساس۔ اب اگر انسان اسے وقار اور بھرم اور انا کا مسئلہ نہ بنائے اور اپنی ساری توجہ اور توانائی بلا بحث اس احساس کے فطری تقاضے(مثلاً گناہ سے اجتناب، غلطی کی تلافی اور مغفرت طلبی وغیرہ) کے اوپر مرکوز کر دے؛ تو یہی احساسِ خطا سب سے بڑا شخصیت ساز عامل بن جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے انسان آدم (۶) کی زندگی میں ہوا اور اسی طرح تاریخ کے ہر دور میں آدم کے رول ماڈل کو اپنانے والے بے شمار سلیم الفطرت انسانوں نے اپنی امتیازی شخصیتوں اور میدانِ حیات میں اپنی ہمہ جہتی کامیابیوں کے ذریعہ بار بار ثابت کیا ہے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۱۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

اسلامی تاریخ میں عمر بن عبد العزیز، اس حقیقت کی ایک لا زوال مثال ہیں کہ سچا ‘احساسِ خطا’ (یا خلشِ گناہ=Guilt)، جو آخرت میں خدا کی باز پُرس سے ڈر کا نتیجہ ہو؛ وہ انسانی شخصیت کو تمام نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک و صاف ‏(complex free) رکھنےاور اسے ہر قسم کے اعلی ربانی اوصاف اور روحانی اور اخلاقی کمالات کی جستجو میں ہر لحظہ بیکَل اور سرگرمِ عمل بنانے کا سب سے طاقتور محرک ہوتا ہے۔

البخاری کی التاریخ الکبیر (جلد سوم، مطبوعہ دائرہ معارف عثمانیہ، حیدرآباد، صفحہ ۲۰۸) کے مطابق، عمر بن عبدالعزیز جب مدینہ کے گورنر ہوا کرتے تھے تو اموی خلیفہ الولید بن عبدالملک کے حکم سے انہوں نے وقت کے معروف عالم اور فقیہ خُبیب بن عبد اللہ بن الزبیر کو سو کوڑے لگوائے اور سخت سردی میں انھیں رات بھر کھڑا رکھا؛ جس کی وہ تاب نہ لا سکے اور چل بسے۔

خبیب کی موت اگرچہ بظاہر ایک اتفاقی واقعہ تھا، نیز ان کے خلاف یہ تادیبی کارروائی خلیفہ وقت کے براہ راست حکم کی تعمیل میں کی گئی تھی جو اموی خاندان کے بارے میں ان کی جارحانہ تنقید سے سخت ناراض تھا۔ مگر عمر بن عبد العزیز نے ایک شریکِ کار ہونے کی حیثیت سے اس “اجتہادی خطا” اور اس کے تلخ نتیجہ کی اخلاقی ذمہ داری کسی بحث یا توجیہ یا تبریر (justification) کے بغیر مکمل طور پر اپنے اوپر لے لی اور وہ اسے کبھی فراموش نہ کر سکے۔ اس واقعہ کے بعد جب کوئی شخص ان کے کسی بڑے نیک کام یا غیر معمولی دینی اور انسانی خدمت کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں نجات کی بشارت دیتا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ:”نجات کیسی، جبکہ خبیب راستہ میں حائل ہیں!”(فکان عمر إذا قيل له: أبشر. قال: كيف بخبيب على الطريق!؟)۔

گویا اپنی “خطا” کی سنگینی پر گہری ندامت کے احساس اور اس پر آخرت کی پکڑ سے بچنے کی سچی تڑپ نے انہیں بعد کے مرحلہ حیات میں ہر طرح کی انانیت، خوش فہمی اور خود پسندی کے فریب سے بچایا اور اس کی ہر ممکن تلافی یا کفارہ کی خاطر انھیں تا عمر خوب سے خوب تر کی مثبت تلاش میں ہمہ وقت متحرک رکھا، جس نے بالآخر انھیں مسلمہ طور پر “پانچواں خلیفہ راشد” اور پہلا “مجددِ اسلام” بنا دیا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۱۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

موجودہ زمانے کے نام نہاد سیکولر کلچر کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ روزمرہ معاملات میں ہر چھوٹی بڑی بات پر اپنی غلطی کو کسی تحفظ کے بغیر فورّا مان لینا اور متعلقہ فرد یا ادارہ یا گروہ سے کھلے لفظوں میں معافی مانگنا، شائستگی اور پختگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ سرکاری دفتروں سے لے کر بازاروں تک، ہر جگہ اس قسم کے الفاظ بار بار سننے کو ملتے ہیں:

میں شرمندہ ہوں =I am sorry

میں مخلصانہ معذرت خواہ ہوں=I sincerely apologize

میں آپ سے معافی مانگتا ہوں=I beg your pardon

میں غلطی پر تھا= I was wrong

در اصل ساری غلطی میری ہی تھی= In fact, it was all my fault وغیرہ۔۔

کاروبار اور تجارت اور سیاست وغیرہ کیے میدان میں تو ‘معافی مانگتا’ ایک مستقل آرٹ بن گیا ہے جس کے لئے کارندوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ آفسوں کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ‘گاہک ہمیشہ درست ہوتا ہے’ (Customer is always right)، بالفاظ دیگر، اگر کبھی کوئی اختلافی صورتِ حال پیدا ہو جائے، تو کمپنی کے ملازم کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ کسٹمر سیے تکرار کرے؛ بلکہ اسے اپنے آپ کو غلط مان کر، معذرت کے ساتھ، کسٹمر کے حسبِ منشا اس معاملہ کا تصفیہ کرنا چاہئے۔

جدید کلچر کا یہ عجیب تضاد ہے کہ اس میں “انسان” کو راضی رکھنے اور وقتی کاروباری مفاد کے تحفظ یا تجارتی “نقصان” سے بچنے کی خاطر بلا بحث اپنی غلطی مان لینے اور معافی مانگنے کو بہت بڑا ہنر اور “مہذب دنیا” میں کامیابی و ترقی کا راز بتایا جاتا ہے۔مگر اس کے علمبرداروں کی نگاہ میں بعینہ وہی رویہ جب خالص دینی عمل (توبہ و استغفار) کی شکل اختیار کرے؛ جس کا محرک “خالقِ انسان” کو راضی کرنا اور آخرت کے “ابدی نقصان” سے بچنا ہو؛ تو وہ نفسیاتی الجھنوں کا باعث ایک فعلِ معیوب اور انسانی شخصیت کے صحت مند ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتا ہے!!

لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ آج عالمی کاروبار اور بین اقوامی تعلقات کی سطح پر چھایا ہوا یہ “معافی کلچر=sorry culture”، تمام انسانیت کے اوپر خدا کا اتمامِ حجت ہے۔ کیونک خدا کو انسانوں سے یہی “معافی کلچر=sorry culture” دینی سطح پر توبہ و استغفار کی صورت میں مطلوب تھا تاکہ وہ آخرت میں اس کی خوشنودی اور اس کے ابدی عذاب سے نجات کے مستحق ٹھہریں۔مگر انسانوں نے “خالقِ انسان” اور اس کے ساتھ حسنِ معاملہ کی اتنی پرواہ بھی نہ کی جتنی انہوں نے “انسان” کے معاملہ میں کی۔ اپنی انانیت اور عاجلہ پسندی کی بنا پر اس “معافی کلچر” کو انہوں نے صرف دنیوی میدان میں پورے جوش اور اخلاص سے اپنایا اور آخرت کے بارے میں بالکل بے حس بنے رہے۔

خود فریبی اور آخرت فراموشی پر مبنی اکثر انسانوں کی اسی مہلک ذہنی و عملی روش پر سورہ الکھف کی آیات 103-104 میں یوں تبصرہ کیا گیا ہے:

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا ؛ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا

(کہو: کیا ہم تمہیں بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والے کون ہیں؟ وہ جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں کھو کر رہ گئیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۲۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“شکریہ کلچر” (۲/۱)

“معافی کلچر=Sorry Culture” کی طرح، جدید عالمی تہذیب کا ایک اور نمایاں پہلو وہ ہے جسے “شکریہ کلچر= Thank you Culture” کہہ سکتے ہیں، جس کے لفظی اور غیر لفظی مظاہر روزانہ ہر جگہ اور ہر سطح پر بار بار دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ تجارت اور بزنس کے میدان میں “شکرگزاری” کی اہمیت اور ضرورت ‘معافی مانگنے’ سے بھی کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ سیلزمین اور ملازمین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شو روم یا کمپنی میں آنے والے ہر کسٹمر اور وِزِٹر کو مسکراتے ہوئے ‘تھینک یو’ کہہ کر رخصت کریں؛ چاہے اس نے خریدی یا کوئی اور لین دین کا معاملہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ “غیر مشروط شکر گزاری” کا یہ منظر دیکھ کر کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ اس پالیسی کو شاید میرے محلے کے تجربہ کار گشتی فقیر بھی اپنے پیشہ کے لئے بہت مفید سمجھتے تھے، اسی لئے وہ اپنی صداؤوں کے شروع اور آخر میں قدرے زیادہ اونچے سُر میں یہ جملہ ضرور دہراتے :”جو دے اس کا بھی بھلا؛ جو نہ دے اس کا بھی بھلا!”

یہ کہنے کی ضرورت نہیں، کہ اپنی مروجہ عالمی شکل میں یہ ‘شکرگزاری’ محض ایک سماجی اور کاروباری چلن ہے؛ جسے انسانوں نے باہمی تعلقات اور مشترک دنیوی مفادات کے تحفظ کے لئے ظاہری طور پر اپنا لیا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ممنونیت اور احسان شناسی کے لطیف احساسات کا وہ اظہار جو دینی واخلاقی اعتبار سے ایک انسان کو اپنے محسن کی نسبت سے کرنا چاہئے۔ غالباً اس سطحی کاروباری رواج کے اثر سے مذہب پسند طبقہ بھی محفوظ نہیں؛ جس کے افراد اگر چہ صبح و شام ‘الحمد للہ’ اور ‘سبحان اللہ’ کا وظیفہ پڑھتے نظر آتے ہیں مگر اپنے محسنِ اعلی اور منعمِ حقیقی رب العالمین کے لئے مطلوب حمد و شکر کی روح و سے وہ بھی اتنا ہی خالی ہیں جتنا عام دنیا دار انسانوں کی اکثریت۔

سچ تو یہ ہے کہ شیطان کی پُر فریب وسوسہ اندازیوں کا شکار ہو کر(سورة الأعراف، آيت ١٧)، انسان نے اپنے منعمِ حقیقی کا سچا شکر ہمیشہ بہت دہی کم کیا ہے ؛جبکہ وہی خدا کو اس سے ہمیشہ سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن نے انسان کو بالعموم اپنے پروردگار کے حق میں بے حد نا شکرگزار قرار دیا ہے(سورة العاديات، آيت ٦؛ سورة سبأ، آيت ١٣)۔

کافی غوروفکر کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اپنے محسنِ اعلی کی ناشکرگزاری کی اس عام انسانی روش کی وجہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہیں کہ رب العالمین کو جو “حمد و شکر” مطلوب ہے اس کی کاشت کاری “صبر” کی زمین میں ہوتی ہے۔ جو شخص ہر حال میں رب کی خاطر “صابر” نہ ہو؛ وہ کسی بھی حال میں رب کا سچا “شاکر” نہیں ہو سکتا۔ صبر اور شکر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے کی روحِ رواں ہیں۔ ایک دوسرے کے بغیر دونوں بے معنی اور بے نتیجہ۔ اس لئے “شاکر” ہونے کی خاص پہچان یہ ہے کہ انسان “شاکی” نہ ہو، نہ شدتِ حالات کا شاکی، نہ آلامِ روزگار کا۔ شکایت، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی جائز اور معقول ہو، بے صبری ہے اور بے صبری، رب العالمین پر “بے اعتمادی” کے مرادف؛ نیز اس کی مطلوب حمد وثناء اور شکر وسپاس کے لئے زہرِ ہلاہل ہے۔ اسی لئے قرآن میں خدائی تجلیات اور نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کئی مقامات پر کہا گیا ہے کہ ان میں اس کے لئے نشانیاں ہیں جو بیک وقت “صبار شکور” یعنی ہمیشہ ‘صبر۔شکر’ کرنے والا ہے(سورہ سبأ، آیت ۱۹؛ سورہ لقمان، آیت ۳۱؛ سورہ الشوری، آیت ۳۳)۔ اسی طرح پیغمبر کو ہر قسم کی ناخوشگوار حالت میں صبر کرتے ہوئے؛ صبح و شام اپنے رب کی حمد اور تسبیح میں سرگرم رہنے کی ہدایت بار بار دی گئی (سورہ طٰہ، آیت ۱۳۰؛ سورہ ق، آیت ۳۹)۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۲۱ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“شکریہ کلچر” (۲/۲)

قرآن کا آغاز “الحمد للہ رب العالمین” سے ہوتا ہے یعنی ہر طرح کی تعریف وستائش اور شکر و سپاس کے لطیف جذبات و احساسات اور والہانہ کلمات کا اصلی مستحق وہ خدا ہے جو ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ قرآن کے مطابق (سورة الإسراء، آيت 44); زمین و آسمان کی ہر جاندار اور غیر جاندار مخلوق ہمہ وقت خدا کی تسبیح اور حمد میں مصروف ہے اور یہی “حمدِ رب” وہ آخری نغمہ ہے جسے آخرت کی ابدی دنیا میں تمام فرشتے جنّٓتی انسانوں کے ساتھ مل کر وہاں کی لا فانی ربانی نعمتوں کے سائے میں ہمیشہ ہمیش گاتے رہیں گے(سورة الزمر، آيت 75)۔ گویا یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ “قرآنی کلچر” ایک لفظ میں “حمد کلچر” یا “شکریہ کلچر” ہے۔

تاہم خدا کی مطلوب حمد اور شکر گزاری محض یہ نہیں ہے کہ آپ کو جب ایک خوشی کا تجربہ ہو، یا حسبِ توقع یا خلافِ توقع آپ کی آمدنی میں اچانک اضافہ یا پوزیشن میں غیر معمولی ترقی یا کوئی اور ظاہری نعمت حاصل ہو جائے تو آپ کیف و سرور اور بسہ اوقات فخر و ناز کے ساتھ “الحمد للہ” اور “اللہ ترا لاکھ لاکھ شکر ہے” جیسے الفاظ زبان سے بے ساختہ دہرانے لگیں- لیکن جب صورتِ حال اس کے برعکس ہو تو آپ سراپا غم و حسرت اور افسردگی و مایوسی کی تصویر بن جائیں اور قولاً یا فعلاً حالات کے خلاف شکایت و احتجاج کرنے لگیں، جو خدا کے فیصلہ پر اعتراض کے ہم معنی ہے۔

جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا گیا، سچی حمد اور شکر گزاری کی کسوٹی سچا “صبر” ہے۔ یعنی آپ کے خارجی حالات چاہے خوشگوار ہوں یا ناخوشگوار، مگر خدا کی نسبت سے آپ کی ذہنی کیفیات، اندرونی احساسات نیز آپ کے قولی اور عملی رویے میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ ہر طرح کے تلخ و شیریں احوال و ظروف میں جب آپ کے خیالات اور آپ سے صادر ہونے والے کلمات اور حرکات و سکنات میں وہی ربانیت اور آخرت پسندی کا رنگ ہو، آپ ہر صورتِ حال میں یکساں طور پر خدا کے ممنون اور محتاج بندے بن کر اس کی رضا جوئی کی خاطر دوسروں کے ساتھ تواضع اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے رہیں؛ تب آپ کی حمد اور شکر گزاری ایک با معنی ‘عبادت’ بنتی ہے؛ ورنہ وہ ایک سطحی لفاظی پر مبنی سماجی عادت ہے یا ایک خود غرضانہ تجارت۔

اس اہم فیصلہ کن حقیقت کی طرف قرآن نے متعدد مقامات پر مختلف انداز سے توجہ دلائی ہے مثال کے طور ملاحظہ ہو: سوره الفجر، آیت ۱۵-۱۶؛ سورة المعارج، آيات ١٩-٢١؛ سورہ فصلت، آیت ۵۱؛ سورہ الإسراء، آیات ۸۳-۸۴، وغیرہ۔

خدائے رحمان و رحیم رات اور دن کی طرح، موجودہ دنیا میں ہر انسان کے اوپر کبھی اچھے اور کبھی بُرے حالات طاری کرتا ہے تاکہ وہ “صبر-شکر” کی دوگونہ صفات کا پیکر بن کر اگلی دنیا میں ابدی جنت کی شہریت حاصل کر سکے۔ یہ انسان کے حسنِ فہم اور حسنِ عمل، دونوں کا بڑا کڑا امتحان ہے مگر اس کا اجر بھی اتنا ہی بے حساب حد تک بڑا ہے۔ نوح (۴) کو قرآن میں “عبدًا شکورًا” یعنی بہت زیادہ شکرگزار بندہ کہا گیا ہے (سورة الإسراء، آيت ٣) کیونکہ ساڑھے نو سو سال تک انہوں نے اپنی قوم اور اپنے بعض اہلِ خانہ (بیوی اور ایک بیٹے وغیرھما) کی مخالفتوں اور ایذا رسانیوں پر صبر کیا۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنی روز مرہ عملی زندگی میں “عبدِ صبور” تھے اس لئے وہ “عبدِ شکور” بن سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۲۲ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

سید الاستغفار: ایک انقلابی تصور

صحیح البخاری میں شداد بن أوس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:” سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے:”اے اللہ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں؛ اور میں اپنی استطاعت کے بقدر تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو میں نے کی ہے اور میں تجھ سے اپنے اوپر تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں نیز میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں؛ لہذا تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کی بخشش کر سکے’۔ جو شخص پورے یقین کے ساتھ دن کے وقت ایسا کہے اور شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے اور جو شخص پورے یقین کے ساتھ رات کے وقت ایسا کہے اور صبح ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے”۔

((عنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضي اللَّه عنْهُ عن النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قالَ : « سيِّدُ الاسْتِغْفار أَنْ يقُول الْعبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لا إِلَه إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَني وأَنَا عَبْدُكَ ، وأَنَا على عهْدِكَ ووعْدِكَ ما اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ ما صنَعْتُ ، أَبوءُ لَكَ بِنِعْمتِكَ علَيَ ، وأَبُوءُ بذَنْبي فَاغْفِرْ لي ، فَإِنَّهُ لا يغْفِرُ الذُّنُوبِ إِلاَّ أَنْتَ . منْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِناً بِهَا ، فَمـات مِنْ يوْمِهِ قَبْل أَنْ يُمْسِيَ ، فَهُو مِنْ أَهْلِ الجنَّةِ ، ومَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وهُو مُوقِنٌ بها فَمَاتَ قَبل أَنْ يُصْبِح ، فهُو مِنْ أَهْلِ الجنَّةِ » رواه البخاري ))

یہ بظاہر چند الفاظ کا مجموعہ ہے، مگر اس میں تدبر کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلامی عقیدہ و عمل کے وہ تمام انقلاب آفریں عناصر اس میں مرتکز ہو گئے ہیں، جو ایک فرد کی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر اسے نیا ربانی انسان بنا دیتے ہیں:(۱)توحید کا اعلان، (۲) خالق کی حیثیت سے خدا کے ساتھ بندگی کے عہد و پیمان کا زندہ شعور اور اس کی ممکنہ ادائیگی کا عزم اور کوشش،(۳) اپنی بد عملی کی بنا پر عدمِ تحفظ کا احساس اور اس کے سنگین نتائج سے خدا کی پناہ مانگنا (۴)اعترافِ نعمت،(۵) اقرارِ گناہ اور (۶) اس بات کا پختہ یقین کہ گناہوں کی مغفرت اور ان کےمہلک نتائج سے حفاظت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔

یہ برتر حقائق جس انسان کے شعور و ادراک کی گہرائی میں اتر جائیں، وہ زبان سے ان کا اظہار کرنے کے بعد اگر حیاتیاتی سطح پر نہ مرے؛ تب بھی فکری اور عملی اعتبار سے گویا کہ اس کا سابقہ وجود مر جاتا ہے اور وہ از سرِ نو ایک ربانی پیکر میں ڈھل کر نمودار ہوتا ہے؛ جس کا نصب العین جنت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کا جسم گو اب بھی زمین پر رہتا ہے مگر اس کی روح جنت کی فضاؤوں میں بسیرا کرنے کے لئے ہمہ وقت بے قرار رہتی ہے اور بلا شبہ خدائے غفورو رحیم ایسے بندے کو اپنی مغفرت اور جنت سے محروم نہیں کرے گا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۲۳ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

زندگی: ایک انمول ربانی عطیہ

آپ اس وقت زندہ ہیں اور اس قابل ہیں کہ یہ سطریں پڑھ سکیں؛ یہی بذات خود نا قابلِ بیان حد تک عظیم الشان اور با معنی واقعہ ہے۔جس کے بارے آپ جتنا بھی لفظی و غیر لفظی تحیر و استعجاب اور تشکر و امتنان کا اظہار کریں؛ کم ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کا یک طرفہ فضل و کرم ہے کہ اس نے آپ کو وجود بخشا اور اپنی عظیم تخلیقی اسکیم میں آپ کو ایک ‘رول’ ادا کرنے کا موقع عطا کیا۔ نیز اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ آپ کی رہنمائی کا انتظام کیا، اس رہنمائی کے آخری مستند اور ناقابلِ تحریف متن کو قرآن کی صورت میں محفوظ کر دیا تاکہ آپ اپنا ‘مقررہ رول’ ٹھیک ٹھیک انجام دے سکیں اور بالآخر موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں جہنم کے گڑھے سے بچا کر جنت کے لا فانی نعمتوں بھرے باغات میں ہمیشہ کے لئے داخل کر دئیے جائیں۔

اس ضمن میں رب العالمین کی بے پناہ رحمت اور بے مثال عدل و انصاف کا ایک عجیب مظہر یہ بھی ہے کہ اس نے اگرچہ ایک انسان اور دوسرے انسان کو ظاہری شکل و صورت اور خارجی حالات کے لحاظ سے مختلف بنایا،؛ مثلاً کوئی کالا ہے تو کوئی گورا، کوئی امیر ہے تو کوئی غریب، کوئی صاحبِ جاہ و اقتدار ہے تو کوئی بے حیثیت اور کمزور، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کی رضا اور جنت تک پہنچنے کا راستہ بلا امتیاز سب کے لئے یکساں طور پر کھلا اور ہموار بنایا۔پھر اپنی تخلیقی اسکیم میں ہر ایک کی حیثیت و استطاعت کے دائرہ میں، سب کے لئے ایک ہی بنیادی ‘رول’ مقرر کیا اور وہ عبادت ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ”، سوره الذاريات، آيت، ۵۶) اسی کے ساتھ اس ‘رول’ کے رد و قبول کا معیار بھی سب کے لئے ایک ہی طے کیا اور وہ ہے تقوی۔ جو ایک ممکن الحصول اندرونی روحانی و اخلاقی صفت ہے اور ہر وقت ہر شخص کی دسترس میں ہے؛ نہ کہ محض چند افراد پر منحصر کوئی خارجی مظہر یا مادی طاقت: (“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”. سورة الحجرات، آيت، ١٣)-

اگر اس نقطہء نظر سے غور کریں؛ تو آپ سراپا عجز و نیاز بن کر اپنے خالق و مالک کی حمد و ثناء اور احسان مندی کے والہانہ احساسات میں ڈوب جائیں گے؛ کیونکہ آپ دیکھیں گے کہ اس وقت دنیا میں آپ جس جگہ اور جس حالت میں بھی اپنی زندگی گزار رہے ہیں؛ وہ ایک انمول ربانی عطیہ ہے؛ جو آپ کو ہر آنے جانے والی سانس کے ساتھ یہ بیش قیمت موقع فراہم کر رہا ہے کہ آپ اس زمین پر اپنے مقررہ رول (عبادت) کو ربانی معیار(تقوی) کے مطابق ادا کرنے کی اپنے بس بھر مخلصانہ سعی کریں، اور اس کے عوض خدا آپ کو جنت کے ابدی نعمت کدہ میں انبیاء و صدِّیقین اور شہداء و صالحین کے ساتھ رہائش کا شرف بخش دے(سورہ النساء، آیت ۶۹)۔

ایسی حالت میں یہ کیسی عجیب ہلاکت خیز نادانی ہے کہ اکثر انسان اپنی ساری “زندگی” خود “زندگی” کو بدلنے کی سعئِ لا حاصل میں گنوا ديتے ہیں؛ جبکہ جو چیز اصلاً انھیں بدلنی تھی اور جس کو وہ بدل سکتے تھے وہ “زندگی” نہیں بلکہ “زندگی” کے بارے میں ان کا تصور اور عملی روش تھی۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۲۴ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن: انسانیت کے لئے شفاء اور رحمت

آج سے ساٹھ برس قبل جون 1956 میں امریکی ماہرِ نفسیات مائک گورمین (Mike Gorman) کی ایک معرکۃ الآراء کتاب چھپ کر شائع ہوئی۔ جس کا نام تھا: “ہر دوسرا بستر= Every Other Bed”۔ اس کتاب میں طویل ریسرچ کے بعد اعداد و شمار کی روشنی میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ‘سائنسی، صنعتی، اقتصادی اور عسکری، ہر اعتبار سے دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے اسپتالوں میں ہر دوسرے بستر پر ایک ایسا شخص لیٹا ہوا ہے جسے کوئی حقیقی بیماری نہیں؛ بلکہ وہ محض ایک نفسیاتی مریض (psychiatric patient) ہے’۔

گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران، نہ صرف امریکہ، بلکہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں ذہنی و نفسیاتی مریضوں کی تعداد نیز ان کے درمیان خود کشی کرنے والے افراد کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے؛ چنانچہ اس کے تدارک اور علاج کے پروگراموں کو، اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ بین اقوامی منصوبۂ “پائیدار ترقی ۲۰۳۰” کے سترہ اہم ترجیحی مقاصد میں شامل کیا گیا ہے (تفصیلات کے لئے دیکھئے: ۲۰۱۵ میں پیش کردہ عالمی تنظیمِ صحت (WHO) کی رپورٹ: بعنوان “صحتِ دماغی کا اٹلس” (Mental Health Atlas)۔

مال و دولت کی فراوانی اور اسبابِ عیش عشرت کی بہتات کے باوجود، جديد تہذيب نے انسان کو “ذہنی سکون” (peace of mind) کم، اور “ذہنی تناؤ”(mental stress) زیادہ دیا ہے؛ جسے بیشتر نفسیاتی عوارض اور جسمانی بیماریوں کا بنیادی سبب بتایا جاتا ہے۔ اسی مسئلہ (ذہنی تناؤ) کے حل کی تلاش میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران عالمی سطح پر بالخصوص یورپ اور امریکہ میں روحانیت (spirituality)، گیان دھیان (meditation)، یوگا، اور دیگر “مذاہب و أسفار شرقیہ” (Oriental Faiths & Scriptures)، بشمول قرآن مجید، کے مطالعے اور ان پر عملی تجربات کو زبردست فروغ ملا ہے۔

اس موضوع پر آج غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ قرآن کی صرف تین مختصر سورتوں میں آج کی “بے چین انسانیت” کے لئے شفاء اور رحمت کا پورا سامان موجود ہے:

۱-سورہ التکاثر، جس میں انسان اور انسانیت کے اصل روگ (زیادہ سے زیادہ کی حرص)کی صحیح تشخیص کی گئی ہے۔

۲-سورہ العصر، جس میں انسان اور انسانیت کے اصل روگ کا حتمی علاج بیان کیا گیا ہے؛ جو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر قابلِ استعمال اور کار آمد ہے۔

۳- سورہ الفاتحہ، جو دعائیہ انداز میں گویا زیرِ علاج انسان اور انسانیت کو اپنے”شافئ حقیقی—رب العالمین” سے مسلسل رابطہ (round the clock in touch) میں رکھنے کا وسیلہ ہے تاکہ کسی بھی متوقع یا غیر متوقع صورتِ حال میں وہ اس کی رحیمانہ عنایت (compassionate care) کو طلب کر سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۲۵ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“استرجاع”: ایک “زندگی بخش” کلمہ

آج صبح ایک قریبی رشتہ دار کی خبرِ وفات ملی اور بے ساختہ زبان سے “إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون” نکلا۔

جیسا کہ معلوم ہے، قرآن (البقرة، آیت، ۱۵۶) اور حدیث، دونوں میں اہلِ ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب بھی وہ کسی کی موت کی خبر سنیں یا بذاتِ خود کسی قسم کی ناگہانی مصیبت یا حادثہ یا مالی نقصان وغیرہ سے دوچار ہوں؛ تو مذکورہ کلمہ کہیں، جس کا مطلب ہے:”ہم اللہ کی مِلکیت ہیں اور اللہ ہی کے پاس ہمیں لوٹ کر جانا ہے”۔ اسے اسلامی اصطلاح میں “استرجاع” کہتے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں، اس پر اس دعائیہ جملے کا اضافہ ہے:” أللہم اجرنی فی مصیبتی وأخلف لی خیرًا منہا” یعنی ‘اے اللہ، مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کی جگہ اس سے بہتر عطا کر’۔

یہ’استرجاع’ (یعنی”إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون” کہنا) بظاہر ایک کلمہ ہے جو زندگی کے منفی اور تکلیف دہ واقعات (موت، مصیبت، حادثہ، خسارہ وغیرہ) سے دوچار ہونے پر کہا جاتا ہے؛ مگر عام انسانی رجحان اور سماجی رواج کے بالکل بر عکس؛ اس میں حسرت و افسوس یا رنج و ملال کے احساسات کا اظہار مطلق نہیں۔ بلکہ وہ حد درجہ ‘زندگی بخش’، ‘امید افزا’ اور ‘حوصلہ آفرین’ ایمانی تصورات پر مبنی عبارت ہے۔ اسی لئے قرآن نے اسے سچے ایمان والے “صابرین” کا شعار بتایا ہے اور پیغمبر کی زبانی انھیں خدائی رحمتوں اور برکتوں کی خوشخبری دی ہے (البقرة، آیت، ۱۵۵۔۱۵۷)۔ دوسری طرف حدیث میں کسی کی موت پر نوحہ و ماتم کرنے یا کسی المناک حادثہ پر واویلا مچانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے ‘عملِ جاہلیت’ قرار دیا گیا ہے۔

جب ایک شخص گہرے شعور و اذعان کے ساتھ “استرجاع” کرتا ہے تو وہ گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ:

۱- اللہ ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اور میں اور میری ہر شئے اسی کی علی الاطلاق ملکیت کا حصہ ہیں۔ اس لئے اس تکلیف دہ واقعہ یا نقصان کو میں اپنے مالک کی مشیئت جان کر اسے بلا اعتراض تسلیم کرتا ہوں۔ (یہ اقرار دل و دماغ کو بیک وقت سکینت واطمینان اور حوصلہ و امید سے بھر دیتا ہے)۔

۲- جو شخص یا چیز بھی مجھ سے جدا ہوئی یا چھن گئی ؛وہ حقیقتاً اپنے اصلی مالک (اللہ) کے حکم سے اس کے پاس واپس چلی گئی اور ٹھیک اسی طرح ہم سب کو بالآخر لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ لہذا مجھے اس واقعہ کو “رب العالمین سے ملاقات کی یاد دہانی” سمجھنا چاہئے اور اسی فیصلہ کن گھڑی کی تیاری کے لئے اب پوری سنجیدگی اور مستعدی سے یکسو ہو جانا چاہئے۔

بنا بریں، کسی جانی یا مالی خسارہ کے بعد ایک صاحبِ ایمان کے لئے غور طلب بات یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا اور اگر یہ نہ ہوتا تو ایسا نہ ہوتا- اس قسم کی بات کہنا یا سوچنا نہ صرف استرجاع کی اسپرٹ کے خلاف ہے، بلکہ نہایت غیر حقیقت پسندانہ ذہنیت کی دلیل ہے؛ جو نفسیاتی اور عملی ہر اعتبار سے انسان کے لئے سخت تباہ کن ہے۔ یہ ‘جاہلانہ رجحان’ اصل خسارہ پر مزید نا قابلِ تلافی نقصانات کا اضافہ کرنا ہے۔ باشعور اور مخلصانہ استرجاع کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ انسان کسی موت یا صدمہ کے بعد اپنی بقیہ زندگی اور اپنے پاس باقی ماندہ متاع نیز اہل و عیال کی نسبت سے مزید حساس اور ذمہ دار ہو جائے، وہ اپنے وقت اور وسائل کو زیادہ منظم اور با معنی طور پر اس طرح استعمال کرے کہ جلد یا بدیر جب وہ اپنے مالکِ حقیقی کے پاس واپس جائے تو وہ اس کے اعلی معیارِ کمال و جمال کے مطابق ‘قابلِ قبول’ ٹہرے؛ یا کم از کم وہ اپنی غیر ذمہ دارانہ روش کے نتیجہ میں اتنا فاسد اور ناکارہ نہ ہو چکا ہو کہ خدا اسے جہنم کے سوا کسی اور جگہ کے لائق نہ سمجھے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۲۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن کیسے سمجھیں؟

قرآن سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی عقل کی محدودیت کی بنا پر، بعض قرآنی آیات کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں۔ ان کا تعلق زیادہ تر غیبی معاملات سے ہے؛ اس لئے ان کے بارے میں اجمالی فہم پر قناعت کرنا ہوگا۔ البتہ بیشتر قرآنی آیات کا تعلق انسان کی عملی صلاح اور اخروی فلاح کے بنیادی تقاضوں سے ہے جو نہایت واضح لفظوں میں ہیں اور ان کو مکمل طور پر سمجھا اور روزمرہ زندگی میں ان کے مطابق اپنے فکر و عمل کو ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہی قرآن کا اصل مدعا ہے۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہماری کائنات کے فطری قوانین۔ ان کے بارے میں دنیا بھر کے بڑے بڑے عبقری سائنسداں مل کر بھی ایک فیصد سے زیادہ کچھ بولنے یا سمجھنے اور سمجھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں- البتہ ان قوانین کے بالواسطہ عملی استعمالات یا تکنیکی اثرات کو وسیع پیمانہ پر مشاہدے اور تجربے کا موضوع بنا کر انسانی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اب اس اصول کو منطبق کرتے ہوئے سورہ التکویر اور سورہ الانفطار پر غور کیجئے۔ دونوں سورتوں کا کم و بیش ایک تہائی حصہ قیامت کے مختلف ہولناک مراحل کی تصویر کشی پر مشتمل ہے، جن کا بر حق ہونا ہمیں ایسے ہی مان لینا ہے جیسے ہم ننانوے فیصد کائناتی “حقائق” کو براہِ راست دیکھے اور جانے بغیر انھیں مسلمات کی طرح مانے ہوئے ہیں اور اسے عین عقل و دانش کا تقاضہ سمجھتے ہیں۔

دونوں سورتوں کی بقیہ آیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے بعد انسان کی ابدی کامیابی یا ابدی بربادی کا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ اپنی موجودہ زندگی “ابرار” کی طرح جیتا ہے یا “فجار” کی طرح۔ گویا موجودہ دنیا وہ ‘کارخانہ’ ہے جس میں ہر انسان یا تو اپنی قیامت کے بعد کی لا زوال زندگی کو کامیاب اور پُر مسرت بنا رہا ہے یا ناکام اور حسرت آمیز۔ چنانچہ قیامت آتے ہی ہر نفس کو فردًا فردًا اس کی اپنی عمر بھر کی کارگزاری اور اس کے آخری نتیجہ سے آگاہ کر دیا جائے گا، جیسا کہ ارشاد ہوا:”علمت نفس ما أحضرت”(التکویر، آیت ۱۴) اور “علمت نفس ما قدمت وأخرت”(الانفطار، آیت،۵)۔

ان سورتوں کا پیغام مختصرًا یہ ہے___اس سے پہلے کہ قیامت کا طوفان آکر نظامِ کائنات کو تہ و بالا کردے؛ موجودہ زندگی کے ہر لمحے کی قدر کیجئے۔ یہ لمحے اگرچہ فانی ہیں؛ مگر انہیں لمحوں کے درست یا نا درست استعمال سے آپ اپنی آنے والی لا فانی زندگی کو آباد یا برباد کر رہے ہیں۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۳۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

لیلة القدر—”روحِ اسلام” کا کائناتی مظاہرہ

اسلام کی اصل روح، “تسلیم و رضا”(Surrender & Acceptance) ہے، یعنی زندگی کے ہر معاملہ میں ذہنی سوچ سے لے کر قلبی جذبات و واردات، ارادی اقوال و افعال اور غیر ارادی حرکات و سکنات تک کو بلا مزاحمت رب العالمین کی مشیئت کے تابع اور اس سے ہم آہنگ کر لینا؛ یا کم از کم اس ہم آہنگی کی مسلسل شعوری کوشش کرنا۔ “تسلیم و رضا” کے اصول کو برتنے کی اس سنجیدہ شعوری کوشش کا نام قرآنی اصطلاح میں تزکیہ ہے اور اسی کوشش میں کامیابی کے تسلسل اور تناسب کے بقدر وہ نادر اور بیش قیمت روحانی تجربہ حاصل ہوتا ہے جسے “ربانی معرفت” کہتے ہیں؛ جو حکمت و بصیرت اور اعلی اخلاق کا سر چشمہ ہے۔

اس اعتبار سے “تسلیم و رضا”، عینِ عبدیت اور بندگی ہے۔ نماز، روزہ، زکاة، حج اور دیگر عبادات و شعائر کا مقصود “اسلام” کی اسی روح یا جوہر کو نمایاں اور راسخ کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر تمام اسلامی اعمال، عبادات اور دینی سرگرمیاں، اپنی ظاہری خوشنمائی کے باوجود، ایسے ہی بے جان اور بے اثر ہیں جیسے کاغذ کے خوش رنگ پھول۔

خدا کے تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی “روحِ اسلام” کا عملی نمونہ پیش کیا، جس کا آخری مستند ترین مظاہرہ پیغمبرِ اسلام کے اسوۂ حسنہ کی شکل میں ہوا۔ اس پہلو سے قرآن میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (۴) کی تحسین کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:”جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ تابع ہو جا؛ تو اس نے کہا کہ میں رب العالمین کا تابع بن گیا (یعنی سراپا تسلیم و رضا بن کر اس کی مشیئت کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا)۔﴿ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (سورة البقرة، آيت، 131) ﴾ اس کے بعد کی آیات (البقرة 132-137) میں مزید بتایا گیا ہے کہ تسلیم ورضا کے اسی اسوۂ ابراہیمی کو اختیار کرنا؛ اسی پر جینا اور اسی پر مرنا، بلا استثناء سارے انبیاء اور صلحاء کا نصب العین رہا ہے اور وہی ہر مسلمان سے ہر جگہ اور ہر زمانے میں مطلوب ہے۔

در حقیقت ساری کائنات کا نظام اتنے محکم اور پُر امن طور پر اسی لئے چل رہا ہے کہ وہ ‘روحِ اسلام’ پر قائم یعنی اپنے خالق و مالک کی مشیئت کے ساتھ کلی طور پر ہم آہنگ ہے۔ ٹھیک اسی طرح انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی بھی سکینت اور سلامتی سے بھرپور اور ہر قسم کے فساد اور بد نظمی سے خالی ہو سکتی ہے؛ اگر وہ اس “روحِ اسلام” کو اپنا لے جس کو بیان کرنے کے لئے لیلة القدر میں قرآن اتارا گیا اور خود لیلة القدر کو فرشتوں اور جبریل کے ذریعہ اسی روحِ اسلام کا کائناتی مظاہرہ بنا دیا گیا- گویا ایک صاحبِ ایمان اپنے وجود کو شعوری سطح پر “تسلیم و رضا” کے سانچے میں مسلسل ڈھالنے کا جس قدر حوصلہ اور سعی کرے گا؛ کم و بیش اسی تناسب سے اس کے اندر قرآن اور لیلة القدر کی ربانی تجلیات کو محسوس کرنے، دیکھنے اور ان سے فیض یاب ہونے کی صلاحیت بیدار ہو گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۲۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

تزکیۂ نفس کیا ہے؟ (۲/۱)

‘تزکیہ’ کا لفظ ‘زکاة’ سے بنا ہے، جس کے معنی میں بیک وقت پاکیزگی (purity) اور نشو و نما (development & progress) دونوں پہلو سبب اور نتیجہ کے طور پر شامل ہیں؛ گویا ایک کے بغیر دوسرے کا حصول ممکن نہیں۔ جس طرح ایک عمدہ فصل یا پھل دار درخت کی بھر پور نشو و نما کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آپ اچھی (زرخیز) مٹی، اچھے بیج اور اچھی کھاد اور پانی وغیرہ کا انتظام کریں؛ بلکہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ آپ اس کے گرد و پیش کو کیڑے مکوڑوں، خود رو پودوں اور آندھی اور طوفان وغیرہ کی زد سے مسلسل محفوظ رکھنے کی تدابیر کرتے رہیں؛ ورنہ خدشہ ہے کہ آپ کی ساری محنت آپ کی فصل اور درخت کے پھلنے پھولنے سے پہلے ہی اکارت ہو جائے گی۔ ٹھیک یہی معاملہ نفس کے تزکیہ کا ہے۔

عربی گرامر کی رو سے ‘تزکیہ’ میں شدتِ اھتمام (intensive care) اور تسلسل (consistency) کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی نفس کی پاکیزگی اور نشو و نما کا یہ عمل، کوئی موسمی (occasional) سرگرمی یا رسم نہیں؛ جس کو محض ایک یا چند مخصوص اوقات میں کر دینا کافی ہو؛ بلکہ وہ ایک تا عمر جاری رہنے والا عمل (life-long process) ہے۔ اس اعتبار سے روحانی اور اخلاقی سطح پر ‘تزکیۂ نفس’ وہی چیز ہے جسے آج کل عالمی ماہرین، کامیاب تجارت اور معیاری تعلیم کا سب سے بڑا راز بتاتے ہیں اور اسے تا حیات سیکھتے رہنا (life-long learning)؛ ذاتی قدر پیمائی (Self Evaluation) اور مسلسل عملی ارتقاء (CPD) وغیرہ ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۲۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

تزکیۂ نفس کیا ہے؟ (۲/۲)

تزکیہ کتنا اہم دینی عمل ہے، اس کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ قرآن نے اسے پیغمبر اسلام (صلعم) کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: (سورہ البقرة، آیت ۱۲۹ اور ۱۵۱؛ سورہ آل عمران، ۱۶۴؛ سورہ الجمعة، آیت، ۲)۔ پھر جنت کے ابدی باغات کو ان لوگوں کی جزا قرار دیا ہے ‘جنہوں نے اپنا تزکیہ کیا’ (سورة طه، آيت، ٧٦)۔ سورہ الأعلی (آیت، ۱۴) میں یہی بات مزید تاکید کے ساتھ یوں بیان ہوئی ہے:”قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ” یعنی ‘یقیناً اس نے فلاح پا لی؛ جس نے اپنا تزکیہ کیا’۔

تاہم قرآن (سورہ البقرة، آیت، ۱۷۴؛ سورہ آل عمران، آیت، ۷۷) سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ‘تزکیۂ نفس’ کے عمل کی تکمیل آخرت میں براہِ راست خدا کرے گا۔ گویا اس دنیا میں پیغمبر کے ذریعہ یا پیغمبرانہ اسوۂ حسنہ کے مطابق ایک صاحبِ ایمان صرف تا عمر اپنے نفس کے تزکیہ کی پیہم سعی و کوشش کر سکتا ہے، یہ سعی و کوشش جس حد تک رضائے الہی سے ہم آہنگ ہو گی؛ اسی حد تک وہ آخرت میں خدا کے نزدیک قابلِ قبول اور کامل ٹہرے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ تزکیہ کے عمل کی اصل نوعیت کیا ہے؟ بالفاظ دیگر، نفس کی وہ کیا کمزوری یا منفی صفت ہے جس سے اسے “پاکیزہ” بنانے کی ہمیں فکر و کوشش کرنی ہے تاکہ اس کے اندر موجود اعلی روحانی صفات اور ربانی امکانات ضائع نہ ہوں اور انھیں بھرپور نشو و نما کا موقع ملتا رہے۔

تزکیۂ نفس کا عمل در حقیقت اپنے آپ کو اس بھرم اور خوش فہمی سے بچانا ہے کہ میں ‘برگزیدہ’ اور ‘پاکیزہ’ ہوں۔ “احساسِ برگزیدگی” یا اپنی پاکیزگی کا زُعم، خواہ کسی درجہ میں ہو، وہ سب سے بڑا مہلک نفسیاتی روگ ہے؛ جو انسان کی حقیقی روحانی پاکیزگی اور اخلاقی ارتقاء کے تمام فطری امکانات کو کھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، خود فریبی، خود نمائی اور خود ستائی کے شیطانی جال میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ پھر اسے اپنا عیب بھی ہنر اور اپنے نقائص بھی کمالات دکھائی دیتے ہیں؛ چنانچہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی تہذیب واصلاح کی مطلق ضرورت محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے ناصح اور مصلح کو، اپنا سب سے بڑا دشمن اور بدخواہ خیال کرنے لگتا ہے۔ ظاہر ہے اس مزاج کے زیرِ اثر، وہ روحانی شعور اور فکر و کردار کی سطح پر جہاں اور جس حالت میں ہوتا ہے؛ اس سے نکلنے یا اسے بدلنے پر کبھی آمادہ نہیں ہو سکتا-

میں سمجھتا ہوں پیغمبرِ اسلام (صلعم) نے قرآن کے ذریعہ صحابۂ کرام (رض) کی جو بے مثال ربانی نسل تیار کی اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے اندر سے “برگزیدگی” اور “پاکیزگی” کے ہر احساس اور بھرم کو شعوری طور پر کھرچ کر نکال دیا تھا اور اس کی جگہ خدا کے سامنے “جوابدہی” کے احساس کو اپنے اندرون کی گہرائیوں میں اتار لیا تھا۔ اس لئے ان کے درمیان تزکیۂ نفس کا عمل بلا انقطاع جاری رہا۔ اس سلسلہ میں ان کے فکر و نظر کا معیار یہ قرآنی آیت تھی: “أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ” (سورہ النساء، آیت، 49) یعنی ‘کیا تم نے ان کو دیکھا جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں، نہیں، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے’۔

اس قرآنی مزاج کا اثر صحابہ کے بعد مزید دو نسلوں تابعین اور تبع تابعین کے اوپر بھی غالب رہا- اسی لئے ان کا شمار “خیر القرون” میں ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے یہاں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں:

۱-صحیح البخاری میں ایک باب کا بہت با معنی اور فکر انگیز عنوان یہ ہے: “باب خوف المؤمن من أن یحبط عمله وھو لا یشعر” یعنی مؤمن کا اس بات سے ڈرتے رہنا کہ اس کا نیک عمل رائیگاں ہو جائے اور اس کو احساس تک نہ ہو’۔

۲-حسن بصری کا قول ہے کہ: “مؤمن کو جب بھی دیکھو وہ ہمیشہ اپنے تئیں ملامت کرتا ہوا نظر آئے گا، مثلا وہ کہے گا: میں نے ایسا کیوں کیا؟ اس سے میرا ارادہ کیا تھا؟ اس عمل سے کہیں بہتر کرنے کا کام تو یہ تھا، وغیرہ”۔ نیز وہ کہا کرتے تھے کہ “مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نفاق میں مبتلا ہونے سے ڈرتا رہتا ہے؛ جبکہ منافق وہ ہے جو اس پہلو سے بالکل مطمئن ہوتا ہے”۔

۳-ابن أبي مليكة کہتے ہیں: “میں نے نبي صلى الله عليه وسلم کے تیس صحابیوں کا زمانہ پایا ہے ان میں ہر کوئی اپنے اوپر نفاق کا خطرہ محسوس کرتا تھا اور ان میں کسی کو یہ دعوی نہیں تھا کہ اس کا ایمان جبريل وميكآئیل کے درجہ کا ایمان ہے”۔

خلاصہ یہ کہ تزکیۂ نفس کا عمل از اول تا آخر یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کا ہر لمحہ ‘احساسِ جوابدہی’ (sense of accountability) کے تحت خود احتسابی کرتے ہوئے گزاریں اور اپنے اندر کبھی احساسِ برگزیدگی (sense of chosen-ness) یا زُعمٰ پاکیزگی نہ پیدا ہونے دیں۔ اسی عمل نے “خیر القرون” کو خیر القرون بنایا اور اسی کے فقدان نے بعد کے دور کو شر القرون بنا دیا ۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۳۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن: آپ کے حق میں یا آپ کے خلاف!

امام مسلم نے کتاب الطہارة کے ذیل میں پانچ لفظوں پر مشتمل ایک حدیث یوں نقل کی ہے:”القرآن حجة لك أو عليك”…یعنی: ‘قرآن یا تو تمہارے حق میں ایک حجت ہے یا تمہارے خلاف’۔

اس وقت جبکہ تمام مسلم دنیا؛ خصوصاً برِّ صغیر کے مسلمانوں میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر “ختمِ قرآن” کی سرگرمی پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے(جیسا کہ ہر سال رمضان المبارک میں ہوتا ہے)؛ مذکورہ حدیث ہمیں ایک سنجیدہ دعوتِ فکر بھی دیتی ہے اور اسی کے ساتھ ایک نہایت سنگین وارننگ بھی۔ غالباً اسی حدیث کے پیشِ نظر، جلیل القدر فقیہ صحابی عبد اللہ بن مسعود (رض) اکثر کہا کرتے تھے کہ: “إن أقواماً يقرؤون القرآن ولا يجاوز تراقيهم”؛ (‘بہت سے لوگ ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جاتا’)۔

مذکورہ حدیثِ رسول اور قولِ صحابی کی روشنی میں میں نے کچھ طالبِ علموں کو نصیحت کرتے ہوئے ایک بار کہا کہ: قرآن کا سچا قاری وہ ہے، جو قرآن پڑھنے کے بعد ‘دوسروں’ سے پہلے خود ‘اپنے’ خلاف ‘اعلانِ جنگ’ کردے۔ جب ایسا ہو تو گویا فی الواقع قرآن آپ کے حلق سے گزر کر آپ کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر گیا اور آپ کے فکر و عمل کی انقلابی تشکیلِ نو کرنے لگا۔ اس وقت بلا شبہ حدیث کے مطابق قرآن آپ کے حق میں حجت ہے۔ اس کے بر عکس اگر قرآن پڑھ کر آپ پہلے جہاں اور جس حالت میں تھے؛ وہیں اور اسی حالت میں پڑے رہیں یا اسے ‘دوسروں’ کے خلاف کسی خود ساختہ قسم کی بظاہر انقلابی یا اصلاحی مگر عملاً تخریبی کارروائی کی بنیاد بنا لیں؛ تو ایسی صورت میں وہ آپ کے خلاف حجت ہو گا۔ آپ اگرچہ اپنی اس تخریبی کارروائی کے جواز میں بعض قرآنی آیات کا حوالہ دیں گے مگر وہ حضرت امام علی (رض) کے اس مشہور حکیمانہ قول کا مصداق ہو گا کہ “بات تو حق کی ہے؛ مگر اس کا مدعا باطل ہے”( کلمة حق أرید بہا الباطل)

نزولِ قرآن سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر غارِ حراء میں کئی کئی دن معتکف ہو کر غور و فکر کرتے تھے۔ مگر نزولِ قرآن کے بعد دوبارہ آپ نے کسی غار میں عزلت نشینی اختیار نہیں کی۔ اسی طرح نزولِ قرآن کا اولین تجربہ آپ کے لئے اتنا شدید اور پُر ہیبت تھا کہ اس کے اثر سے آپ چادر اور کمبل اوڑھ کر اپنے گھر میں پڑ گئے۔ مگر اللہ تعالی نے آپ کو آگاہ کیا کہ آخری آسمانی کتاب کا حامل بننے کے بعد آپ کا کام گھر میں بیٹھنا یا چادر اوڑھ کر لیٹ جانا نہیں بلکہ ہمہ تن سرگرمِ عمل ہو جانا ہے۔ چنانچہ حکم ہوتا ہے کہ آپ اٹھیں اور قرآن کے مطابق خود اپنے روحانی و اخلاقی جوہر کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ ساری انسانیت کے فکر و کردار کی تطہیر اور اس کی از سرِ نو تعمیر کے جاں فشاں کام کا بیڑہ اٹھائیں۔ جیسا کہ معلوم ہے یہ کام تیئیس سالہ انتہائی پُر مشقت داخلی اور خارجی جہاد اور بے پناہ قربانیوں کے بعد ایک عظیم الشان عالمگیر انقلاب کی شکل میں پایۂ تکمیل تک پہنچا، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہ اس سے پہلے دیکھی گئی نہ اس کے بعد۔

قرآن کا مطلوب اس کے ہر قاری سے ہر جگہ اور ہر زمانے میں بنیادی طور پر وہی ہے جو اس کے پہلے قاری سے تھا۔ اگر اس کو پڑھ کر آپ کی سوچ، آپ کی عملی روش، آپ کا نظام الاوقات، آپ کے انسانی تعلقات، آپ کی ترجیحاتِ زندگی اور آپ کی پسند و نا پسند کے معیارات اس کے مطابق نہ بدلے؛ تو وہ آپ کے خلاف خدا کی حجت ہے، بظاہر ‘حاملِ قرآن’ اور ‘قارئِ قرآن’ ہو کر بھی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جن کی شکایت خود پیغمبر نے اپنے رب کی عدالت میں اس طرح درج کرائی ہے:اور رسول نے کہا کہ اے میرے پروردگار، میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی چیز بنا رکھا ہے (وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (سورہ الفرقان ، آیت ۳۰)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- یکم جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

دعائے ليلة القدر

سننِ ابن ماجة میں ہے کہ أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها نے نبي صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو میں کیا دعاء کروں؟ آپ (صلعم) نے فرمایا کہ یوں کہو:”اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي” (یعنی:اے اللہ، تو بہت عفو و در گزر کرنے والا ہے اور عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے، لہذا میرے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ فرما”۔ جامع الترمذی کی روایت میں “کریم” بمعنی: “عالی ظرف، مہربان” کا اضافہ ہے اور دعاء یوں ہے:( اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني)

جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، لیلة القدر وہ رات ہے جس میں اللہ کے ‘تمام حکیمانہ فیصلوں کا تصفیہ ہوتا ہے ( سورہ الدخان، آیت،۴)۔اس میں طلوعِ فجر تک جبریل سمیت خدا کے خاص فرشتے اپنے رب کے احکامات لے کر اترتے رہتے ہیں اور اس کے اثر سے پوری کائنات امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک رات میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ اپنی استثنائی برکتوں اور فضیلتوں کی بنا پر یہ رات ‘ایک ہزار مہینے’ سے بہتر ہے (سورہ القدر)۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مذکورہ دعاء بظاہر ‘بہت کم’ معلوم ہوتی ہے۔ غالباً ایک عام آدمی یہ سوچے گا کہ جب موقع اتنا مبارک ہے اور دینے والا اس قدر فیاض؛ تو صرف ‘عفو در گزر’ کی ایک طلب پر اکتفاء کیوں؟ ہمیں تو ‘سب کچھ’ اور ‘بے حد و حساب’ مانگ لینا چاہئے!

اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہر آدمی اپنے ذوق اور ضرورت اور امید اور حوصلہ کے لحاظ سے دین و دنیا سے متعلق کسی بھی جائز چیز کی دعاء کرے۔ مگر میں سمجھتا ہوں مذکورہ دعاۓ لیلة القدر کی شکل میں اہلِ ایمان کو ربانی معرفت کی وہ بنیادی کلید دی گئی ہے جس کا شعوری ادراک ہونے کے بعد “کچھ اور مانگنے” کی فکر کم بلکہ شاید بالکل ختم ہو جاتی ہے، اس کی جگہ یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ دینے والا در اصل ہمیں ہمارے حوصلے اور مانگ اور ضرورت سے کہیں بڑھ کر عملاً دے چکا ہے اور دیتا رہتا ہے نیز اپنے فضل و کرم سے مزید نوازنے کے لئے تیار ہے؛ مگر ہم خود اپنی بے شعوری اور غفلت سے اس کے ہر لحظہ برسنے والے فیض کی ناقدری کرتے ہیں اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں؛ جو گویا دانستہ یا نا دانستہ اس کی فیاضی اور مہربانی کی “تحقیر و اہانت” کے ہم معنی ہے؛ جس کو وہ رحمن و رحیم اگر نظر انداز نہ کرے، تو جو کچھ اس وقت ہمارے پاس ہے وہ بھی چھن جائے اور ہم سخت عذاب کی گرفت میں آجائیں۔اسی حقیقت کی طرف سورہ فاطر ( آیت، 45) میں اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خدا اگر انسانوں کی عام کمائی یا کار گزاری پر مواخذہ کرنے لگے تو روئے زمین پر کوئی چلتا پھرتا نہ بچے۔ چنانچہ لیلة القدر جیسے مبارک ترین موقع کی دعاء کا مرکز و محور اس سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا کہ بندہ اپنے رب سے کہے کہ: خدایا، میں سر تا پا تقصیر اور کوتاہی میں غرق ہوں۔ حتی کہ میری عبادت بھی بے شمار ‘نقائص’ سے پُر ہوتی ہے اور اس طرح وہ عبادت کے بجائے تیری “معصیت اور اہانت’ کہلانے کی مستحق ہے، لیکن تو سراپا عفو و درگزر ہے لہذا میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تو میری معصیتوں اور ناقص عبادتوں، دونوں سے عفو و در گزر فرماتے ہوئے مجھے اپنے رحم و کرم کی آغوش میں پناہ دے دے۔ (آمین!)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۲ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

اگر آپ آگے نہیں بڑھ رہے؛ تو آپ پچھڑ رہے ہیں! (٢/١)

نزولِ قرآن کی ابتدا آج سے ٹھیک ساڑھے چودہ سو برس پہلے مکہ کے ایک دور افتادہ تاریک غار میں ہوئی۔ یہ پوری تاریخِ بشری کا نہایت استثنائی واقعہ ہے کہ چوتھائی صدی سے بھی کم مدت (صرف ۲۳ سال) میں اپنی تدریجی تکمیل کے ساتھ، قرآن نے، اپنے دعوے کے عین مطابق، انسانیت کو “تاریکیوں” سے نکال کر “روشنی” میں پہنچا دیا۔ اس “روشنی” کو پا کر جزیرۂ عرب کے “اُمّی لوگ” (illiterate people) دینی و دنیاوی، ہر معاملہ میں اپنے وقت کے “امام” (leaders) بن گئے۔ قرآن کی “روشنی” پر مبنی، حاملینِ قرآن کی یہ امامت یا قیادت کم و بیش ایک ہزار سال تک ساری آباد دنیا پر براہِ راست یا بالواسطہ قائم رہی۔

قرآن کے اولین قارئین کس طرح اس قابل ہوئے کہ ایسے ہمہ گیر آنفرادی اور اجتماعی انقلاب کے بانی اور عالمی قائد بن جائیں؟ میری نظر میں اس کا مختصر جواب چار لفظوں میں یہ ہے: خدا شناسی، خود شناسی، وقت شناسی اور آخرت شناسی۔ قرآن اپنے ہر سنجیدہ قاری کو یہی چہار گونہ حرکی ذہنیت(four dimensional dynamic mind-set) دیتا ہے، جو اگر صحیح معنوں میں پیدا ہو جائے تو پھر قرآن کا قاری وہ نہیں رہ جاتا؛ جو وہ پہلے تھا، نیز اپنے ساتھ ساتھ وہ اپنے گرد وپیش کی مادی اور انسانی دنیا کو بھی اس کی ‘موجودہ یا سابقہ” حالت سے ہر ممکن پہلو سے بہتر دیکھنے اور بہتر بنانے کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔

خدا شناسی، خود شناسی، وقت شناسی اور آخرت شناسی پر مبنی قرآن کی یہ چہار گونہ حرکی ذہنیت جب کسی فرد یا مجموعۂ افراد میں ابھرتی ہے تو ان کی زندگی سے یک لخت سکون اور جمود اور ٹہراؤ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ ہر قسم کی سُستی اور کاہلی اور بے عملی اور تن آسانی کی غیر ذمہ دارانہ اور تباہ کن روش سے ایسے ہی بھاگتے اور خدا کی پناہ مانگتے ہیں جیسے کوئی صحت مند شخص کوڑھ اور سرطان جیسے امراضِ خبیثہ سے بھاگے اور خدا کی پناہ مانگے۔ زندگی کا، بلکہ زندگی کی ہر سانس کا پہلا اور آخری مصرف ان کی نظر میں صرف ایک ہو جاتا ہے اور وہ ہے: حسنِ عمل، اخلاصِ عمل، تنقیدِ عمل اور تحسینِ عمل کی مسلسل کاوش کرنا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۳ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhab

اگر آپ آگے نہیں بڑھ رہے؛ تو آپ پچھڑ رہے ہیں! (۲/۲)

مذکورہ رجحان کے تحت، قرآن میں سنجیدہ تدبر کرنے والے قارئین و سامعین کے ذہنوں میں ہر وقت کچھ اس قسم کے خیالات و احساسات امنڈتے رہتے ہیں:

۱-ہماری کائنات معجزاتی حد تک با معنی اور حسین ہے۔ اس میں کہیں کوئی خلل یا بد نظمی نہیں۔ اس کی ہر شئے کا ایک مقصد ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ ایک باقاعدہ نظام کی پابند ہو کر اپنے دائرۂ کار میں ہر وقت متحرک رہتی ہے۔ یہ گویا انسان کے لئے خالق کا ایک خاموش پیغام ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصدِ اعلی کو جانے اور اس تک پہنچنے کے لئے یکسوئی کے ساتھ ہمیشہ رواں دواں رہے۔

۲-یہاں جس طرح ہر کام کا ایک وقت ہے؛ اسی طرح ہر وقت کا ایک کام ہے۔ کسی کام کو اس کے مقرر وقت پر بحسن و خوبی وہی انجام دے سکتا ہے جو ہر وقت کے کام کو بر وقت جاننے اور اسے کما حقہ پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔

۳-اگر آپ آج وہاں نہیں ہیں؛ جہاں اپنی تخلیق کے مقصدِ اعلی کی نسبت سے آپ کو آج ہونا چاہئے تھا؛ تو گویا آپ کل تک وہاں تھے جہاں آپ کو کل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اگر آپ اپنے ہر دن، بلکہ اس کے ہر لمحے کو اپنے ہر کل اور اس کل کے ہر لمحے سے بہتر بنانے کی سنجیدہ اور پیہم کوشش میں مصروف نہیں؛ تو عملاً آپ اپنے آپ کو مسلسل کھونے کے عمل میں مصروف ہیں۔ ایسی حالت میں آپ آج وہ بھی نہیں ہو سکتے جو آپ گزشتہ کل تک تھے؛ اور آئندہ کل آپ وہ بھی نہ رہ سکیں گے جو آپ آج ہیں۔

۴-اگر آپ فکر و شعور اور کردار و عمل کی سطح پر مسلسل آگے کی سمت نہیں بڑھتے تو لازماً آپ ہر سطح پر مسلسل پچھڑٹے جارہے ہیں۔ اگر آپ لحظہ بہ لحظہ ‘سنورتے اور نکھرتے’ نہیں ؛ تو ہر گزرتی ہوئی ساعت کے ساتھ آپ ‘بگڑتے اور گدلاتے’ جاتے ہیں اور انجامِٰ کار آپ کا حال آپ کے ماضی سے اور آپ کا مستقبل آپ کے حال سے زیادہ تاریک اور بد تر ہوتا جاتا ہے۔

۵-آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹنے، سنورنےاور نکھرنے یا بگڑنے اور گدلانے کی یہ دونوں ہی حالتیں آپ کی اپنی خود ارادیت پر مبنی ایک آزادانہ انتخاب ہے۔ آپ کے اسی آزادانہ انتخاب کی نوعیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کس حد تک خدا شناس، خود شناس، وقت شناس اور آخرت شناس ہیں؛ یا کس حد تک ان حقائق کی قدر و قیمت اور فیصلہ کن اہمیت سے نا آشنا یا ان کے منکر ہیں تاکہ بالآخر آپ کے اسی انتخاب کی بنیاد پر آپ کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے۔

اسی ذہنی رجحان کو ابھارنے اور پختہ کرنے کے لئے قرآن بار بار اپنے قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات اور زندگی کے حیرتناک اور سبق آموز مظاہر میں غور و فکر کرے۔ مثلاً سورہ المدثر (آیات ۳۲-۳۸) میں چاند، ڈھلتی ہوئی رات اور ابھرتے ہوئے دن کو گواہ بنا کر کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ تمہارے لئے خالق نے مسخر کیا ہے تاکہ “تم میں جو چاہے آگے بڑھتا جائے اور جو چاہے پیچھے ہٹتا چلا جائے۔ ہر شخص اپنی کمائی سے بندھا ہوا ہے”(لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ؛ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ).

قرآن کے اولین قارئین کے ذہنوں پر یہ رجحان کس طرح چھایا ہوا تھا، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) نے موت کے وقت اپنے جانشیں حضرت عمر (رض) کو جو اہم وصیتیں کیں؛ ان کا پہلا جملہ یہ تھا:”اے عمر، اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ اللہ کو ایک عمل دن میں مطلوب ہے، جسے وہ رات میں قبول نہیں کرتا اور ایک عمل رات کو مطلوب ہے؛ جسے وہ دن میں قبول نہیں کرتا؛ اسی طرح اس کی نظر میں کوئی ‘نفلی عمل’ قابلِ قبول نہیں جب تک کہ اس سے پہلے فرض کی ادائیگی نہ ہو چکی ہو” ((لَمَّا حَضَرَ أَبَا بَكْرٍ الْمَوْتُ دَعَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ : ” اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ، وَاعْلَمْ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَمَلا بِالنَّهَارِ لا يَقْبَلُهُ بِاللَّيْلِ ، وَعَمَلا بِاللَّيْلِ لا يَقْبَلُهُ بِالنَّهَارِ ، وَأَنَّهُ لا يَقْبَلُ نَافِلَةً حَتَّى تُؤَدَّى الْفَرِيضَةُ)) (مسند أحمد)

اسی خدا شناس، خود شناس، وقت شناس اور آخرت شناس ذہنی رجحان نے کل کے حاملینِ قرآن کو انسانیت کا معمار اور قائد بنایا تھا اور اسی کے فقدان نے بعد کے حاملینِ قرآن کو انسانی قافلے کی گزر گاہ میں اڑنے والے غبار کی طرح بے وقعت اور بے اثر بنا دیا ہے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۴ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

رمضان کب اور کس کے لئے “مبارک” ہے؟

سورہ البقرہ (آیت ۱۸۴) میں رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسی مہینہ میں قرآن نازل کیا گیا؛ جو پوری انسانیت کے لئے “ہدایت، نیز اس ہدایت کے واضح دلائل اور حق و باطل میں فرق کا معیار” فراہم کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ “رمضان کے روزے” اور “قرآنی ہدایت” میں بہت گہرا تعلق ہے۔

در اصل قرآن ایک عملی ہدایت نامہ ہے۔اس سے رہنمائی پانے کے لئے صرف اسے زبان سے پڑھ لینا یا کان سے سن لینا کافی نہیں۔ بلکہ اس کے قاری اور سامع کے اندر حقیقت پسندی اور سنجیدگی کا مزاج ہونا لازمی ہے؛ جس کا نام دینی اصطلاح میں ‘تقوی’ ہے۔ چنانچہ قرآن کے بالکل آغاز (سورہ البقرہ، آیت، ۲) میں ہی یہ بتا دیا گیا کہ اس سے وہی لوگ ہدایت پائیں گے جو “تقوی والے ہیں” (ھدیً للمتقین)۔

اسی تقوی کے رجحان کو مزید ابھارنے اور تقویت پہنچانے کے لئے رمضان کے روزے فرض کئے گئے(سورہ البقرہ، آیت، ۱۸۳)۔ اس طرح گویا خدا کی آخری کتاب کے نزول کے ساتھ ساتھ اس بات کا خصوصی انتظام کیا گیا کہ اس سے استفادہ کی لازمی صفت (تقوی) کو ہر سال اس کے حاملین کے اندر ری چارج (recharge) کر دیا جائے تاکہ وہ اس ربانی ہدایت نامہ سے اپنے عملی تعلق کی مسلسل شعوری تجدید کرتے رہیں اور اسے تاعمر زندہ اور بار آور رکھ سکیں۔

بنا بریں، ‘رمضان’ اسی وقت آپ کے لئے ‘مبارک’ ہے، جب اس کی سالانہ تربیت سے آپ کے اندر موجود تقوی کی فطری صفت، خوابیدہ حالت (dormant state) سے نکل کر فعال اور نتیجہ خیز شکل (active & productive mode) اختیار کر لے؛ تاکہ قرآنی ہدایت سے آپ کا رشتہ محض لسانی تلاوت اور سلبی سماعت (passive listening) تک محدود نہ رہے؛ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ آپ کے فکر و کردار کی انقلابی تشکیلِ نو کا محرک اور نگراں بن جائے۔

رمضان آپ کے لئے کتنا “مبارک” ثابت ہوا؟ یہ جاننے کے لئے آپ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کے ذریعہ خدا کی رضا اور جنت کی خاطر، کتنا ضبطِ نفس (self discipline)؛ صبر-شکر (patience-gratitude) اور وقت شناسی (time-consciousness) کے رجحانات آپ کے شعور کی سطح پر ابھرے، گہرے ہوئے اور وہ آپ کی شخصیت اور روز مرہ عملی زندگی کا نمایاں حصہ بن گئے۔

آپ کا مقصدِ اعلی چاہے اس دنیا کی فانی زندگی کو اپنے “ارمانوں کی جنت” بنانا ہو؛ یا آخرت کی لا فانی دنیا میں “خدا کی ابدی جنت” کو پانا ہو؛ دونوں ہی کی خاطر آپ کو مذکورہ معنوں میں ایک “متقیانہ” زندگی گزارنی ہو گی۔ یعنی اپنے مطلوب “مقصدِ اعلی” کے لئے یکسو ہو کر ایک طرف اپنی ساری پونجی، سارا وقت اور ساری توانائی بلا بحث صَرف کرنی ہوگی تو دوسری طرف بہت سی جائز خواہشات اور ذاتی تقاضوں سے بلا شکایت دست بردار ہونا پڑے گا- آپ دین کا سودا کریں یا دنیا کا، دونوں کو پانے کی “قیمت” یہی ایک ہے؛ جس کو ادا کئے بغیر نہ دنیا آپ کے ہاتھ آئے گی نہ دین۔

رمضان اس وقت آپ کے لئے “مبارک” ہے؛ جب وہ آپ کی بصیرت کو اتنا روشن اور آپ کی ہمت کو اتنا بلند کر دے کہ آپ یہ شعوری فیصلہ کر سکیں کہ جب بہر حال “متقی” بن کر جینا اور مرنا ہی ہے؛ تو پھر “دنیوی جنت” کے بجائے “اخروی جنت” کے لئے متقی کیوں نہ بنا جائے؟ اس قسم کے شعوری فیصلہ کے بعد آپ کی سوچ اور عملی روش خود بخود قرآن کے ربانی سانچے میں ڈھلنا شروع ہو جائے گی، آپ کو ‘قربِ خداوندی’ کا لطیف تجربہ ہو گا، آپ والہانہ دعاؤں کی شکل میں خدا سے اپنی محبت اور حاجت کا اظہار کریں گے اور وہ قدم قدم پر آپ کی دستگیری اور رہنمائی فرمائے گا (سورہ البقرہ، آیت، ۱۸۶)۔

خدایا، اپنے فضل و کرم سے “رمضان المبارک” کو حاملینِ قرآن کے لئے ہر اعتبار سے “مبارک” بنا دے۔ (آمین!)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۵ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نفع بخش بنئے یا بے ضرر بن کر جینا سیکھئے

‏(Be Useful to All OR Harmful to None)

آج سے تیس (۳۰) سال پہلے, مالیگاؤں، محلہ ہزار کھولی کی ایک مسجد میں میں مسلم نوجوانوں کی ذہن سازی کے لئے ایک شبینہ عربی مدرسہ چلاتا تھا۔ اس سلسلے میں غالباً بروز سنیچر، ۵ جولائی، 1986 کو عشاء بعد میں نے سورہ البقرہ کی آیت “ھدیً للمتقین” پر ایک درسِ قرآن دیا۔ آخر میں حسبِ معمول اس کا تحریری خلاصہ املاء کرایا؛ جس میں میری کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ طبعی قوانین (physical laws) کی طرح ایک یا چند جامع، معنی خیز اور فکر انگیز جملوں پر مشتمل ہو۔ میری یاد داشت کے مطابق، مذکورہ درس کی تلخیص کا پہلا جملہ یہ تھا:

“عالمِ خارجی پر ہمارا تصرف، عالمِ داخلی پر ہمارے تصرف کے متناسب ہوتا ہے”۔

میں سمجھتا ہوں، اس جملہ کی معنویت (relevance) آج بھی باقی ہے اور میں اسے اس “رمضان ڈائری-۲۰۱۶” کے اختتامی خلاصے کے طور پر یہاں نقل کر رہا ہوں؛ جس کا ہر یومیہ گویا میرے گزشتہ ۳۰ سالہ مطالعے، مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں اسی اصول یا قانون کے کسی تطبیقی پہلو (applied aspect) کی تشریح کرتا ہے۔

اس قانون کی رو سے، زندگی نام ہے: ‘اثر پذیری’ اور ‘اثر اندازی’ کے دو طرفہ تعامُل کا۔ ایک زندہ وجود (پودا، جانور، انسان وغیرہ) ہر وقت اپنے گرد وپیش (ماحول) سے کوئی منفی یا مثبت اثر لیتا بھی ہے اور اس کے اوپر اپنا منفی یا مثبت اثر ڈالتا بھی ہے۔ کسی شئے اور اس کے ماحول کے ما بین تاثیر اور تاثر کے اس تبادلہ کا ختم ہو جانا، اس بات کی علامت ہے کہ وہ شئے اب زندہ نہیں رہی، اس پر ‘موت’ واقع ہو چکی۔

انسان، استثنائی طور پر، ذی عقل و ارادہ مخلوق ہے؛ جس کی بنا پر وہ، نباتات اور دیگر جانداروں کے بر عکس، اپنے گرد و پیش کے ساتھ ہونے والے اس تبادلۂ تاثیر و تاثر (exchange of mutual influence) کا شعوری ادراک رکھتا ہے اور بڑی حد تک اس کی مثبت اور منفی نوعیت کا آزادانہ انتخاب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صحت سے لے کر اخلاقی رویہ تک کے بارے میں اپنے ضمیر اور سماج اور بالآخر اپنے خالق و مالک کے سامنے جوابدہ ہے۔

مثلاً جب آپ بیمار ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے جسم نے، کھانے پینے اور رہن سہن کے بعض معمولات کی وجہ سے عارضی یا دائمی طور پر اپنی یہ داخلی صلاحیت کھو دی ہے کہ اپنے خارجی ماحول کے “صحت بخش عوامل” سے فیض یاب ہو اور “بیمار کُن عوامل” کی زد سے اپنا تحفظ کر سکے۔ ایسی حالت میں خود آپ کا ‘بیمار وجود’ بھی اپنے ماحول کی آلودگی اور کثافت میں اضافہ کرکے اس پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ دوا، علاج اور پرہیز وغیرہ کے ذریعہ جسم کی اسی اندرونی صلاحیت (immune system) کو بحال کیا جاتا ہے تاکہ وہ از سرِ نو اپنے ماحول کے ساتھ مثبت تاثیر و تاثر کا رشتہ استوار کر لے۔

ٹھیک یہی معاملہ آپ کی شخصیت کے روحانی، اخلاقی اور سماجی پہلووں کا ہے۔ اپنی داخلی دنیا (یعنی آپ کے خیالات، جذبات، ذہنی صلاحیتوں اور عملی روش وغیرہ) میں آپ کا تصرف (برتاؤ) جس قدر مثبت، صحت مند اور ذمہ دارانہ، یا اس کے الٹا ہو گا؛ اسی قدر آپ اپنی خارجی دنیا اور اس سے ملی ہوئی چیزوں یا اس میں پیش آنے والے واقعات و حوادث سے منفی یا مثبت اثر قبول کریں گے نیز اسی تناسب سے ان کے اوپر اپنا منفی یا مثبت اثر ڈالیں گے۔ لہذا “خارجی دنیا” سے “فائدہ” اٹھانے یا اس کے “ضرر” سے بچنے کے لئے انسان کو اپنی “داخلی دنیا” میں صحیح اور ذمہ دارانہ برتاؤ اختیار کرنا پڑے گا۔

انسان اور مسلمان ہونے کا کم سے کم تقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنے گرد وپیش کی دنیا کے لئے نفع بخش نہیں بن سکتے تو اس کے لئے بے ضرر بن کر رہیں (Be Useful to All Or Harmful to None)۔ اگر آپ اپنے ماحول پر کوئی ‘مثبت اثر’ نہیں ڈالتے تو اس کے منفی اثر سے خود بچئے اور اسے اپنے منفی اثرات سے بچائیے۔ بصورتِ دیگر، سخت اندیشہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کی نظر میں شاید آپ کی گنتی نہ انسانوں میں ہو اور نہ مسلمانوں میں۔۔۔!!

عید مبارک (ابو صالح انیس لقمان ندوی۔ ابو ظبی)

_________

بروز بدھ- ۶ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

عید کا گلدستہ___ ‘رمضان’ (ر م ض ا+ن)

یہ ایک ‘فکری یا معنوی گلدستہ’ (A Bouquet of Thoughts) ہے؛ جس کو میں درد اور دعا میں ڈوبی ہوئی اپنی نیک خواہشات کے ساتھ، عید الفطر (2016) کے موقع پر اپنے اہل و عیال، احباب نیز وسیع تر اسلامی اور انسانی برادری کو از راہِ تہنیت پیش کرتا ہوں۔

عام نقطۂ نظر سے مذکورہ عنوان کو بر عکس طور پر یوں ہونا چاہئے تھا کہ ‘عید الفطر’، رمضان کا تحفہ یا گلدستہ ہے نہ کہ ‘رمضان’، عید کا گلدستہ۔

مگر یہاں ‘رمضان’ سے مراد ھجری کیلنڈر کا وہ مہینہ نہیں جو ابھی ابھی گزرا اور وہ اب گیارہ مہینوں بعد ہی لوٹ کر آئے گا۔ بلکہ یہاں ‘رمضان’ سے میری مراد ایک ‘چار نکاتی منصوبۂ کردار سازی’ (Four Point Character-building Program) ہے، جسے ایک صاحبِ ایمان کی روز مرہ زندگی کا اٹوٹ حصہ ہونا چاہئے۔اگر آپ پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ اس ‘رمضان’ منصوبے کو اپنا لیں؛ تو مجھے یقین ہے کہ، خدا کی توفیق سے، آپ کے اندر قرآن کی مطلوب ‘ربانی شخصیت’ پروان چڑھے گی؛ اس کا ہمہ جہتی روحانی و اخلاقی ارتقاء تا عمر بلا انقطاع جاری رہے گا؛ اور جو بالآخر ‘نفسِ مطمئنہ’ کے درجۂ کمال تک جا پہنچے گی؛ جس کی ابدی رہائش گاہ وہ ‘پُر سکینت گھر’ (“دار السلام”، سورہ یونس، آیت، ۲۵) ہے، جو خالقِ کائنات کا لا ثانی شاه کار ہے۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ رمضان کے روزے کی فرضیت اور اس میں نزولِ قرآن کا اصل مقصد بھی بلا شبہ یہی ہے کہ ہر انسان کو ربانی سانچے میں ڈھال کر اسے ‘دار السلام’ کی رہائش کے قابل بنایا جائے ۔

بہ آسانی سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کے لئے اس عملی منصوبۂ کردار سازی کے چاروں کلیدی نکات کو لفظِ ‘رمضان’ کے حروف سے اخذ کیا گیا ہے تاکہ جب بھی آپ یہ لفظ بولیں یا سنیں تو وہ ان کی یاد دہانی بن جائے۔ وہ چار نکات حسبِ ذیل ہیں: ر=رحمت؛ م=مغفرت؛ ض=ضمانت؛ (ا+ن)=اللہ/اسلام کی نصرت۔

اس منصوبہ کو موثر طور پر نافذ کرنے کا رہنما اصول یہ ہے___ اگر آپ “رب کی نوازش پانے والے” بننا چاہتے ہیں؛ تو آپ “رب کی نوازش بانٹنے والے” بن جائیے۔ یعنی جب آپ ماہِ رمضان کے روزہ و عبادت اور اس میں نازل ہونے والے قرآن کی تلاوت اور تعمیل سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی رحمت اور مغفرت اور اس کی جنت کی ضمانت پا سکیں؛ تو آپ کو عملاً دوسروں کے لئے اسی رحمت اور مغفرت اور جنت کی ضمانت کا مظہر اور ذریعہ بن کر اس دنیا میں رہنا ہو گا۔

اس رہنما اصول کے مطابق، ‘رمضان’ منصوبے کے چاروں نکات کی مختصر تشریح یوں ہو گی:

1- ر= رحمت___ترمذی کی مشہور روایت ہے کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا :” الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ , ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ” (جو رحم کرنے والے ہیں؛ انہیں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر مہربانی کرو؛ ‘آسمان والا’ تم پر مہربان ہو گا)۔اللہ رب العالمین کی نمایاں ترین صفت اس کی رحمت ہے، اسی طرح دینِ اسلام کی امتیازی خصوصیت اس کا دینِ رحمت ہونا ہے اور پیغمبرِ اسلام کا سب سے بڑا لقب “رحمة للعالمین” ہے۔ ظاہر ہے اگر آپ کی اپنی ذات و صفات اس رحمت کی آئینہ دار نہ ہو؛ تو گویا آپ کا کوئی بھی شعوری تعلق نہ دینِ رحمت سے ہے، نہ اس کے لانے والے رسولِ رحمت (صلعم) سے اور نہ ہی ان کو بھیجنے والے خدائے رحمان و رحیم سے۔ پھر آپ خود فیصلہ کیجئے کہ ایسی حالت میں آپ دنیا یا آخرت میں کسی قسم کی رحمت کے امیدوار یا حقدار کیسے ہو سکتے ہیں؟!

2- م= مغفرت___آخرت میں اپنے گناہوں کی بخشش کو یقینی بنانے اور ابدی نجات پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس دنیا میں دوسروں کی لغزشوں، کوتاہیوں بلکہ ایذاء رسانیوں کو بخش دیں (سورہ آل عمران، آیت، ۱۳۴؛ سورہ الجاثیہ، آیت، ۱۴-۱۵؛ سورہ الشوری، آیت، ۴۳، وغیرہ)۔ قرآن کے علاوہ پیغمبرِ اسلام (صلعم) کی حدیثوں میں بار بار اس کی ترغیب دی گئی ہے اور آپ (صلعم) کی پوری زندگی اس کا بہترین عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔

3- ض= ضمانت___یعنی “جهنم سے امان اور جنت میں داخلے کی ضمانت”۔ اس کے لئے آپ کو اس زمین پر دوسروں کا بے لوث خیر خواہ اور ان کے لئے بالکل بے ضرر بن کر جینا ہو گا۔ “مومن اور مسلم” کے لغوی معنی ہیں: ‘ امن اور سلامتی دینے والا’۔ اسی بنا پر احادیث میں بڑی کثرت اور شدت سے یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ شخص صاحبِ ایمان اور صاحبِ اسلام نہیں ہو سکتا جس کی شر انگیزی یا فتنہ پردازی سے دوسرے لوگ امن و امان میں نہیں۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں آپ (صلعم) نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ جنت میں داخلے کے لئے ایمان شرطِ لازم ہے اور ایمان کے لئے باہمی محبت شرطِ لازم اور باہمی محبت کی شرطِ لازم ہے: آپس میں امن اور سلامتی کی فضا قائم کرنا۔

4-(ا+ن)= اللہ/اسلام کی نصرت___ اللہ کی نصرت کا مطلب اس کے دین یعنی اسلام کی نصرت بذریعۂ دعوت ہے اور اس کی خاطر حسبِ ضرورت اپنے جان و مال اور وقت کی قربانی دینا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو قرآن میں “انصار اللہ”( خدا کے مددگار) کہا گیا ہے [سورہ الصف، آیت، 14] اور خدا نے ان کی مدد کا پختہ وعدہ کیا ہے(سورة محمد، آيت، 7) یہ نکتہ “رمضان” منصوبے کا واحد خارجی نشانہ ہے جس کا نفاذ داخلی استعداد اور خارجی حالات کی حقیقت پسندانہ رعایت سے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر کیا جائے گا؛ جبکہ اوّل الذکر تین نکات اس کے داخلی نشانے ہیں جو ہر صاحبِ ایمان سے ہر جگہ اور ہر حالت میں فردًا فردًا مطلوب ہیں۔

دعا گو، طالبٰ دعا:

ابو صالح انیس لقمان ندوی ، ابو ظبی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s