سیرت کا بیان

سیرت کا بیان 

أبو صالح آنیس لقمان ندوی

آبو ظبی۔ یکم ربیع الاول1437=12، دسمبر-2015

 “سیرت کا بیان” غالباّ مسلم معاشرہ کی سب سے زیادہ نمایاں اجتماعی سرگرمی ہے، جس کا اھتمام ھجری کیلینڈر کے تیسرے مہینہ، ربیع الاول میں پیغمبرِ اسلام (ص) کی ولادت کی یادگار کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہر سال اس مہینہ میں دنیا کے تقریباُ ہر خطہ کے مسلمان، اپنی مساجد اور دینی مدارس و دعوتی مراکز کے زیر اھتمام خصوصی پروگرام مرتب کرتے ہیں، جن میں سیرتِ رسول(ص) کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں اور نعتیہ کلام پیش کئے جاتے ہیں۔ مختلف زبانوں میں چھپنے والے مسلم جرائد و رسائل اس موضوع پر خصوصی شمارے یا ضمیمے بھی شائع کرتے ہیں۔ یہ ایک صحت مند روایت ہے، اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ضمن میں جتنے شاندار جشن اور کامیاب پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، وہ اپنے اصل مقصد کے حصول میں بھی اتنے ہی کامیاب ہوں۔ ان کا اصل مقصد، بلا اختلاف اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ پیغمبرانہ آئیڈیل کے مطابق مسلم فرد اور معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کی جائے۔ مگر مسلم معاشرہ کی بے عملی، بلکہ روز افزوں اخلاقی گراوٹ کے پیش نظر شاید ہی کوئی سنجیدہ شخص یا ادارہ اس سلسلہ میں کسی حقیقی کامیابی کا دعوی کر سکے۔

صدیوں سے جاری یہ بظاہر صحت مند روایت کیوں اتنی بے اثر ثابت ہوئی؟ اس کی وجہ میری نظر میں اس کا ایک غیر صحت مند پہلو ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلم معاشرے میں سیرت کا بیان “عظمتِ محمدی” کے بیان کے ہم معنی بن گیا ہے۔ جبکہ اسے، از روئے قرآن، “عبدیتِ محمدی” کا بیان ہونا چاہئے تھا۔ سرسری طور پر یہ محض ایک لفظ کا فرق ہے، مگر گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو اسی ایک لفظی فرق میں ملتِ اسلامیہ کے روشن ماضی اور تاریک حال کا اصل سبب پوشیدہ نظر آئے گا۔

سیرت کے عنوان سے”عظمتِ محمدی” کا بیان، کہنے اور سننے اور لکھنے اور پڑھنے والوں کے اندر خوش فہمی اور بے عملی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔وہ شعوری یا غیر شعوری طور اپنے آپ کو اس “عظمت” کا وارث بلکہ اس کے بنانے میں شریک سمجھنے لگتے ہیں اور مختلف مواقع پر نت نئے انداز سے اس کا تذکرہ ان  پر یہ سرور انگیز احساس  طاری کرتا ہے، کہ انہیں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں  پر فوقیت اور سبقت حاصل ہے۔  یہ وہی نفسیات ہے جسے ایک دوسرے سیاق میں قرآن نے “يحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا” (آل عمران، آیت 188) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے، یعنی کسی دینی یا سماجی یا انسانی خدمت میں آپ عملاً کوئی معمولی حصہ بھی نہ لیں، مگر اس کا کریڈٹ لینے کے سلسلے میں غیر معمولی جوش و خروش دکھائیں۔ عہدی نبوی میں مدینہ کی ایک محدود اقلیت اس نفسیاتی روگ میں مبتلا ہوئی تھی، مگر بعد کے دور میں ملت اسلامیہ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی اکثریت، کچھ کئے بغیر ہر قسم کا کریڈٹ لینے کی اس مہلک بیماری کا شکار ہو گئی۔ اس کے نتیجہ میں کم و بیش پوری دنیائے اسلام بتدریج “گفتار کے غازیوں” سے بھر گئی (الا ما شاء اللہ)، جبکہ اسلام کے دور اوّل کی تاریخ، اس کے برعکس، “کردار کے غازیوں” سے بھری نظر آتی ہے جس کو مشہور مستشرق فلپ ہٹی نے بجا طور پر “ہیروؤں کا گلزار” کہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے “کل” اور “آج” کے درمیان اس سنگین فرق کو کم کرنا ہے، تو اس کا نقطہ آغاز یہ ہو گا کہ سیرت نبوی کے بیان کی روایت کو “عظمتِ محمدی” کے بجائے “عبدیتِ محمدی” کا آئینہ دار بنایا جائے۔ 

“عظمتِ محمدی” کا چرچا، بے جا ملی فخر و ناز اور بے عملی کا مزاج ابھارتا ہے جبکہ “عبدیتِ محمدی” کا چرچا کرنے سے خود احتسابی، خدا ترسی اور اطاعت رسول کا مزاج ابھرتا ہے۔ ملت کے ذہنی رجحان میں اس بنیادی تبدیلی کے بغیر، کسی بھی دوسری اصلاحی یا ملی تحریک کے ذریعہ موجودہ مسلمانوں کو بے عملی اور بد عملی کی خندق سے نکالا نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کے بغیر ہر تدبیر ان کی مذکورہ مریضانہ نفسیات کا علاج کرنے کے بجائے اس کی جڑوں کو مزید پختہ کرے گی۔ 

شاید اسی اندیشہ کی بنا پر آپ (ص) نے اہل اسلام کو پیشگی خبردار کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے درمیان آپ کے “مقامِ عبدیت” کو چرچے کا موضوع بنائیں نہ کہ آپ کے”مقام عظمت” کو۔ مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت(حدیث 3445) کے مطابق آپ نے فرمایا:”أيها الناس لا تطروني كما أطرت النصارى المسيح ابن مريم، إنما أنا عبد، فقولوا: عبد الله ورسوله” یعنی: اے لوگو! تم میری تعریف میں اس طرح مبالغہ نہ کرو جیسے نصاری نے حضرت مسیح ابن مریم کی تعریف میں کیا۔ میں تو بس ایک بندہ ہوں لہذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔

قرآن مجید میں تمام انبیاء کرام (۴) کی بالعموم اور خاتم الانبیاء(ص) کی بالخصوص جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ‘عبدیت کا کمال’ ہے نہ کہ ‘انسانی عظمت کا کمال’۔ یعنی انہوں نے خدا کی بے مثل عظمت کے آگے اپنی کامل بندگی اور پر خلوص عبدیت کا مثالی مظاہرہ کیا اور اسی حیثیت سے وہ تمام انسانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ 

اسراء اور معراج کا سفر، جس کا تذکرہ عام طور واعظین آپ کی سب سے بڑی اور امتیازی شانِ عظمت کے طور پر کرتے ہیں، اسے اللہ تعالی نے قرآن میں آپ کی عبدیت کے ارتقائی مرحلہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے، چنانچہ، سورہ اسراء کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:”پاک ہے وہ ہستی جس نے ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر کرایا، جس کے گرد و پیش کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ اسے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں”۔

آپ (ص) کی بعثت کا مقصد اس دنیائے فانی میں عظمتوں کا مینار کھڑا کرنے کے لئے نہیں ہوئی تھی بلکہ انسانی عظمتوں کے ہجوم خدائے واحد کی عظمت سے سرشار ہو کر سچی عبدیت اور عبودیت کا پرفکٹ ماڈل( اسوۂ حسنہ) قائم کرنے کے لئے ہوئی تھی ۔

قرآن میں صرف ایک جگہ(سورۂ القلم ، آیت 4) پیغمبر اسلام (ص) کے حوالے سے ‘عظیم’ کا لفظ آیا ہے، مگر وہ بھی آپ کی شخصیت کے وصف میں نہیں بلکہ آپ کے بلند اخلاق کے وصف کے طور پر:”وانک لعلی خلق عظیم”۔   

سیرت کا بیان یا مطالعہ اگر آپ “عظمت محمدی” کے نقطہ نظر سے کریں تو آپ جھوٹے فخر کی نفسیات کا شکار ہو جائیں گے اور بالآخر آپ اسوہ محمدی کی سچی پیروی سے قاصر رہیں گے۔ کیونکہ اسوہ محمدی کی سچی پیروی صرف ان کے لئے ممکن ہے جو سیرت کے مطالعہ اور بیان سے عبدیت محمدی کے مقامات کی معرفت حاصل کریں۔

اس نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے یہاں “عبدیت محمدی” کی چند  واقعاتی مثالیں درج کی جاتی ہیں:  

۱- ایک دفعہ آپ نے اپنی باندی سے وضو کا پانی طلب کیا۔ مگر وہ باہر جاکر کھیل میں لگ گئی ۔ اس بے جا تاخیر پر آپ کو سخت غصہ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت أم سلمہ(رض) نے کسی طرح باندی اندر بلوایا۔ تاہم آپ (ص) نے وہاں باندی کے “آقا” کے بجائے “خدا کے بندہ کامل” کی حیثیت سے اپنے غصہ کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا کہ اگر قیامت کے دن بدلے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس مسواک سے تمہیں مارتا “لو لا خشیۃ القود یوم القیامۃ لأوجعتک بھذا السواک”

۲-مسیلمہ کذاب نے دعوی کیا کہ وہ نبوت میں آپ کا شریک ہے۔ اس نے آپ کو ایک خط میں لکھا کہ شریک نبوت کی حیثیت سے آدھی سرزمین عرب میری ہے اور آدھی آپ کی مگر قریش بڑے بے انصاف لوگ ہیں۔ یہ خط جتنا مضحکہ خیز تھا اتنا ہی اشتعال انگیز بھی تھا۔ مزید بآں، وہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کا کھلا انکار تھا۔مگر آپ نے اس کے جواب میں جو کچھ لکھا وہ اپنی پیغمبرانہ یا حاکمانہ شان کے بجائے آپ کی کامل عبدیت کا مظہر ہے، آپ نے لکھا کہ ساری زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور آخری انجام تو خدا شناس لوگوں کے لئے ہے : “إن الأرض للّٰہ یورثہا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین”

۳-فتحِ مکہ کے وقت آپ کے ساتھ دس ہزار سے زائد مسلح جانثار صحابہ تھے، خدا کی طرف سے بذریعہ خواب فتح کی پیشگی بشارت دی جا چکی تھی۔ مگر مکہ میں داخلہ کے وقت آپ کے اوپر فاتحانہ تمکنت نہیں، بلکہ بندگانہ عجز و رقت کی ایسی شدید کیفیت طاری تھی کہ آپ بار بار اپنی اونٹنی کی پشت پر جھک گویا مسلسل سجدے کر رہے تھے۔ آپ یا آپ کے اصحاب کی زبان پر “ہم جیت گئے”، یا “اسلام زندہ باد” یا “محمد زندہ باد” کے فخریہ نعرے نہیں۔ تھے، بلکہ سراپا عجز و نیاز میں ڈوبے ہوئے صرف اور صرف خدائے واحد کی تعریف و ستائش کے یہ الفاظ تھے کہ: الحمد للّٰہ وحدہ، صدق وعدہ و نصر عبدہ واعز جندہ وھزم الاحزاب وحدہ، لا الہ الا اللہ، لا نعبد الا ایاہ”

پیغمبر اسلام کا اسوہ حسنہ مختصر لفظوں میں یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے عظمت خدا وندی کی شعوری معرفت حاصل کرے تاکہ اس کا ایمان گہرا اور بصیرت پر مبنی ہو  اور پھر اس کے فطری تقاضہ کے طور وہ اپنے فکر و کردار کو خدا کی بے آمیز بندگی کے سانچہ میں ڈھال کر اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارے۔ اسی بے آمیز بندگی کا آخری صحیح ترین، کامل اور ابدی ماڈل ‘عبدیت محمدی’ کا ماڈل ہے۔ سیرت کا حقیقی بیان وہی ہے جس سے آپ کو عبدیت محمدی کا ادراک و عرفان ملے اور آپ کی سوچ اور عملی روش اس کے مطابق ڈھلتی چلی جائے۔ جو لوگ سیرت کے نام پر عظمت محمدی سے خود کو اور دوسروں کو سرشار کرنے میں سرگرم ہیں، انہیں حضرت ابو بکر (رض) کے اس تقریر کی روشنی میں اپنا احتساب کرنا چاہئے:”من كان يعبد محمدًا فإن محمدًا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت. وما محمد إلا رسول، قد خلت من قبله الرسل، أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم، ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئاً وسيجزي الله الشاكرين”.

————

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s