کامیابی کا فارمولا

کامیابی کا فارمولا

(انیس لقمان ندوی- ابو ظبی)

‘کامیابی’ ایک مرکب لفظ ہے جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے: ‘کام’+’یابی’، جس کا مطلب ہے: “کام پانا”۔ یہی لفظی مفہوم میری نظر میں کامیابی کی صحیح ترین تعریف ہے، یعنی کسی انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے “حقیقی کام” کو پا لے اور اسی “کام” کو کما حقہ انجام دینے میں اپنی عمر کو کھپا دے۔باقی تمام تعریفات یا کامیابی کے فارمولے اور قصے، اسی اصل کی تشریحات ہیں۔ 

 پچھلے سو دیڑھ سو برس میں کامیابی کے موضوع پر ہزاروں کتابیں چھپی ہیں اور مسلسل چھپ رہی ہیں، جن میں “کامیابی” کے فارمولے اور “کامیاب” انسانوں کے سچے یا خیالی قصے بیان کئے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر کے اشتہارات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں، اس لئے انہیں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی(best seller) کتابیں کہا جاتا ہے۔ لائبریریوں اور تجارتی کتب خانوں میں ایسی کتابوں کا اندراج کامیابی کا ادب (success literature) کے ایک مستقل عنوان کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ نشر و اشاعت کے میدان میں سکسس لٹریچر، کم از کم اس کے لکھنے، چھاپنے اور بیچنے والوں کے لئے، آج سب سے زیادہ کامیاب اور منافع بخش انڈسٹری ہے۔ البتہ اس بات کا کوئی ٹھوس علمی ثبوت ملنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کو خریدنے اور پڑھنے والے لوگ بھی ان کے ذریعہ اتنے ہی کامیاب ہوئے ہوں۔

موجودہ سکسس لٹریچربظاہر ایک سنجیدہ ادب معلوم ہوتا ہے،مگر میری رائے میں وہ تقریباً پچانوے فیصد سے زیادہ ایک سطحی قسم کا تفریحی سامان (entertainment) ہے، جو پڑھنے والے کے اندر جلد از جلد اپنا آئیڈیل “ہیرو یا چیمپین یا ملٹی ملینیر یا کامیاب بزنس مین یا سیلزمین یا جنرل مینیجر” وغیرہ بننے کا ایک مبہم سا وقتی جوش تو اُبھار دیتا ہے، مگر اس سے انسانی شخصیت اور کردار میں کوئی گہرا اور پائیدار ارتقائی عمل جاری نہیں ہوتا، جو اسے ایک ایسی کامیاب اور با معنی زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے، جو بحیثیت “انسان” ہر ایک کا مقدر ہے، بلکہ وہی اس دنیا میں اس کی اساسی ذمہ داری ہے۔

سکسس لٹریچر کا بزنس آج دنیا بھر میں اتنا زیادہ مقبول اور کامیاب کیوں ہے؟ اس کا گہرا تجزیہ کرنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اس کا راز انسان کی “خود پسندی” اور “عاجلہ پسندی” کا رجحان ہے۔ کامیابی کے موضوع پر لکھنے اور بولنے والے اس رجحان کو بھر پور غذا فراہم کرتے ہیں اور ایک عام آدمی ان کو سننے اور پڑھنے میں اپنی فوری نفسیاتی تسکین پالیتا ہے۔ جس طرح قدیم زمانے میں شعراء اور ادباء بادشاہوں کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے تھے تاکہ وہ خوش ہو کر انہیں انعامات سے نوازیں، میں سمجھتا ہوں آج کا سکسس لٹریچر بڑی حد تک اسی قدیم “مدح سرائی” کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے، اس زمانی فرق کے ساتھ، کہ جمہوریت کے اس دور میں اس “مدح سرائی”کے “مخاطب” یا “خریدار” اب صرف بادشاہ اور امراء نہیں رہے، بلکہ عام لوگ بھی اس کو سننے یا پڑھنے کی “قیمت” چکا کر اس خیال سے “محظوظ” ہو سکتے ہیں کہ وہ “دنیا کے عظیم ترین اور کامیاب ترین افراد ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں اور جن کا ہر کام انوکھا اور لا فانی ہے”۔ 

اس سلسلہ میں مجھے ایک لطیفہ یاد آتا ہے، جو “کامیابی کے کاروبار” کی اس زبردست کامیابی کے پیچھے کام کرنے والی نفسیات کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔ برسوں پہلے کسی اخبار میں ایک اشتہار چھپا:

“ایک روپے میں لکھ پتی بنئے۔مزید تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر ایک روپیہ کا منی آرڈر اور ایک سادہ پوسٹ کارڈ اپنے پتے کے ساتھ جلد از جلد بھیجیں”۔ 

اس اشتہار کو پڑھ کر ایک مہینے میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے اس پر عمل کیا، اور بواپسی ڈاک، سب کو ان کے بھیجے ہوئے پوسٹ کارڈ پر یہ مختصر سا فارمولا جواباً موصول ہوا: “ایسی ہی ایک اسکیم آپ بھی شروع کر دیجئے”!

میں نے اوپر کامیابی کی جو تعریف کی ہے، یعنی “کام پانا”، اسے آپ وسیع سکسس لٹریچر کے پانچ فیصد سنجیدہ حصہ کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔ “کامیابی” کسی منزل یا مقام یا طلسماتی چیز کا نام نہیں، جسے پاکر آپ ہمیشہ کے لئے کامیاب اور سعادت مند بن جائیں۔ “کامیابی” درحقیقت ایک ایک متعین رخ پر، با معنی انداز میں اپنے روز و شب گزارنے کا تا عمر جاری رہنے والا سفر ہے۔اس بنا پر “کامیابی” کا سادہ اور عملی فارمولا یہ ہو گا کہ آپ جہاں کہیں اور جس حال میں ہوں، وہاں اپنے لئے ایک ایسا مثبت اور مفید “کام” پالیں، جس میں اپنے وقت اور ذہنی صلاحیتوں اور عملی قوتوں کا یکسوئی کے ساتھ بھر پور استعمال کر سکیں ۔ اسی “کام” کی شعوری دریافت اور اسے یکسوئی سے انجام دینے کی مسلسل تگ و دو کے لئے “امکانات” سے بھری ہوئی یہ عظیم کائنات بنا کر خالق نے آپ کو اس میں ایک محدود مدت کے لئے بسایا ہے۔ کیونکہ اس کا منشا یہی ہے کہ ہر انسان یہاں اپنی مقررہ مدت ختم ہونے تک ان “امکانات” کو اس طرح برتے کہ بالآخر وہ یہاں سے “کامیاب” بن کر رخصت ہو۔ 

اب سوال یہ ہے کہ وہ “کام” کیا ہے جس کو “پانا” کامیابی ہے؟ اس کا جواب خالقِ کائنات نے خود دے دیا ہے۔ وہ ہے اپنی زندگی کے ہر لمحہ اور اس لمحہ میں میسر ہر “امکان” کو خالق کی مرضی کے مطابق، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی منفعت میں استعمال کریں، اس سے قطع نظر کہ جو امکانات بر وقت اپ کی دسترس میں ہیں وہ چھوٹے ہیں یا بڑے یا کم ہیں یا زیادہ۔ کیونکہ اپ کی “کامیابی” کا دار و مدار امکانات اور وسائل کی نوعیت اور مقدار پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ اپ نے ان کو کتنا اور کہاں اور کیسے اور کس مقصد کے لئے استعمال کیا۔ 

دوسرے لفظوں میں، کامیابی خواہ مادی ہو یا معنوی، وہ کسی “امکان” کو اپنے شعوری اور سنجیدہ اور منظم عمل سے ایک “با معنی واقعہ” میں تبدیل کرنے کا نام ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا ہر “امکان” بیک وقت مادی اور معنوی دونوں نوعیت کی “کامیابی” کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مثلاً گیہوں کا دانہ ایک “امکان”ہے، جس پر سنجیدہ اور منظم جد و جہد کرکے آپ “گیہوں کی فصل” کا با معنی واقعہ وجود میں لا سکتے ہیں۔ یہ اس کا مادی پہلو ہوا۔ پھر جب اس واقعہ پر آپ مزید سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو آپ پاتے ہیں کہ “فصل” کے اس واقعہ کو وجود میں لانے کے لئے صرف آپ کی ذاتی محنت کافی نہ تھی، بلکہ ہوا، پانی، سورج کی روشنی، مٹی کی زرخیزی اور دوسرے بے شمار کائناتی عناصر کی ہم آہنگی کے علاوہ دوسرے بہت سے انسانوں کی معاونت بھی درکار تھی۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر “حمد و شکر” کا فطری جذبہ ابل پڑتا ہے اور اس کے اظہار کے لئے آپ اپنی فصل کا ایک حصہ خالق کےنام پر دوسرے ضرورت مندوں کو دیتے ہیں۔ یہ اسی بظاہر مادی واقعہ کا معنوی یا عبادتی پہلو ہے۔ 

علی ہذا القیاس، انسان کی زندگی کے مختلف مرحلے، اس کی دماغی اور عملی قوتیں، اس کی رشتہ داریاں اور سماجی تعلقات، اس کی علمی اور تکنیکی مہارتیں، اور اس پر گزرنے والے خوشگوار یا نا خوشگوار حالات وغیرہ، یہ سب اس کے لئے ہمہ وقت ایسے “کام” کے مواقع اور امکانات فراہم کرتے ہیں جن کو وہ مادی اور معنوی دونوں قسم کے مثبت واقعات میں تبدیل کرنے کی پیہم کوشش کے ذریعہ اپنے سفرِ حیات کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ 

گویا، اس دنیا میں ہر شخص کے لئے سچی کامیابی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ بر وقت حاصل شدہ “امکان” یا “امکانات” کو شعوری طور پر جانے اور اس کو مادی اور معنوی دونوں پہلوؤں سے ایسے واقعے میں تبدیل کرنے کے سنجیدہ عمل میں مسلسل سرگرم رہے، جن میں ایک طرف اپنی اور دوسرں کی منفعت ہو اور دوسری طرف خالق کی عبادت۔ کامیابی کا یہ فارمولا ایسا ہے جسے ہر با شعور مرد اور عورت، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، تندرست ہو یا بیمار، نوجوان ہو یا بوڑھا، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، اس کے حالات سازگار ہوں یا ناسازگار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کر سکتا ہے۔ 

آخری بات جو اس سلسلہ میں یاد رکھنی چاہئے یہ ہے کہ “بر وقت حاصل شدہ امکان” ہی حقیقی امکان ہے اور آپ صرف اسی کو آج یا اس وقت استعمال کر سکتے ہیں اور بتدریج آج کے “نا ممکن” کو “ممکن” بنا سکتے ہیں۔۔ جو امکان بر وقت آپ کو حاصل نہیں، وہ امکان نہیں بلکہ آپ کی خوش خیالی یا وہم یا خود فریبی ہے، جس کا انتظار کرکے یا ان کے پیچھے دوڑ کر یا ان کے فقدان کا شکوہ کر کے آپ اپنے آج کے موجودہ امکانات کو بھی کھو دیں گے۔ 

کامیابی کا راستہ، آج کے “ممکنات” سے آج کے “نا ممکنات” کی طرف جاتا ہے، اس کے بر عکس، ناکامی کا راستہ، آج کے “ناممکنات” کے در پے ہو کر آج کے “ممکنات” سے محرومی کی طرف۔ 

واضح ہو کہ کامیابی کا یہ فارمولا، تاریخ کے سب سے زیادہ عظیم اور ہر پہلو سے کامیاب ترین انسان یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی ترجمانی ہے۔ آپ نے فرمایا: “قد أفلح من أسلم ورُزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه” یعنی وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لے آئے(اپنی زندگی خدا کی مرضی کے تابع کردے)، اور اسے بقدر کفایت روزی مل جائے اور پھر خدا کی توفیق سے وہ اس پر قناعت کرتے ہوئے اپنی عمر گزارے۔

ASAL Nadwi-Abu Dhabi

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s