“عليكم أنفسكم”=اپنی فکر کرو

مذکورہ جملہ سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۱۰۵ کا ایک حصہ ہے۔ اردو میں اس کا لفظی مفہوم تقریباّ وہی ہے، جو اوپر عربی عبارت کے متوازی لکھا گیا ہے، یعنی “اپنی فکر کرو”۔بظاهر  یہ وہی بات معلوم ہوتی ہے جسے عام طور پر انگریزی میں یوں کہا جاتا ہے: 

Mind your own business    

یعنی: اپنے کام سے کام رکھو۔

اس بنا پر اکثر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسا ہے تو پھر دوسروں 

مگر قرآنی آیت میں مزید تدبر سے واضح ہوتا ہے کہ ۔۔۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ اس آیت میں “علیکم آنفسکم” (تم اپنی فکر کرو، یا تمہارے اوپر صرف اپنی ذمہ داری ہے) سے مراد آخرت کی جوابدہی ہے یہ وہی اصول ہے جو سورہ النجم کی آیت نمبر 38 میں یوں بیان ہوا ہے” ألا تزر وازرۃ وزر أخری” یعنی کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 

تاہم اس دنیا میں ایک مؤمن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہدایت کی سیدھی راہ پر قائم رکھتے ہوئے، اس بات کی بھی ہر ممکن کوشش کرے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور رشتہ دار نیز وسیع تر انسانی کنبہ کو بھی صراط مستقیم پر چلنے کی ترغیب اور دعوت دے۔ سورہ التحریم(آیت 6) میں کہا گیا ہے:”قوا أنفسکم وأھلیکم نارًا” یعنی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ”۔ زیادہ گہرائی سے دیکھئے تو دوسروں کو “آگ سے بچانے کی یہ کوشش” جتنی ان کے لئے ہے، انجام کار وہ اتنی ہی اپنے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اس کوشش کا نام “نصیحت” ہے جبکہ غیر مسلموں کے درمیان اسی کا نام دعوت ہے۔ اس نصیحت اور دعوت کا کوئی ٹھوس مثبت نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں، ایک مؤمن اس کا ذمہ دار نہیں، خدا کے یہاں اس کی جوابدہی صرف اس دائرہ میں ہو گی کہ وہ خود کس حد تک ہدایت پر قائم رہا اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کو ہدایت پر لانے کی سنجیدہ کوشش کس حد تک کی۔ اسی اصول کی وضاحت کے لئے سورہ التحریم کے آخر میں حضرت نوح اور حضرت لوط ( علیہما السلام) کی بیویوں کی مثال دی گئی ہے جو براہ راست پیغمبر کی ہدایت، نصیحت اور رفاقت کے باوجود، فکر و عمل کے اعتبار سے اپنے ماحول کی فرسودہ اور فاسد روایات سے اوپر نہ اٹھ سکیں، بلکہ حق سے منہ موڑا اور باطل کا ساتھ دیا۔ یہی حال نوح (۴) کے ایک بیٹے کا ہوا جیسا کہ سورہ ہود(آیات 42-43) میں بیان ہوا ہے۔

تاہم اس کے باوجود، نصیحت اور دعوت کا عمل تا عمر جاری رہنا چاہئے۔ کیونکہ اس عمل کو مخلصانہ طور پر مسلسل کرتے رہنا ایک مؤمن کی ذمہ داری ہے جبکہ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کی جوابدہی اس کے مخاطبین کی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s