کامیابی کا فارمولا

کامیابی کا فارمولا

(انیس لقمان ندوی- ابو ظبی)

‘کامیابی’ ایک مرکب لفظ ہے جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے: ‘کام’+’یابی’، جس کا مطلب ہے: “کام پانا”۔ یہی لفظی مفہوم میری نظر میں کامیابی کی صحیح ترین تعریف ہے، یعنی کسی انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے “حقیقی کام” کو پا لے اور اسی “کام” کو کما حقہ انجام دینے میں اپنی عمر کو کھپا دے۔باقی تمام تعریفات یا کامیابی کے فارمولے اور قصے، اسی اصل کی تشریحات ہیں۔ 

 پچھلے سو دیڑھ سو برس میں کامیابی کے موضوع پر ہزاروں کتابیں چھپی ہیں اور مسلسل چھپ رہی ہیں، جن میں “کامیابی” کے فارمولے اور “کامیاب” انسانوں کے سچے یا خیالی قصے بیان کئے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر کے اشتہارات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں، اس لئے انہیں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی(best seller) کتابیں کہا جاتا ہے۔ لائبریریوں اور تجارتی کتب خانوں میں ایسی کتابوں کا اندراج کامیابی کا ادب (success literature) کے ایک مستقل عنوان کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ نشر و اشاعت کے میدان میں سکسس لٹریچر، کم از کم اس کے لکھنے، چھاپنے اور بیچنے والوں کے لئے، آج سب سے زیادہ کامیاب اور منافع بخش انڈسٹری ہے۔ البتہ اس بات کا کوئی ٹھوس علمی ثبوت ملنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کو خریدنے اور پڑھنے والے لوگ بھی ان کے ذریعہ اتنے ہی کامیاب ہوئے ہوں۔

موجودہ سکسس لٹریچربظاہر ایک سنجیدہ ادب معلوم ہوتا ہے،مگر میری رائے میں وہ تقریباً پچانوے فیصد سے زیادہ ایک سطحی قسم کا تفریحی سامان (entertainment) ہے، جو پڑھنے والے کے اندر جلد از جلد اپنا آئیڈیل “ہیرو یا چیمپین یا ملٹی ملینیر یا کامیاب بزنس مین یا سیلزمین یا جنرل مینیجر” وغیرہ بننے کا ایک مبہم سا وقتی جوش تو اُبھار دیتا ہے، مگر اس سے انسانی شخصیت اور کردار میں کوئی گہرا اور پائیدار ارتقائی عمل جاری نہیں ہوتا، جو اسے ایک ایسی کامیاب اور با معنی زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے، جو بحیثیت “انسان” ہر ایک کا مقدر ہے، بلکہ وہی اس دنیا میں اس کی اساسی ذمہ داری ہے۔

سکسس لٹریچر کا بزنس آج دنیا بھر میں اتنا زیادہ مقبول اور کامیاب کیوں ہے؟ اس کا گہرا تجزیہ کرنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اس کا راز انسان کی “خود پسندی” اور “عاجلہ پسندی” کا رجحان ہے۔ کامیابی کے موضوع پر لکھنے اور بولنے والے اس رجحان کو بھر پور غذا فراہم کرتے ہیں اور ایک عام آدمی ان کو سننے اور پڑھنے میں اپنی فوری نفسیاتی تسکین پالیتا ہے۔ جس طرح قدیم زمانے میں شعراء اور ادباء بادشاہوں کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے تھے تاکہ وہ خوش ہو کر انہیں انعامات سے نوازیں، میں سمجھتا ہوں آج کا سکسس لٹریچر بڑی حد تک اسی قدیم “مدح سرائی” کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے، اس زمانی فرق کے ساتھ، کہ جمہوریت کے اس دور میں اس “مدح سرائی”کے “مخاطب” یا “خریدار” اب صرف بادشاہ اور امراء نہیں رہے، بلکہ عام لوگ بھی اس کو سننے یا پڑھنے کی “قیمت” چکا کر اس خیال سے “محظوظ” ہو سکتے ہیں کہ وہ “دنیا کے عظیم ترین اور کامیاب ترین افراد ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں اور جن کا ہر کام انوکھا اور لا فانی ہے”۔ 

اس سلسلہ میں مجھے ایک لطیفہ یاد آتا ہے، جو “کامیابی کے کاروبار” کی اس زبردست کامیابی کے پیچھے کام کرنے والی نفسیات کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔ برسوں پہلے کسی اخبار میں ایک اشتہار چھپا:

“ایک روپے میں لکھ پتی بنئے۔مزید تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر ایک روپیہ کا منی آرڈر اور ایک سادہ پوسٹ کارڈ اپنے پتے کے ساتھ جلد از جلد بھیجیں”۔ 

اس اشتہار کو پڑھ کر ایک مہینے میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے اس پر عمل کیا، اور بواپسی ڈاک، سب کو ان کے بھیجے ہوئے پوسٹ کارڈ پر یہ مختصر سا فارمولا جواباً موصول ہوا: “ایسی ہی ایک اسکیم آپ بھی شروع کر دیجئے”!

میں نے اوپر کامیابی کی جو تعریف کی ہے، یعنی “کام پانا”، اسے آپ وسیع سکسس لٹریچر کے پانچ فیصد سنجیدہ حصہ کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔ “کامیابی” کسی منزل یا مقام یا طلسماتی چیز کا نام نہیں، جسے پاکر آپ ہمیشہ کے لئے کامیاب اور سعادت مند بن جائیں۔ “کامیابی” درحقیقت ایک ایک متعین رخ پر، با معنی انداز میں اپنے روز و شب گزارنے کا تا عمر جاری رہنے والا سفر ہے۔اس بنا پر “کامیابی” کا سادہ اور عملی فارمولا یہ ہو گا کہ آپ جہاں کہیں اور جس حال میں ہوں، وہاں اپنے لئے ایک ایسا مثبت اور مفید “کام” پالیں، جس میں اپنے وقت اور ذہنی صلاحیتوں اور عملی قوتوں کا یکسوئی کے ساتھ بھر پور استعمال کر سکیں ۔ اسی “کام” کی شعوری دریافت اور اسے یکسوئی سے انجام دینے کی مسلسل تگ و دو کے لئے “امکانات” سے بھری ہوئی یہ عظیم کائنات بنا کر خالق نے آپ کو اس میں ایک محدود مدت کے لئے بسایا ہے۔ کیونکہ اس کا منشا یہی ہے کہ ہر انسان یہاں اپنی مقررہ مدت ختم ہونے تک ان “امکانات” کو اس طرح برتے کہ بالآخر وہ یہاں سے “کامیاب” بن کر رخصت ہو۔ 

اب سوال یہ ہے کہ وہ “کام” کیا ہے جس کو “پانا” کامیابی ہے؟ اس کا جواب خالقِ کائنات نے خود دے دیا ہے۔ وہ ہے اپنی زندگی کے ہر لمحہ اور اس لمحہ میں میسر ہر “امکان” کو خالق کی مرضی کے مطابق، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی منفعت میں استعمال کریں، اس سے قطع نظر کہ جو امکانات بر وقت اپ کی دسترس میں ہیں وہ چھوٹے ہیں یا بڑے یا کم ہیں یا زیادہ۔ کیونکہ اپ کی “کامیابی” کا دار و مدار امکانات اور وسائل کی نوعیت اور مقدار پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ اپ نے ان کو کتنا اور کہاں اور کیسے اور کس مقصد کے لئے استعمال کیا۔ 

دوسرے لفظوں میں، کامیابی خواہ مادی ہو یا معنوی، وہ کسی “امکان” کو اپنے شعوری اور سنجیدہ اور منظم عمل سے ایک “با معنی واقعہ” میں تبدیل کرنے کا نام ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا ہر “امکان” بیک وقت مادی اور معنوی دونوں نوعیت کی “کامیابی” کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مثلاً گیہوں کا دانہ ایک “امکان”ہے، جس پر سنجیدہ اور منظم جد و جہد کرکے آپ “گیہوں کی فصل” کا با معنی واقعہ وجود میں لا سکتے ہیں۔ یہ اس کا مادی پہلو ہوا۔ پھر جب اس واقعہ پر آپ مزید سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو آپ پاتے ہیں کہ “فصل” کے اس واقعہ کو وجود میں لانے کے لئے صرف آپ کی ذاتی محنت کافی نہ تھی، بلکہ ہوا، پانی، سورج کی روشنی، مٹی کی زرخیزی اور دوسرے بے شمار کائناتی عناصر کی ہم آہنگی کے علاوہ دوسرے بہت سے انسانوں کی معاونت بھی درکار تھی۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر “حمد و شکر” کا فطری جذبہ ابل پڑتا ہے اور اس کے اظہار کے لئے آپ اپنی فصل کا ایک حصہ خالق کےنام پر دوسرے ضرورت مندوں کو دیتے ہیں۔ یہ اسی بظاہر مادی واقعہ کا معنوی یا عبادتی پہلو ہے۔ 

علی ہذا القیاس، انسان کی زندگی کے مختلف مرحلے، اس کی دماغی اور عملی قوتیں، اس کی رشتہ داریاں اور سماجی تعلقات، اس کی علمی اور تکنیکی مہارتیں، اور اس پر گزرنے والے خوشگوار یا نا خوشگوار حالات وغیرہ، یہ سب اس کے لئے ہمہ وقت ایسے “کام” کے مواقع اور امکانات فراہم کرتے ہیں جن کو وہ مادی اور معنوی دونوں قسم کے مثبت واقعات میں تبدیل کرنے کی پیہم کوشش کے ذریعہ اپنے سفرِ حیات کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ 

گویا، اس دنیا میں ہر شخص کے لئے سچی کامیابی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ بر وقت حاصل شدہ “امکان” یا “امکانات” کو شعوری طور پر جانے اور اس کو مادی اور معنوی دونوں پہلوؤں سے ایسے واقعے میں تبدیل کرنے کے سنجیدہ عمل میں مسلسل سرگرم رہے، جن میں ایک طرف اپنی اور دوسرں کی منفعت ہو اور دوسری طرف خالق کی عبادت۔ کامیابی کا یہ فارمولا ایسا ہے جسے ہر با شعور مرد اور عورت، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، تندرست ہو یا بیمار، نوجوان ہو یا بوڑھا، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، اس کے حالات سازگار ہوں یا ناسازگار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کر سکتا ہے۔ 

آخری بات جو اس سلسلہ میں یاد رکھنی چاہئے یہ ہے کہ “بر وقت حاصل شدہ امکان” ہی حقیقی امکان ہے اور آپ صرف اسی کو آج یا اس وقت استعمال کر سکتے ہیں اور بتدریج آج کے “نا ممکن” کو “ممکن” بنا سکتے ہیں۔۔ جو امکان بر وقت آپ کو حاصل نہیں، وہ امکان نہیں بلکہ آپ کی خوش خیالی یا وہم یا خود فریبی ہے، جس کا انتظار کرکے یا ان کے پیچھے دوڑ کر یا ان کے فقدان کا شکوہ کر کے آپ اپنے آج کے موجودہ امکانات کو بھی کھو دیں گے۔ 

کامیابی کا راستہ، آج کے “ممکنات” سے آج کے “نا ممکنات” کی طرف جاتا ہے، اس کے بر عکس، ناکامی کا راستہ، آج کے “ناممکنات” کے در پے ہو کر آج کے “ممکنات” سے محرومی کی طرف۔ 

واضح ہو کہ کامیابی کا یہ فارمولا، تاریخ کے سب سے زیادہ عظیم اور ہر پہلو سے کامیاب ترین انسان یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی ترجمانی ہے۔ آپ نے فرمایا: “قد أفلح من أسلم ورُزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه” یعنی وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لے آئے(اپنی زندگی خدا کی مرضی کے تابع کردے)، اور اسے بقدر کفایت روزی مل جائے اور پھر خدا کی توفیق سے وہ اس پر قناعت کرتے ہوئے اپنی عمر گزارے۔

ASAL Nadwi-Abu Dhabi

وقت شناسی

وقت شناسی (۲/۱)

(یکم جنوری ۲۰۰۰)

“Kazo, Move fast, we are getting too late”.

“Papa, How did it get so late so soon!

“کازو، جلدی چلو، ہمیں بہت دیر ہو رہی ہے”۔

“ابا، اتنی جلدی اتنی دیر کیسے ہو گئی”! 

ایک یوروپین باپ اور اس کی دس سالہ لڑکی کے درمیان یہ مکالمہ میں نے اپنی عشائیہ چہل قدمی کے دوران ایک سوپر مارکیٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے سنا۔ دونوں جملے انتہائی سادہ اور بظاہر تضاد پر مبنی ہیں، مگر میں نے غور کیا تو مجھے اس سرسری مکالمے میں انسانی زندگی کے ایک نہایت المناک پہلو کی تصویر جھلکتی نظر آئی۔ وہ ہے– وقت کی قدر نہ پہچاننا اور اس کے استعمال میں تباہ کن غفلت اور نادانی برتنا، جو غالباً انسانی تاریخ میں آج اپنی آخری حد کو پہنچ چکا ہے اور اس کے مہلک مظاہر شاید سب سے زیادہ مسلم گھرانوں اور بستیوں میں پائے جاتے ہیں(إلا ما شاء الله)۔  

آج کل بزنس کی دنیا میں وقت کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وقت پیسہ ہے (Time is money )۔ مگر یہ وقت کی قدروقیمت کا بہت سطحی اندازہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت ، زندگی کی طرح، انمول ہے؛ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ زندگی عملاً وقت کے شعوری ادراک کا ہی دوسرا نام ہے جبکہ موت، وقت کے اسی شعوری ادراک کو کھو دینے کا نام ہے۔ 

مال و دولت اور دوسرے اسبابِ زندگی پر کم و بیش آپ براہ راست کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ جتنا چاہیں آپ انہیں خرچ کریں اور جتنا چاہیں اندوختہ کریں۔ مگر وقت کا سرمایہ ایسی چیز ہے جس پر کسی انسان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ وہ براہ راست قدرت کے کنٹرول میں ہے۔ سونے یا چاندی کا ایک سکہ اگر کھو جائے تو آپ اسے تلاش کر کے یا مزید محنت کر کے دوبارہ پا سکتےہیں، لیکن وقت کے گزرتے ہوئے لمحات کو نہ آپ روک سکتے نہ کبھی کسی ایک گزرے ہوئے لمحہ کو کسی بھی قیمت پر لوٹا سکتے ہیں۔ گھڑی بظاہر آپ کو وقت بتاتی ہے، مگر زیادہ گہرائی سے سوچیں تو آپ پر منکشف ہو گا کہ گھڑی کی سوئیاں صرف یہ بتاتی ہیں کہ کتنا وقت آپ کی دست رس سے نکل چکا ہے اور مسلسل نکلا جا رہا ہے۔ 

دن اور رات کی شکل میں وقت کی مقدار اور رفتار، امیر اور فقیر، حاکم اور محکوم، چھوٹے اور بڑے، سب کے لئے یکساں ہے۔ وہ اشیائے صَرف کی طرح نہ دنیا کے کسی بازار میں خرید و فروخت کے لئے دستیاب ہوتا ہے نہ کسی کھیت یا کارخانہ میں اپنے حسب منشا یا حسب ضرورت اس کی پیداوار کی جا سکتی ہے۔ ایک مطلق العنان شہنشاہ اپنی تمام تر دولت اور سیاسی و عسکری طاقت کے زور پر اپنے دن اور رات کی پیمائش کو ایک بے سر و سامان فقیر کے دن اور رات کے مقابلہ میں نہ گھٹا سکتا ہے، نہ بڑھا سکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں یکساں طور پر وقت کے “قبضہ” میں ہیں اور وقت ہر ایک کے “قبضہ” سے مکمل طور پر آزاد، خدا کی تخلیقی اسکیم کے مطابق؛ اپنے دامن میں ہر ایک کے عمل اور بے عملی یا حُسنِ عمل اور بد عملی کے آثار و نقوش لئے ہوئے، آگے کی طرف پیہم رواں دواں رہتا ہے۔ 

اس ضمن میں ایک اور نازک فرق، جو صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، یہ ہے کہ مال و دولت یا کوئی اور چیز جب تک استعمال نہ کی جائے وہ صَرف (خرچ) نہیں ہو گی، اسی لئےاسے آئندہ کے لئے بچا کر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم وقت کا معاملہ استثنائی طور پر ہر شئے سے مختلف ہے، آپ خواہ شعوری طور پر وقت کا استعمال کریں یا نہ کریں، وہ اپنی قدرتی رفتار سے لمحہ بہ لمحہ بلا توقف خود بخود صَرف ہوتا رہتا ہے اور جب کسی خارجی محرک کے تحت آپ گزرے ہوئے وقت کے بارے میں اپنی غفلت سے چونکتے ہیں، تو آپ کا رد عمل مذکورہ بچی کی طرح نا قابل فہم حیرت اور تضاد پر مبنی ہوتا ہے:”اتنی جلدی اتنی دیر کیسے ہو گئی”!

How did it get so late so soon!

وقت گزر جانے کے بعد آپ کسی شاعر کی حسرت آمیز خیالی ترنگ میں کتنا ہی لَے سے لَے ملائیں کہ:

“دوڑ پیچھےکی طرف اے گردشِ ایام تو”!

مگر وقت آپ کی حسرتوں اور خوش خیالیوں سے بے نیاز، آگے کی سمت ہی دوڑتا چلا جائے گا۔  

(باقی آئندہ)

“عليكم أنفسكم”=اپنی فکر کرو

مذکورہ جملہ سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۱۰۵ کا ایک حصہ ہے۔ اردو میں اس کا لفظی مفہوم تقریباّ وہی ہے، جو اوپر عربی عبارت کے متوازی لکھا گیا ہے، یعنی “اپنی فکر کرو”۔بظاهر  یہ وہی بات معلوم ہوتی ہے جسے عام طور پر انگریزی میں یوں کہا جاتا ہے: 

Mind your own business    

یعنی: اپنے کام سے کام رکھو۔

اس بنا پر اکثر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسا ہے تو پھر دوسروں 

مگر قرآنی آیت میں مزید تدبر سے واضح ہوتا ہے کہ ۔۔۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ اس آیت میں “علیکم آنفسکم” (تم اپنی فکر کرو، یا تمہارے اوپر صرف اپنی ذمہ داری ہے) سے مراد آخرت کی جوابدہی ہے یہ وہی اصول ہے جو سورہ النجم کی آیت نمبر 38 میں یوں بیان ہوا ہے” ألا تزر وازرۃ وزر أخری” یعنی کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 

تاہم اس دنیا میں ایک مؤمن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہدایت کی سیدھی راہ پر قائم رکھتے ہوئے، اس بات کی بھی ہر ممکن کوشش کرے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور رشتہ دار نیز وسیع تر انسانی کنبہ کو بھی صراط مستقیم پر چلنے کی ترغیب اور دعوت دے۔ سورہ التحریم(آیت 6) میں کہا گیا ہے:”قوا أنفسکم وأھلیکم نارًا” یعنی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ”۔ زیادہ گہرائی سے دیکھئے تو دوسروں کو “آگ سے بچانے کی یہ کوشش” جتنی ان کے لئے ہے، انجام کار وہ اتنی ہی اپنے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اس کوشش کا نام “نصیحت” ہے جبکہ غیر مسلموں کے درمیان اسی کا نام دعوت ہے۔ اس نصیحت اور دعوت کا کوئی ٹھوس مثبت نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں، ایک مؤمن اس کا ذمہ دار نہیں، خدا کے یہاں اس کی جوابدہی صرف اس دائرہ میں ہو گی کہ وہ خود کس حد تک ہدایت پر قائم رہا اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کو ہدایت پر لانے کی سنجیدہ کوشش کس حد تک کی۔ اسی اصول کی وضاحت کے لئے سورہ التحریم کے آخر میں حضرت نوح اور حضرت لوط ( علیہما السلام) کی بیویوں کی مثال دی گئی ہے جو براہ راست پیغمبر کی ہدایت، نصیحت اور رفاقت کے باوجود، فکر و عمل کے اعتبار سے اپنے ماحول کی فرسودہ اور فاسد روایات سے اوپر نہ اٹھ سکیں، بلکہ حق سے منہ موڑا اور باطل کا ساتھ دیا۔ یہی حال نوح (۴) کے ایک بیٹے کا ہوا جیسا کہ سورہ ہود(آیات 42-43) میں بیان ہوا ہے۔

تاہم اس کے باوجود، نصیحت اور دعوت کا عمل تا عمر جاری رہنا چاہئے۔ کیونکہ اس عمل کو مخلصانہ طور پر مسلسل کرتے رہنا ایک مؤمن کی ذمہ داری ہے جبکہ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کی جوابدہی اس کے مخاطبین کی ہے۔

ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۵

بروز سنیچر۔ صبح چار بجے (أبو ظبی)

۳۰۔۳۱ اکتوبر ۲۰۱۵ کی شب کے آخری پہر میں میں نے ایک خواب دیکھا۔ آنکھ کھلی تو حسب معمول میری گھڑی میں صبح کے چار بجے تھے۔ خواب کا آخری حصہ اتنا واضح تھا، کہ دن بھر وہ میرے ذہن میں بار بار تازہ ہوتا رہا، حتی کہ جہری نمازوں کے دوران پڑھی جانے والی قرآنی آیات سے اس کی مناسبت اس ذہنی تکرار کا مزید محرک بن گئی۔ چنانچہ اس وقت عشاء کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ریکارڈ کر لینا چاہئے۔ 

میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل ایک بستی ہے۔ ہر طرف سناٹا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آخرت کی دنیا ہے اور انسانوں کا حساب کتاب ہو رہا ہے یا عنقریب ہونے والا ہے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا شکیب عزام اپنی سائیکل پر وہاں ایک گھر کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے۔ اس وقت وہ ۲۵ سال کا ہو چکا ہے مگر خواب میں وہ دس برس کا بچہ دکھائی دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا:

” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

“شکیب(مسکراتے ہوئے): دادا کہتے ہیں کہ اس کمرے میں جو آدمی ہے وہ بہت بے بس اور پریشان ہےکیونکہ اس بیچارے کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے۔” 

میں نے غور سے دیکھا تو گھر کی شفاف دیوار کے پیچھے برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نظر آیا، جو سراسیمگی کی حالت میں اندر اس طرح چل رہا تھا جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ اپنی صورت اور حلیہ کے اعتبار سے وہ بعینہ اس کے مطابق تھا جو اس کی آخری عمر کی تصویروں میں نظر آتا ہے۔میں نے اپنے لڑکے کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی میں کہا:

“Pitiful. He was one of the greatest mathematicians and philosophers of 20th century but now he is so helpless.”

اس جملہ پر میری آنکھ کھل گئی۔ 

برٹرینڈ رسل(1970-1872) دور جدید کے ان معروف ملحدین میں سے ہے جنہوں نے علی الاعلان خدا اور مذہب کا انکار کیا۔ بظاہر اپنے اس انکار کی توجیہ وہ خوبصورت فلسفیانہ اور علمی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں مگر اپنے آخری تجزیہ میں اس سے زیادہ بے بنیاد اور غیر علمی توجیہ کوئی نہیں۔ مذکورہ خواب میں رسل کی بے بسی کا منظر حرف بحرف وہی تھا جو قرآن میں کئی مقامات پر منکرین خدا کے آخری انجام کی تصویر کشی کرتے ھوئے دکھایا گیا ہے۔ مثلاً سورہ غافر کی آیات ۱۰، ۱۱، ۱۲، اور١٦، ۱۷ ۱۸۔ یعنی سخت حسرت و افسوس میں ڈوبی ہوئی سراسیمگی،اور بے بسی کی حالت جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ 

بچہ کی زبان سے خواب میں نکلا ھوا یہ جملہ کہ” دادا کہتے ھیں اس آدمی کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے” شاید وہ فطرت کی زبان میں سورہ غافر کی آیت نمبر ۱۸ کے ایک ٹکڑے کی طرف اشارہ تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں ” ظالموں کے لئے نہ کوئی ہمدرد ہو گا، نہ ہی کوئی سفارشی جس کی بات سنی جائے”۔ 

خواب کے ضمن میں “دادا” کا حوالہ بھی غالباً دوبارہ “فطرت انسانی” کی اس بے آمیز حالت کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے وجدانی تقاضے کے تحت کسی فلسفیانہ تعمق یا منطقی دلیل کے بغیر ایک خدا پر سنجیدہ ایمان رکھتی ہے۔ شکیب کے دادا (محمد لقمان ، وفات ۱۹۹۸) بیسویں صدی کی اس مسلم نسل سے تعلق رکھتے تھے، جن کی اکثریت اگرچہ نیم خواندہ تھی مگر اپنی بے آمیز فطرت کی بنا پر وہ ایک خدا پر گہرا وجدانی یقین رکھتی تھی جبکہ اسی زمانہ میں ایک قابل لحاظ اقلیت ایسی بھی ابھر رہی تھی، جو خود کو “جدید تعلیم” اور “جدید فلسفہ” اور “ترقی پسند رجحانات” کی علمبردار سمجھتی تھی اور ان کی اس مستعار لی ہوئی”جدیدیت” یا ترقی پسندی کا واحد کارنامہ یہ تھا کہ خدا کے وجود کا انکار کرے اور مذہب کو افیون اور دقیانوسیت قرار دے۔ 

رسل اور اس جیسے ملحدین کے پاس انکار خدا کی آخری دلیل یہ ہے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا، تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا، جس کا، ان کے بقول، کوئی عقلی یا منطقی جواب نہیں۔ بنا بریں، ان کی نظر میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ” خدا نہیں ہے”۔ مگر یہ موقف بذات خود حد درجہ غیر منطقی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ اصل سوال “کائنات کو کس نے پیدا کیا”، اپنی جگہ بدستور قائم رہتا ہے، جس کا ان کے پاس کوئی عقلی یا علمی جواب نہیں۔ ایسی حالت میں خدا کے خالق کائنات ہونے کے مذہبی تصور کا انکار گویا یہ دعوی کرنا ہے کہ کائنات اپنی خالق آپ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خدا کو خالق ماننے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ غیر منطقی اور خلاف عقل بات ہے۔ 

مزید گہرائی سے دیکھئے تو انکار خدا کا سبب کوئی عقلی دلیل نہیں، بلکہ ایک قسم کا عقلی غرور اور گھمنڈ ہے۔ کائنات کی با معنی توجیہ ایک خالق کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے باوجود جو خالق کا انکار کرے وہ در حقیقت ایک نفسیاتی فریب کا شکار ہے اور گویا اس بات کا مدعی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو خدا کا ہمسر خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں منکرین خدا کو متکبر کہا گیا ہے۔ چونکہ اپنے ملحدانہ موقف کے ذریعہ وہ دنیا میں یہ اعلان کرتے تھے کہ انہیں خدا کی ضرورت نہیں۔ وہ اور ساری کائنات خدا سے “بے نیاز” ہے۔ خدا کو ماننا کمزور، سادہ لوح اور بزدل لوگوں کا کام ہے، اس لئےقرآن میں ان کے جواب میں عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ ان کے آخری حسرتناک انجام کی جا بجا تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ تصویر بذات خود ایک نفسیاتی دلیل ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگوں کا انکار خدا در اصل محض ان کی انانیت اور خود پسندی اور اپنے محدود علم پر لا محدود فخر و ناز کا نتیجہ تھا نہ کسی سنجیدہ علمی غور و فکر کا نتیجہ۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کو ماننا عقلی طور اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ممکن تھا جتنا کہ اس کو نہ ماننا۔ مگر خدا کو ماننے کی صورت میں اپنے کو خدا کے مقابلہ میں چہوٹا بنانا پڑتا، اس لئے ان کا متکبرانہ مزاج، نہ کہ کوئی حقیقی عقلی دلیل، ان کے لئے ایک خدا پر ایمان لانے میں رکاوٹ بن گئی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں خدائے وحدہ لا شریک کو دیکھے بغیر ماننا، نہ صرف عقلی طور پر سب سے زیادہ ممکن بات ہے، بلکہ وہی سب سے زیادہ اہم چیز ہے جو انسان سے اس دنیا میں مطلوب ہے ۔خدا کا انکار یا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا، حقیقتاً خود اپنے آپ کو خدا کے برابر یا خدا سے بھی بڑا سمجھنا ہے ، اسی لئے کفر اور شرک کرنے والے، اپنے آخری نفسیاتی تجزیہ میں ، خود پسندی اور تکبر کے مجرم ثابت ہوتے ہیں نہ کہ عقلیت پسند یا سچائی کے سنجیدہ متلاشی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا جرم خدا کے یہاں نا قابل معافی ہے۔

“خدا کو کس نے پیدا کیا؟”، یہ کوئی ایسا عقلی اعتراض نہیں ہے جس کو رسل یا ڈاوکنس وغیرہ نام نہاد عقلیت پسند ملحدین نے تاریخ میں پہلی بار اٹھایا ہو۔ یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان اور اس کی عقلی تگ و دو کی تاریخ۔ غالباً روایتی فلسفہ کی کوئی کتاب اس کے ذکر سے خالی نہیں۔ اس طرح آج کے منکرین خدا کے پاس جو عقلی سرمایہ ہے وہ ان کی”جدیدیت” سے زیادہ ان کی “دقیانوسیت” کا ثبوت ہے۔   

صحیح مسلم کی ایک روایت (134) میں مذكوره سوال کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” شیطان تم میں سے کسی کے پاس آکر کہے گا، مخلوقات کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہے گا اللہ۔ پھر شیطان کہے گا: اس خالق یا اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ سو تم میں جو کوئی اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہو، وہ کہے کہ “آمنت بالللہ” یعنی میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں”۔ 

الطبرانی اور البیہقی کی ایک روایت کے مطابق آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم اللہ کی مخلوقات اور نشانیوں میں غور و فکر کرو، اس کی ذات میں نہیں ورنہ تم ھلاک ہو جاؤ گے۔

پیغمبر اسلام کی یہ ہدایت محض ایک واعظانہ تلقین نہیں، بلکہ وہ مذکورہ قسم کے ملحدانہ سوال کا آخری معقول ترین جواب ہے۔ ” میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں” کہنا در اصل انسانی عقل کی آخری حد کو شعوری طور پر دریافت کرنے کا نام ہے۔ اسی حد کے اندر رہتے ہوئےانسان زندگی اور کائنات کی حقیقتوں کا گہرا ادراک کر کے ایک با معنی زندگی گزار سکتا ہے۔ جو عقل کی اس محدودیت کو تسلیم نہ کرے، اس کا کیس عقلیت پسندی کا نہیں، بلکہ غیر عاقلانہ گھمنڈ اور خود پسندی کا کیس ہے۔ اس کا انجام اس دنیا میں مسلسل حیرانی اور آخرت میں ابدی حسرت اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں۔