رمضان ڈائری ۲۰۱۶

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

رمضان المبارک کو ایک حدیث میں “شہر التوبہ” یعنی توبہ کا مہینہ کہا گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ سچی توبہ کے بغیر کوئی بھی شخص رمضان اور قرآن کی ہدایات اور برکات سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ تاہم توبہ سے میری مراد کچھ الفاظ کی زبانی تکرار نہیں، بلکہ توبہ ایک ذہنی انقلاب اور عملی رویہ میں ٹھوس تبدیلی کا نام ہے جس کی تشریح میں نے گزشتہ سال کی بعض نشستوں میں کی تھی۔ اسی کی یاد دہانی کے لئے ایک نشست کی ریکارڈنگ یہاں منسلک کی جاتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان بندوں میں شامل ہونے کی توفیق دے جن کو قرآن میں “بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور مسلسل اپنے آپ کو پاک کرنے والے” کے الفاظ سے موصوف کیا گیا ہے:”إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ”

سورہ البقرہ- آیت، ۲۲۲

‏https://youtu.be/XNkXkTi5JCk

-——

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ و استغفار، محض چند مخصوص الفاظ کو سینکڑوں اور ہزاروں اور لاکھوں یا کروروں بار زبان سے دہرانے کا نام نہیں، بلکہ وہ ربانی معیار کے مطابق، انسانی فکر و کردار کی تطہیر اور تعمیر کا ایک نہایت سنجیدہ عمل ہے، جو ساری زندگی ایک مومن کے اندر گہرے شعور و ادراک کی سطح پر؛ ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی شخص عبدیت اور عبودیت کے اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، جہاں رب العالمین بذات خود اپنے سچے بندوں کو یہ ابدی مژدہ سنائے گا کہ:” اے اطمینان پانے والے نفس، اپنے مالک کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے۔ لہذا اب تو شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں”

(( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي )) (سورة الفجر27-30)

———

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ و استغفار کی ضرورت جتنی ایک “خطا کار اور گنہگار” کو ہے؛ اسی قدر ایک “متقی اور پرہیز گار” کو بھی ہے۔

اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے، توبہ و استغفار در حقیقت بے لاگ خود احتسابی کا عمل ہے، یعنی اپنی نیت اور اپنے قول اور فعل کا مسلسل تنقیدی جائزہ لے کر یہ دیکھنا کہ وہ درست ہے یا نا درست؛ وہ اعلی ربانی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر وہ نا درست ہے تو گناہ ہے اور اس پر اصرار ظلمِ عظیم، اس لئے اس سے فوری طور پر مخلصانہ توبہ اور استغفار کرنا ایمان اور اسلام کا اولین تقاضہ ہے۔

تاہم اگر اپنا قول یا فعل یا نیت بظاہر درست معلوم ہو، تو اسے اعلی ربانی معیار کے مطابق بنانے کی سنجیدہ تگ و دو کرنا اور اس پر ثابت قدم رہنا؛ ایک مستقل اور نہایت پُرمشقت کام ہے؛ جس سے ایک صاحبِ معرفت مومن عمر بھر ایک لمحہ کے لئے بھی فارغ نہیں ہوتا۔حتی کہ ربانی معیار کی عظمت کا شعور اور اس کے ساتھ ہم آہنگی کی تڑپ اکثر اس کو اتنا حساس بنا دیتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فرصت یا فراغت یا خود پسندی کے محض ایک وقتی احساس کو بھی خدا کی تحقیر یا قدر ناشناسی کے ہم معنی “کناہ” تصور کرتا ہے اور بے اختیار وہ توبہ و استغفار میں سرگرم ہو جاتا ہے۔

————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

روحانی تزکیہ اور اخلاقی ارتقاء کا واحد یقینی ذریعہ، مسلسل توبہ و استغفار کا شعوری عمل ہے۔ اس کے زیر اثر سچے مومن کا ضمیر ایک طرف، انتہائی حساس ہو جاتا ہے جو اسے اپنی ہر چھوٹی یا بڑی غلطی پر شدت سے ٹوکتا اور ملامت کرتا رہتا ہے تاکہ وہ اس کی تلافی کے لئے ہمہ وقت فکر مند اور متحرک رہے۔ جبکہ دوسری طرف، اس کا ذہن کمال پسندی کے اس اعلی ترین ربانی معیار سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، جو جنت کی کامل اور لا زوال دنیا سے کم تر یا اس کے سوا کسی بھی دوسری شئے پر اسے قانع ہونے نہیں دیتا۔ یہ ذہنی رجحان عملاُ اسے اپنی ہر خوبی میں خامی کا متلاشی اور اپنے ہر خوب کو مسلسل خوب تر دیکھنے کا آخری حد تک حریص بنادیتا ہے۔ اس طرح توبہ و استغفار کا عمل ایک سچے مومن کی زندگی میں کبھی جمود یا ٹھراؤ آنے نہیں دیتا۔ بلکہ وہ ایک ایسے “روحانی ایندھن” کا کام کرتا ہے جو بیک وقت اسے ربانی بصیرت کی روشنی بھی عطا کرے جس میں وہ کھرا اور کھوٹا اور صحیح اور غلط کو پہچان لے؛ نیز اسی کے ساتھ ایسی خود کار قوت محرکہ بھی فراہم کرے جو اسے خدا کی رضا اور جنت تک پہنچانے والی صراط مستقیم پر تا عمر رواں دواں رکھے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۱۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

۱-“اپنا حساب خود لے لو؛ قبل اس کےکہ تم سے حساب لیا جائے؛ اور اپنے عمل کو خود تول لو؛ قبل اس کے کہ اس کو تمہارے لئے تولا جائے”۔

۲-“اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھے میری خامیوں کا تحفہ دے” (یعنی میری کمزوریوں سے مجھے خبردار کرے تا کہ میں اس کو دور کرکے خود کو مزید بہتر بنا سکوں)۔

ایک سچے مومن کی شخصیت کی امتیازی خصوصیت کیا ہے؟ اس کی بہترین ترجمانی حضرت عمر (رض) کے مذکورہ بالا حکیمانہ اقوال میں موجود ہے۔ وہ ہے: مسلسل اپنا محاسبہ کرنا، اپنے ہر عمل کا، خواہ بظاہر وہ اچھا دکھائی دے، بے لاگ تنقیدی جائزہ لیتے رہنا تاکہ آپ خود فریبی اور خود پسندی کی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکیں اور اس سلسلہ میں اپنے کمالات اور خوبیوں سے زیادہ اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو ٹٹولنا تاکہ آپ دنیا و آخرت میں گرفت ہونے سے پہلے ان کا ہر ممکن تدارک اور ازالہ کر سکیں۔

ایسی زندہ ضمیر اور ربانی معیارِ کمال کی جستجو میں سرگرمِ عمل ایمانی شخصیت، کسی روایتی درسگاہ یا خانقاہ میں پیدا نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ گہرے شعور و ادراک کی سطح پر ہمہ وقت دہکنے والی توبہ و استغفار کی بھٹی میں برسہا برس تپ کر بنتی ہے۔

————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۱۱ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا

ترمذی کی ایک روایت کے مطابق عقبہ بن عامر (رض) نے رسول اللہ (صلعم) سے پوچھا کہ:”نجات کیا ہے؟”، آپ (صلعم) نے فرمایا:” اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو، اپنے گھر میں رہو، اور اپنی خطاؤوں پر رویا کرو” ((عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قلت يا رسول الله ما النجاة؟، قال صلى الله عليه وسلم [أمسك عليكَ لسانكَ وليَسعْـكَ بَيتـُك وابكِ على خطيئتكَ]. رواه الترمذي))

یہ حدیث موجودہ دنیا میں امن و آشتی اور آخرت میں ابدی نجات اور سلامتی پانے کا مختصر مگر مفید ترین فارمولا پیش کرتی ہے؛ جو شاید ماضی سے زیادہ آج کے پُر فتن دور کے انسانوں کے لئے مشعل راہ بلکہ ایک نسخہ کیمیاء کی حیثیت رکھتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے مفہوم کو گہرائی سے سمجھا جائے اور پھر اس پر سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۱۲ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

مسند احمد اور البیہقی کی ایک روایت کے مطابق، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”النَّدَمُ تَوْبَةٌ ” یعنی ‘ندامت ہی توبہ ہے’۔

گناہ یا غلطی پر ندامت اور شرمندگی کا احساس ، در اصل انسانی فطرت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں نفس لوامہ ہے جو انسان کی صلاح و فلاح کا واحد سب سے طاقتور وسیلہ ہے ۔اگر وہ زندہ اور بیدار ہو تو کسی گناہ یا غلطی کے سر زد ہوتے ہی وہ اندر سے انسان کو سخت ملامت کرتا ہے؛ جو شدید ندامت اور شرمندگی کی شکل میں اس کے ذہن پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ اسے ہر طرف اپنی ذلت اور ہلاکت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ عاجزانہ خدا سے مسلسل توبہ و استغفار کرنے لگتا ہے، نیز اس کے لازمی تقاضہ کے طور پر وہ ایک طرف اپنی غلطی یا گناہ کے منفی اثرات کو حسنِ عمل سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف اس کے اندر دوبارہ اسے کبھی نہ کرنے کا سچا عزم ابھرتا ہے۔

مگر شاید انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنی انانیت اور خود پسندی (قرآنی اصطلاح میں نفس امارہ) کے تحت اکثر وہ ندامت اور شرمندگی کے اس فطری احساس کو دباتا یا چھپاتا ہے بلکہ اپنے ظاہری وقار کے تحفظ کی خاطر یا سطحی خاندانی رجحانات کی رو میں بہہ کر یا مروجہ سماجی اور ثقافتی روایات کے زیر اثر؛ وہ کسی غلطی کے اقرار یا گناہ پر اظہارِ ندامت کو اپنی “شان کے خلاف” ایک معیوب فعل یا بزدلی سمجھ لیتا ہے، اس لئے نفسِ لوامہ کے بالکل بر عکس، اس کا نفس امارہ اسے اپنی ہر غلطی اور گناہ کا خوبصورت جواز تلاش کرنے اور بسہ اوقات اس کو ناگزیر بتانے حتی کہ اسے ایک قسم کی ‘نیکی’ ثابت کرنے میں سرگرم کر دیتا ہے-اس طرح جو گناہ بر وقت سنجیدہ ندامت کے ذریعہ ‘توبہء نصوح’ بن کر اس کے ڈگمگاتے قدموں کو خدا کی صراطِ مستقیم پر جما دیتا، وہ “گناہ پر دانستہ اصرار” کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان بتدریج صراطِ مستقیم سے بھٹک کر خدا کے غضب کی راہ پر چل پڑتا ہے، پھر شیطان ایسے شخص کو اپنے جھوٹے بھرم اور خود فریبی کے جال سے نکلنے نہیں دیتا بلکہ اپنی وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ گناہوں کے بارے میں اس کی بے حسی اور ڈھٹائی کو بڑھاتا رہتا ہے تا کہ وہ کبھی آدم کی طرح سچی توبہ و استغفار کی توفیق نہ پا سکے۔ غالب کا یہ شعر اسی “شیطانی مزاج” سے مغلوب انسان کی تصویر کشی کرتا ہے:

نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد

یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

یاد رکھئیے، خدا کی داد و بخشش، کردہ یا ناکردہ گناہوں کی حسرت پر نہیں؛ بلک سچی ندامت پر ملتی ہے۔ اسی سچی ندامت کے احساس کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کے لئے ایک اور حدیث میں اہل ایمان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ: “اپنے گناہوں پر رویا کرو”۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۱۳ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۱)

ترمذی کی ایک روایت کے مطابق عقبہ بن عامر (رض) نے رسول اللہ (صلعم) سے پوچھا کہ:”نجات کیا ہے؟”، آپ (صلعم) نے فرمایا:” اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو، اپنے گھر میں رہو، اور اپنی خطاؤوں پر رویا کرو”۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، مذکورہ حدیث موجودہ دنیا میں امن و آشتی اور آخرت میں ابدی نجات اور سلامتی کا ایک نہایت سادہ عملی فارمولا پیش کرتی ہے؛ جو ایک با مقصد انسان کے لئےہر زمانے میں، بالخصوص آج کے پُر فتن دور میں نسخہ کیمیاء ہے۔ اس فارمولے کے تینوں نکات گویا سنگ میل ہیں، جو ایک سچے تائب اور جنت کے طالب کو صراطِ مستقیم سے بھٹکنے نہیں دیتے اور ان کی مدد سے وہ اپنے ماحول کے پُرکشش تماشوں سے بچتے ہوئے اپنی اخروی منزلِ مقصود کی سمت یکسوئی کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے۔یہاں اس کے ہر نکتے کی مختصر تشریح کی جاتی ہے:

۱-“اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو”:- اس کا مطلب سادہ طور پر صرف چپ رہنا نہیں، بلکہ زبان یا الفاظ کا “ذمہ دارانہ” استعمال ہے۔ “زبان”، انسان کی سوچ، اس کی نیت اور ارادہ، اور اس کے تخیلات، جذبات اور احساسات کی ترجمان بھی ہے اور بیک وقت ان کو خوبصورت اور پُر فریب اور گمراہ کن الفاظ کے پردے میں چھپانے کا ذریعہ بھی۔ اس کا ذمہ دارانہ استعمال، جہاں فرد اور سماج اور وسیع تر انسانیت کے لئے فائدہ مند ہے؛ وہیں اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہر ایک کے لئے بے پناہ حد تک نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔ اسی لئے قرآن و حدیث کی رو سے قول اور فعل دونوں کو خدا کی میزان میں یکساں طور ہر قابلِ ثواب یا قابلِ عذاب بتایا گیا ہے۔ توحید اور شرک، محبت اور نفرت، تجارت اور سیاست، دوستی و دشمنی جیسے شخصی تعلقات، نکاح و طلاق جیسے خاندانی روابط، اور امن و جنگ،جیسے قومی اور بین اقوامی معاملات وغیرہ وغیرہ؛ زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے اندرونی ارادہ و اذعان کا پہلا اظہار زبان (قول) سے ہوتا ہے اور پھر وہ اس کی نیت اور خارجی حقیقت کے ساتھ مطابقت یا عدم مطابقت کے تناسب سے، اچھے اور برے فعل، یا مفید اور مضر سرگرمی کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ہر نیکی یا بدی کا بیج، پہلے فکر اور خیال اور سوچ اور نیت اور آرزو بن کر انسانی ذہن میں پنپتا ہے پھر انسان اسے اپنے قول اور فعل کے ذریعہ پروان چڑھاتا ہے۔لہذا انسان اگر “زبان” اور “الفاظ” کے بارے میں اپنی جوابدہی اور ذمہ داری کا حقیقی احساس کر لے تو وہ حد درجہ محتاط ہو جائے-خصوصاً آج کے دور میں جبکہ جدید ذرائع ابلاغ نے “زبان” کے منفی یا مثبت دائرہ اثر کو انتہائی غیر محدود اور ناقابلِ انضباط بنا دیا ہے۔ مثلاً کسی ملی یا قومی معاملہ میں ایک غلط رائے یا فتوی محض ایک فرد یا چند افراد کو نہیں بلکہ لاکھوں اور کروروں انسانوں کی گمراہی اور ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے، جس کا تدارک کرنا شاید کئی صدیوں اور نسلوں میں بھی ممکن نہیں۔

“اپنی زبان اپنے قابو میں رکھو”۔۔۔اس نکتہ کا سب سے زیادہ پُر حکمت اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ نفسیاتی اور عملی دونوں اعتبار سے انسان صرف ‘زبان’ اور ‘قول’ پر ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ وہ اپنے ذہن میں ابھرنے والے قول کے محرکات (فکرو خیال، نیت اور جذبات وغیرہ) پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا نہ ہی زبان سے نکلے ہوئے اقوال پر مترتب ہونے والے افعال اور ان کے نتائج اس کی دسترس میں ہوتے ہیں۔اسی بنا پر اسلام نے “زبان” کے صحیح یا غلط استعمال اور بالآخر اس کے متعلقہ اچھے یا برے اثرات کے لئے ہر انسان کو مکمل طور پر جوابدہ اور ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس کو اپنے قابو میں رکھنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ چنانچہ سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 70 میں اہل ایمان کو “قول سدید” کا حکم دیا گیا ہے، یعنی زبان سے صرف ایسی بات کہنا جو آپ کی نیت اور ارادہ کا سنجیدہ بیان ہو اور جو اس کے مطابق جلد یا بدیر خارجی دنیا میں حقیقی عمل یا مثبت واقعہ بن سکے جس پر بالآخر آپ کو اجر ملے گا۔ دوسری طرف سورہ الصف کی آیت (2-3) میں “زبان” کے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے اہلِ ایمان کو کہا گیا ہےک:”ایسی بات کیوں کہتے ہو جسے کرتے نہیں، یہ خدا کی نظر میں بہت زیادہ ناگوار امر ہے کہ تم وہ بات کہو جس کو کرتے نہیں”۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۱۴ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۲)

۲-“اپنے گھر میں رہو”۔۔۔یہاں “گھر” سے مراد بنیادی طور پر وہی جگہ ہے جہاں آدمی تنہا یا اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتا ہے۔ البتہ اس کے توسیعی مفہوم میں عام رہائش گاہ کے ساتھ آدمی کا دائرہ اختیار و نفوذ (area of capacity & influence) بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ غالباً یہاں “اپنے گھر میں رہو” کے الفاظ سے روزمرہ زندگی میں اسی حکمت عملی کو اپنانے کی تلقین مقصود ہے جو حضرت موسی (۴) نے بنی اسرائیل کو اس طرح کی تھی کہ “اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو”(سورہ یونس، آیت 87) یعنی اپنی توجہ اور سرگرمیوں کا مرکز، خدا پرست، با مقصد اور آخرت پسند گھرانے اور خاندان کی تعمیر کو بناؤ۔ صالح افراد کے ذریعہ صالح خانوادے اور صالح خانوادوں کے ذریعہ صالح معاشرہ اور صالح قوم۔ یہ ہے انسانی اصلاح اور تعمیر و ترقی کا پیغمبرانہ فریم ورک۔

زمانی فرق کو ملحوظ رکھا جائے تو اپنی توجہ، توانائی اور سرگرمی کا مرکز و محور اپنے “گھر” اور توسیعی معنی میں اپنے “دائرہ اختیار و نفوذ” کو بنانا، بیک وقت انتہائی دانشمندی اور اعلی درجہ کی شائستگی کی علامت ہے۔ جو مرد یا عورت اپنے گھر اور دائرہ اختیار و نفوذ سے باہر کے معاملہ میں جتنی زیادہ دلچسپی لے گا اتنا ہی وہ اپنے گھر اور دائرہ اختیار و نفوذ کے اندر اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے میں کوتاہ یا ناکام ثابت ہو گا اور اس سے بڑی نادانی کی بات اور کوئی نہیں۔ کیونکہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایسا شخص اکثر حقیقت کی دنیا میں عملاً اپنے “گھر” کے “اندر” اور “باہر”، دونوں ہی جگہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اپنے”خارجِ استطاعت” دائرہ میں داخل ہوتے ہی آدمی اپنے “داخلِ استطاعت” دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے اور بالآخر دونوں جگہ اس کا اثر و نفوذ کم یا بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ مختلف تاریخی و تمدنی اسباب کے نتیجہ میں موجودہ دور آخری حد تک انفرادیت پسندی اور دوسروں کے معاملات میں “عدم مداخلت ” کا زمانہ ہے۔ اس طرح “اپنے گھر میں رہو” کا اصول زمانی شائستگی کے برتر معیار سے ہم آہنگ بھی ہے۔ تیز رفتار مواصلات اور فوری کمیونیکیشن کے ترقی یافتہ وسائل نے ساری دنیا کو سمیٹ کر نہ صرف ایک ‘گلوبل ویلیج’، بنا دیا ہے، بلکہ تقریباً ہر گھر کو ایک “گلوبل ہاؤس” میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ ایک با مقصد اور خدا شناس انسان کے لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اس پیغمبرانہ حکمتِ عملی کے مطابق اپنے “گھر” اور “دائرہ اختیار و نفوذ” میں رہتے ہوئے بھی اپنے وسیع تر خاندان، معاشرہ اور انسانی برادری کے ساتھ خوش گوار تعلقات استوار رکھے، ان کی حتی الامکان خبر گیری اور حسب استطاعت دستگیری کرے اور رفاہ عام اور اصلاح و دعوت کے کام میں اپنا مؤثر کردار بھی ادا کر سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۱۵ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نجات کا سہ نکاتی نبوی فارمولا-مختصر تشریح (۳)

۳-“اپنی خطاؤوں پر رویا کرو”۔ اس نکتہ کی تشریح مسند احمد کی روایت “الندم توبة” یعنی ندامت ہی توبہ ہے کے ذیل میں ہو چکی ہے (ملاحظہ ہو، رمضان ڈائری، بروز اتوار، ۱۲ جون، ۲۰۱۶)۔ تاہم یہاں مزید چند نازک پہلوؤں کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔

“خطاؤوں پر رونا” در اصل شرمندگی اور ندامت کا سنجیدہ احساس کرنے کا نام ہے جو اکثر آنکھوں سے آنسو بن کر بے اختیار چھلک پڑتا ہے۔ تاہم اصل مطلوب سچا احساس ندامت ہے، خواہ اس پر کبھی رونا آئے یا نہ آئے۔ یہ احساسِ ندامت کوئی سلبی (passive) عمل نہیں، بلکہ اپنے ضمیر یا نفس لوامہ کو زندہ اور بیدار رکھنے کا واحد مؤثر ترین وسیلہ ہے جس کے براہ راست مثبت نتیجہ کے طور پر ایک خدا شناس آدمی کے اندر یہ صحت مند جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن عمل اور نیکیوں میں مسلسل کمیاتی اور نوعیاتی اضافہ کا حریص بن کر اپنی خطاؤوں کی تلافی کرتا رہے نیز اپنے آپ کو وہ قساوتِ قلب، غفلت اور اخلاقی بے حسی کے مہلک روگ سے محفوظ رکھے تاکہ آئندہ اس قسم کی دوسری خطائیں اس سے سرزد نہ ہوں۔

اپنی خطاؤوں پر رونا بمعنی نادم اور تائب ہو کر اس کی تلافی کیے لئے مثبت عمل میں ہمیشہ سرگرم رہنا، “آدمیت” ہے، جبکہ اس کے بر عکس “ابلیسی یا شیطانی” ماڈل ہے: اپنی خطاؤوں اور خامیوں کا خوبصورت جواز تلاش کرنا؛ اپنی سوچ اور عملی روش پر کبھی نظر ثانی نہ کرنا بلکہ مختلف دینی ودنیوی تنبیہات کے باوجود انھیں بدلنے کی سنجیدہ کوشش کے بجائے خود ساختہ بہانوں اور جھوٹے عذر کی بنیاد پر اپنے آپ کو معصوم اور مظلوم ثابت کرنا۔

قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ انھیں دو متضاد کرداروں کو واضح کرنے کے لئے بار بار بیان ہوا ہے تاکہ ہر انسان خدا کی اسکیم اور اس کی نظر میں مقبول (آدمی) اور غیر مقبول (ابلیسی) کردار سے اچھی طرح با خبر ہو جائے اور اس زندگی میں اپنی آزادی سے جس کردار کو چاہے اپنائے تاکہ اسی کے مطابق اسے آخرت کی دنیا میں جنت یا جہنم کا مستحق قرار دیا جائے۔ جنت اس کے لئے ہے جو آدم کی طرح بلا بحث اپنی خطا کی پوری ذمہ داری قبول کرے، اس پر شرمندہ اور نادم ہو کر خدا سے سچی توبہ کرے اور نیک عملی کو اپنا نصب العین بنائے۔ جبکہ جہنم اس کے لئے ہے جو ابلیس کی طرح اپنی خطا کو اپنا کمال یا دوسروں کا ظلم بتائے اور پھر خطا در خطا کا مرتکب ہوتا چلا جائے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۱۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

توبہ اور جدید علم نفسیات

توبہ اور اس پر مبنی ذہنی تصورات اور عملی سرگرمیوں (جیسے گناہ پر ندامت و شرمندگی، خدا کی پکڑ کا ڈر، آخرت کا ابدی عذاب اور اس سے بچنے کے لئے کفارہ وغیرہ) کو جدید علم نفسیات میں خلشِ گناہ (Guilt) کا نام دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، حتی کے سگمنڈ فرائڈ اور اس کے نظریۂ لا شعور پر مبنی وسیع و عریض لٹریچر میں، ضمیر یا خدا یا والدین یا کسی اور برتر مذہبی یا اخلاقی اتھارٹی کے خوف کو اکثر دماغی بیماریوں(mental disorders)، نفسیاتی الجھنوں (complex)، متعدد جسمانی عوارض اور مجرمانہ رجحانات(criminal tendencies) کا اصل سبب بتایا گیا ہے۔ کارل مارکس نے اگر مذہب کو ‘افیون’ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا تھا تو فرائڈ اور اس کے ہمنوا جدید ماہرینِ نفسیات نے مذہبی عقائد و اعمال کو ایک قسم کا ‘جنون’ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کم و بیش موجودہ زمانے کا ہر تعلیمی، سماجی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی ادارہ ان نظریات سے متاثر ہے اور ان کے تصوراتی ڈھانچہ اور عملی نظام پر ان کی براہ راست یا بالواسطہ گرفت ہے۔ ناول، ڈرامے، فلم انڈسٹری اور فنون لطیفہ کے تمام شعبوں پر ان کی چھاپ شاید سب سے زیادہ گہری اور ہمہ گیر ہے۔

یہاں ان کے تفصیلی تجزیہ یا تنقید کا موقع نہیں۔ مگر مختصراّ یہ کہنا ضروری ہے کہ تاریخ، علم الانسان اور انسانی نفسیات کا گہرا علمی مطالعہ بر عکس طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہب انسان کی ایک فطری ضرورت ہے، جس کی صحیح تسکین کے بغیر انسان کو حقیقی معنوں میں صحت مندی اور سعادت مندی کا تجربہ نہیں ہو سکتا۔

جو چیز انسان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لئے نقصان دہ اور تباہ کن ہے وہ فی نفسہ “مذہب” نہیں، بلکہ مذہب کی غیر مستند شکلیں ہیں جو غیر مشتبہ وحی و الہام کے بجائے انسانی توھمات، دیو مالائی قصوں اور خود ساختہ فلسفوں کی بنیاد پر قائم ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ گناہ پر “ندامت اور شرمندگی” کا سچا احساس کسی بھی درجہ میں انسان کے لئے مضر نہیں، بلکہ اصل مضرت انگیز چیز ہے اس احساس کو دبانے یا اس سے بچنے کی کوشش میں خود گناہ کے گناہ ہونے کا آنکار کرنا، یا اس کو جواز کا رنگ دینا، یا اس کی ذمہ داری اپنے سوا کسی اور (ماحول، والدین، خاندانی و سماجی روایات، دوست یا دشمن، ظالم دنیا کے ناسازگار حالات، قسمت کی خرابی اور خدا کی نا مہربانی وغیرہ) کے اوپر ڈالنا ہے۔ کائنات میں اس مہلک رجحان کا بانی ابلیس ہے، جدید نفسیات کے بعض مذہب بیزار عناصر نے اسے محض سائنسی توجیہات کا پر فریب لبادہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔

“خلشِ گناہ یا گِلٹ” اگر حقیقی خوفِ خدا اور آخرت کی جوابدہی کے احساس کا نتیجہ ہو تو وہ جتنا شدید اور گہرا ہوِگا، اتنا ہی انسان کی صلاح اور فلاح و سعادت کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔ پہلے انسان (آدم علیہ السلام) سے لے کر تاريخ کے ہر دور میں انبیاء و رسل اور دیگر صالحین، بلا استثناء عام لوگوں سے زیادہ “احساسِ خطا” اور “خوفِ خدا” میں جینے والے افراد تھے اور اس کے باوجود بلکہ اسی بنا پر ان کی شخصیت تمام نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک، ہر پہلو سے متوازن (balanced) اور زندگی کے مختلف مسائل اور چیلینجوں سے نہایت حکیمانہ انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی تھی نیز اکثر ظاہری شان و شوکت کے اسباب سے محرومی اور سخت مخالفت اور دشمنی کے ہجوم میں بھی وہ اپنے ذہنی سکون اور خود اعتمادی کو بحال رکھتے ہوئے اپنے اصولوں اور ترجیحات کے مطابق اپنے مقصدِ حیات کے لئے یکسو رہے۔اس قسم کی متوازن، یکجہت اور ہر طرح کے حوصلہ شکن اور نامساعد حالات کے سایہ میں اپنے مذہبی عقیدہ اور مقصدِ اعلی کے لئے تاعمر پوری دلجمعی کے ساتھ سرگرمِ عمل رہنے والی شخصیتیں، اس حقیقت کا تاریخی ثبوت ہیں کہ سچا مذہب در اصل انسان کی ہمہ جہتی صحت و سلامتی اور کامیابی و سعادت کا واحد سر چشمہ ہے اور اس سے انحراف، ہر قسم کی الجھنوں، پریشانیوں اور روحانی و اخلاقی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۱۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

‘احساسِ خطا’ – ایک شخصیت ساز عامل

جدید نفسیات کا یہ انتہائی پُر فریب نظریہ ہے جو ساری دنیا کے ذہین طبقوں پر چھایا ہوا ہے، کہ احساسِ خطا یا “خلشِ گناہ” (guilt) انسان کی عقلی و جسمانی صحت اور اس کی شخصیت کی متوازن نشوونما میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر، مذہبی عقائد یا اخلاقی قدروں کے حوالے سے کسی گناہ یا غلطی پر ملامت کرنا یا خدائی عذاب سے ڈرنا اور ڈرانا یا ندامت و شرمندگی وغیرہ کا اظہار کرنا، نام نہاد ماہرین کے بقول، مختلف قسم کے ذہنی اضطراب اور نفسیاتی الجھنیں پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے جو بالآخر اخلاقی انحراف سے لے کر جسمانی امراض اور بعض مجرمانہ افعال تک کے ارتکاب کا سبب یا محرک بن جاتی ہیں۔

مگر اس سلسلہ میں میری تحقیق اور غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ در حقیقت جو چیز انسان کے عقلی نشو و نما اور اخلاقی ارتقاء کی قاتل ہے وہ خود “احساسِ خطا’ یا ‘خلشِ گناہ’ نہیں؛ بلکہ اس سے بچنے یا اس پر پردہ ڈالنے کی مصنوعی کوشش ہے جو اپنے خود ساختہ بھرم یا ‘وقار’ یا وقتی مفاد کو بچانے کے لئے اکثر و بیشتر لوگ کرتے ہیں۔

احساسِ خطا فی نفسہ ایک فطری ردِ عمل ہے، جو گناہ یا غلطی سر زد ہوتے ہی ہر انسان کے اندر خود بخود ایسے ہی ابھرتا ہے جیسے آگ میں ہاتھ ڈالنے سے درد اور جلن کا احساس۔ اب اگر انسان اسے وقار اور بھرم اور انا کا مسئلہ نہ بنائے اور اپنی ساری توجہ اور توانائی بلا بحث اس احساس کے فطری تقاضے(مثلاً گناہ سے اجتناب، غلطی کی تلافی اور مغفرت طلبی وغیرہ) کے اوپر مرکوز کر دے؛ تو یہی احساسِ خطا سب سے بڑا شخصیت ساز عامل بن جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے انسان آدم (۶) کی زندگی میں ہوا اور اسی طرح تاریخ کے ہر دور میں آدم کے رول ماڈل کو اپنانے والے بے شمار سلیم الفطرت انسانوں نے اپنی امتیازی شخصیتوں اور میدانِ حیات میں اپنی ہمہ جہتی کامیابیوں کے ذریعہ بار بار ثابت کیا ہے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۱۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

اسلامی تاریخ میں عمر بن عبد العزیز، اس حقیقت کی ایک لا زوال مثال ہیں کہ سچا ‘احساسِ خطا’ (یا خلشِ گناہ=Guilt)، جو آخرت میں خدا کی باز پُرس سے ڈر کا نتیجہ ہو؛ وہ انسانی شخصیت کو تمام نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک و صاف ‏(complex free) رکھنےاور اسے ہر قسم کے اعلی ربانی اوصاف اور روحانی اور اخلاقی کمالات کی جستجو میں ہر لحظہ بیکَل اور سرگرمِ عمل بنانے کا سب سے طاقتور محرک ہوتا ہے۔

البخاری کی التاریخ الکبیر (جلد سوم، مطبوعہ دائرہ معارف عثمانیہ، حیدرآباد، صفحہ ۲۰۸) کے مطابق، عمر بن عبدالعزیز جب مدینہ کے گورنر ہوا کرتے تھے تو اموی خلیفہ الولید بن عبدالملک کے حکم سے انہوں نے وقت کے معروف عالم اور فقیہ خُبیب بن عبد اللہ بن الزبیر کو سو کوڑے لگوائے اور سخت سردی میں انھیں رات بھر کھڑا رکھا؛ جس کی وہ تاب نہ لا سکے اور چل بسے۔

خبیب کی موت اگرچہ بظاہر ایک اتفاقی واقعہ تھا، نیز ان کے خلاف یہ تادیبی کارروائی خلیفہ وقت کے براہ راست حکم کی تعمیل میں کی گئی تھی جو اموی خاندان کے بارے میں ان کی جارحانہ تنقید سے سخت ناراض تھا۔ مگر عمر بن عبد العزیز نے ایک شریکِ کار ہونے کی حیثیت سے اس “اجتہادی خطا” اور اس کے تلخ نتیجہ کی اخلاقی ذمہ داری کسی بحث یا توجیہ یا تبریر (justification) کے بغیر مکمل طور پر اپنے اوپر لے لی اور وہ اسے کبھی فراموش نہ کر سکے۔ اس واقعہ کے بعد جب کوئی شخص ان کے کسی بڑے نیک کام یا غیر معمولی دینی اور انسانی خدمت کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں نجات کی بشارت دیتا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ:”نجات کیسی، جبکہ خبیب راستہ میں حائل ہیں!”(فکان عمر إذا قيل له: أبشر. قال: كيف بخبيب على الطريق!؟)۔

گویا اپنی “خطا” کی سنگینی پر گہری ندامت کے احساس اور اس پر آخرت کی پکڑ سے بچنے کی سچی تڑپ نے انہیں بعد کے مرحلہ حیات میں ہر طرح کی انانیت، خوش فہمی اور خود پسندی کے فریب سے بچایا اور اس کی ہر ممکن تلافی یا کفارہ کی خاطر انھیں تا عمر خوب سے خوب تر کی مثبت تلاش میں ہمہ وقت متحرک رکھا، جس نے بالآخر انھیں مسلمہ طور پر “پانچواں خلیفہ راشد” اور پہلا “مجددِ اسلام” بنا دیا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۱۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

موجودہ زمانے کے نام نہاد سیکولر کلچر کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ روزمرہ معاملات میں ہر چھوٹی بڑی بات پر اپنی غلطی کو کسی تحفظ کے بغیر فورّا مان لینا اور متعلقہ فرد یا ادارہ یا گروہ سے کھلے لفظوں میں معافی مانگنا، شائستگی اور پختگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ سرکاری دفتروں سے لے کر بازاروں تک، ہر جگہ اس قسم کے الفاظ بار بار سننے کو ملتے ہیں:

میں شرمندہ ہوں =I am sorry

میں مخلصانہ معذرت خواہ ہوں=I sincerely apologize

میں آپ سے معافی مانگتا ہوں=I beg your pardon

میں غلطی پر تھا= I was wrong

در اصل ساری غلطی میری ہی تھی= In fact, it was all my fault وغیرہ۔۔

کاروبار اور تجارت اور سیاست وغیرہ کیے میدان میں تو ‘معافی مانگتا’ ایک مستقل آرٹ بن گیا ہے جس کے لئے کارندوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ آفسوں کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ‘گاہک ہمیشہ درست ہوتا ہے’ (Customer is always right)، بالفاظ دیگر، اگر کبھی کوئی اختلافی صورتِ حال پیدا ہو جائے، تو کمپنی کے ملازم کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ کسٹمر سیے تکرار کرے؛ بلکہ اسے اپنے آپ کو غلط مان کر، معذرت کے ساتھ، کسٹمر کے حسبِ منشا اس معاملہ کا تصفیہ کرنا چاہئے۔

جدید کلچر کا یہ عجیب تضاد ہے کہ اس میں “انسان” کو راضی رکھنے اور وقتی کاروباری مفاد کے تحفظ یا تجارتی “نقصان” سے بچنے کی خاطر بلا بحث اپنی غلطی مان لینے اور معافی مانگنے کو بہت بڑا ہنر اور “مہذب دنیا” میں کامیابی و ترقی کا راز بتایا جاتا ہے۔مگر اس کے علمبرداروں کی نگاہ میں بعینہ وہی رویہ جب خالص دینی عمل (توبہ و استغفار) کی شکل اختیار کرے؛ جس کا محرک “خالقِ انسان” کو راضی کرنا اور آخرت کے “ابدی نقصان” سے بچنا ہو؛ تو وہ نفسیاتی الجھنوں کا باعث ایک فعلِ معیوب اور انسانی شخصیت کے صحت مند ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتا ہے!!

لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ آج عالمی کاروبار اور بین اقوامی تعلقات کی سطح پر چھایا ہوا یہ “معافی کلچر=sorry culture”، تمام انسانیت کے اوپر خدا کا اتمامِ حجت ہے۔ کیونک خدا کو انسانوں سے یہی “معافی کلچر=sorry culture” دینی سطح پر توبہ و استغفار کی صورت میں مطلوب تھا تاکہ وہ آخرت میں اس کی خوشنودی اور اس کے ابدی عذاب سے نجات کے مستحق ٹھہریں۔مگر انسانوں نے “خالقِ انسان” اور اس کے ساتھ حسنِ معاملہ کی اتنی پرواہ بھی نہ کی جتنی انہوں نے “انسان” کے معاملہ میں کی۔ اپنی انانیت اور عاجلہ پسندی کی بنا پر اس “معافی کلچر” کو انہوں نے صرف دنیوی میدان میں پورے جوش اور اخلاص سے اپنایا اور آخرت کے بارے میں بالکل بے حس بنے رہے۔

خود فریبی اور آخرت فراموشی پر مبنی اکثر انسانوں کی اسی مہلک ذہنی و عملی روش پر سورہ الکھف کی آیات 103-104 میں یوں تبصرہ کیا گیا ہے:

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا ؛ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا

(کہو: کیا ہم تمہیں بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والے کون ہیں؟ وہ جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں کھو کر رہ گئیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۲۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“شکریہ کلچر” (۲/۱)

“معافی کلچر=Sorry Culture” کی طرح، جدید عالمی تہذیب کا ایک اور نمایاں پہلو وہ ہے جسے “شکریہ کلچر= Thank you Culture” کہہ سکتے ہیں، جس کے لفظی اور غیر لفظی مظاہر روزانہ ہر جگہ اور ہر سطح پر بار بار دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ تجارت اور بزنس کے میدان میں “شکرگزاری” کی اہمیت اور ضرورت ‘معافی مانگنے’ سے بھی کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ سیلزمین اور ملازمین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شو روم یا کمپنی میں آنے والے ہر کسٹمر اور وِزِٹر کو مسکراتے ہوئے ‘تھینک یو’ کہہ کر رخصت کریں؛ چاہے اس نے خریدی یا کوئی اور لین دین کا معاملہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ “غیر مشروط شکر گزاری” کا یہ منظر دیکھ کر کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ اس پالیسی کو شاید میرے محلے کے تجربہ کار گشتی فقیر بھی اپنے پیشہ کے لئے بہت مفید سمجھتے تھے، اسی لئے وہ اپنی صداؤوں کے شروع اور آخر میں قدرے زیادہ اونچے سُر میں یہ جملہ ضرور دہراتے :”جو دے اس کا بھی بھلا؛ جو نہ دے اس کا بھی بھلا!”

یہ کہنے کی ضرورت نہیں، کہ اپنی مروجہ عالمی شکل میں یہ ‘شکرگزاری’ محض ایک سماجی اور کاروباری چلن ہے؛ جسے انسانوں نے باہمی تعلقات اور مشترک دنیوی مفادات کے تحفظ کے لئے ظاہری طور پر اپنا لیا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ممنونیت اور احسان شناسی کے لطیف احساسات کا وہ اظہار جو دینی واخلاقی اعتبار سے ایک انسان کو اپنے محسن کی نسبت سے کرنا چاہئے۔ غالباً اس سطحی کاروباری رواج کے اثر سے مذہب پسند طبقہ بھی محفوظ نہیں؛ جس کے افراد اگر چہ صبح و شام ‘الحمد للہ’ اور ‘سبحان اللہ’ کا وظیفہ پڑھتے نظر آتے ہیں مگر اپنے محسنِ اعلی اور منعمِ حقیقی رب العالمین کے لئے مطلوب حمد و شکر کی روح و سے وہ بھی اتنا ہی خالی ہیں جتنا عام دنیا دار انسانوں کی اکثریت۔

سچ تو یہ ہے کہ شیطان کی پُر فریب وسوسہ اندازیوں کا شکار ہو کر(سورة الأعراف، آيت ١٧)، انسان نے اپنے منعمِ حقیقی کا سچا شکر ہمیشہ بہت دہی کم کیا ہے ؛جبکہ وہی خدا کو اس سے ہمیشہ سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن نے انسان کو بالعموم اپنے پروردگار کے حق میں بے حد نا شکرگزار قرار دیا ہے(سورة العاديات، آيت ٦؛ سورة سبأ، آيت ١٣)۔

کافی غوروفکر کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اپنے محسنِ اعلی کی ناشکرگزاری کی اس عام انسانی روش کی وجہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہیں کہ رب العالمین کو جو “حمد و شکر” مطلوب ہے اس کی کاشت کاری “صبر” کی زمین میں ہوتی ہے۔ جو شخص ہر حال میں رب کی خاطر “صابر” نہ ہو؛ وہ کسی بھی حال میں رب کا سچا “شاکر” نہیں ہو سکتا۔ صبر اور شکر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے کی روحِ رواں ہیں۔ ایک دوسرے کے بغیر دونوں بے معنی اور بے نتیجہ۔ اس لئے “شاکر” ہونے کی خاص پہچان یہ ہے کہ انسان “شاکی” نہ ہو، نہ شدتِ حالات کا شاکی، نہ آلامِ روزگار کا۔ شکایت، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی جائز اور معقول ہو، بے صبری ہے اور بے صبری، رب العالمین پر “بے اعتمادی” کے مرادف؛ نیز اس کی مطلوب حمد وثناء اور شکر وسپاس کے لئے زہرِ ہلاہل ہے۔ اسی لئے قرآن میں خدائی تجلیات اور نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کئی مقامات پر کہا گیا ہے کہ ان میں اس کے لئے نشانیاں ہیں جو بیک وقت “صبار شکور” یعنی ہمیشہ ‘صبر۔شکر’ کرنے والا ہے(سورہ سبأ، آیت ۱۹؛ سورہ لقمان، آیت ۳۱؛ سورہ الشوری، آیت ۳۳)۔ اسی طرح پیغمبر کو ہر قسم کی ناخوشگوار حالت میں صبر کرتے ہوئے؛ صبح و شام اپنے رب کی حمد اور تسبیح میں سرگرم رہنے کی ہدایت بار بار دی گئی (سورہ طٰہ، آیت ۱۳۰؛ سورہ ق، آیت ۳۹)۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۲۱ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“شکریہ کلچر” (۲/۲)

قرآن کا آغاز “الحمد للہ رب العالمین” سے ہوتا ہے یعنی ہر طرح کی تعریف وستائش اور شکر و سپاس کے لطیف جذبات و احساسات اور والہانہ کلمات کا اصلی مستحق وہ خدا ہے جو ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ قرآن کے مطابق (سورة الإسراء، آيت 44); زمین و آسمان کی ہر جاندار اور غیر جاندار مخلوق ہمہ وقت خدا کی تسبیح اور حمد میں مصروف ہے اور یہی “حمدِ رب” وہ آخری نغمہ ہے جسے آخرت کی ابدی دنیا میں تمام فرشتے جنّٓتی انسانوں کے ساتھ مل کر وہاں کی لا فانی ربانی نعمتوں کے سائے میں ہمیشہ ہمیش گاتے رہیں گے(سورة الزمر، آيت 75)۔ گویا یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ “قرآنی کلچر” ایک لفظ میں “حمد کلچر” یا “شکریہ کلچر” ہے۔

تاہم خدا کی مطلوب حمد اور شکر گزاری محض یہ نہیں ہے کہ آپ کو جب ایک خوشی کا تجربہ ہو، یا حسبِ توقع یا خلافِ توقع آپ کی آمدنی میں اچانک اضافہ یا پوزیشن میں غیر معمولی ترقی یا کوئی اور ظاہری نعمت حاصل ہو جائے تو آپ کیف و سرور اور بسہ اوقات فخر و ناز کے ساتھ “الحمد للہ” اور “اللہ ترا لاکھ لاکھ شکر ہے” جیسے الفاظ زبان سے بے ساختہ دہرانے لگیں- لیکن جب صورتِ حال اس کے برعکس ہو تو آپ سراپا غم و حسرت اور افسردگی و مایوسی کی تصویر بن جائیں اور قولاً یا فعلاً حالات کے خلاف شکایت و احتجاج کرنے لگیں، جو خدا کے فیصلہ پر اعتراض کے ہم معنی ہے۔

جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا گیا، سچی حمد اور شکر گزاری کی کسوٹی سچا “صبر” ہے۔ یعنی آپ کے خارجی حالات چاہے خوشگوار ہوں یا ناخوشگوار، مگر خدا کی نسبت سے آپ کی ذہنی کیفیات، اندرونی احساسات نیز آپ کے قولی اور عملی رویے میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ ہر طرح کے تلخ و شیریں احوال و ظروف میں جب آپ کے خیالات اور آپ سے صادر ہونے والے کلمات اور حرکات و سکنات میں وہی ربانیت اور آخرت پسندی کا رنگ ہو، آپ ہر صورتِ حال میں یکساں طور پر خدا کے ممنون اور محتاج بندے بن کر اس کی رضا جوئی کی خاطر دوسروں کے ساتھ تواضع اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے رہیں؛ تب آپ کی حمد اور شکر گزاری ایک با معنی ‘عبادت’ بنتی ہے؛ ورنہ وہ ایک سطحی لفاظی پر مبنی سماجی عادت ہے یا ایک خود غرضانہ تجارت۔

اس اہم فیصلہ کن حقیقت کی طرف قرآن نے متعدد مقامات پر مختلف انداز سے توجہ دلائی ہے مثال کے طور ملاحظہ ہو: سوره الفجر، آیت ۱۵-۱۶؛ سورة المعارج، آيات ١٩-٢١؛ سورہ فصلت، آیت ۵۱؛ سورہ الإسراء، آیات ۸۳-۸۴، وغیرہ۔

خدائے رحمان و رحیم رات اور دن کی طرح، موجودہ دنیا میں ہر انسان کے اوپر کبھی اچھے اور کبھی بُرے حالات طاری کرتا ہے تاکہ وہ “صبر-شکر” کی دوگونہ صفات کا پیکر بن کر اگلی دنیا میں ابدی جنت کی شہریت حاصل کر سکے۔ یہ انسان کے حسنِ فہم اور حسنِ عمل، دونوں کا بڑا کڑا امتحان ہے مگر اس کا اجر بھی اتنا ہی بے حساب حد تک بڑا ہے۔ نوح (۴) کو قرآن میں “عبدًا شکورًا” یعنی بہت زیادہ شکرگزار بندہ کہا گیا ہے (سورة الإسراء، آيت ٣) کیونکہ ساڑھے نو سو سال تک انہوں نے اپنی قوم اور اپنے بعض اہلِ خانہ (بیوی اور ایک بیٹے وغیرھما) کی مخالفتوں اور ایذا رسانیوں پر صبر کیا۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنی روز مرہ عملی زندگی میں “عبدِ صبور” تھے اس لئے وہ “عبدِ شکور” بن سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۲۲ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

سید الاستغفار: ایک انقلابی تصور

صحیح البخاری میں شداد بن أوس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:” سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے:”اے اللہ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں؛ اور میں اپنی استطاعت کے بقدر تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو میں نے کی ہے اور میں تجھ سے اپنے اوپر تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں نیز میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں؛ لہذا تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کی بخشش کر سکے’۔ جو شخص پورے یقین کے ساتھ دن کے وقت ایسا کہے اور شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے اور جو شخص پورے یقین کے ساتھ رات کے وقت ایسا کہے اور صبح ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے”۔

((عنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضي اللَّه عنْهُ عن النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قالَ : « سيِّدُ الاسْتِغْفار أَنْ يقُول الْعبْدُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، لا إِلَه إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَني وأَنَا عَبْدُكَ ، وأَنَا على عهْدِكَ ووعْدِكَ ما اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ ما صنَعْتُ ، أَبوءُ لَكَ بِنِعْمتِكَ علَيَ ، وأَبُوءُ بذَنْبي فَاغْفِرْ لي ، فَإِنَّهُ لا يغْفِرُ الذُّنُوبِ إِلاَّ أَنْتَ . منْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِناً بِهَا ، فَمـات مِنْ يوْمِهِ قَبْل أَنْ يُمْسِيَ ، فَهُو مِنْ أَهْلِ الجنَّةِ ، ومَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وهُو مُوقِنٌ بها فَمَاتَ قَبل أَنْ يُصْبِح ، فهُو مِنْ أَهْلِ الجنَّةِ » رواه البخاري ))

یہ بظاہر چند الفاظ کا مجموعہ ہے، مگر اس میں تدبر کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلامی عقیدہ و عمل کے وہ تمام انقلاب آفریں عناصر اس میں مرتکز ہو گئے ہیں، جو ایک فرد کی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر اسے نیا ربانی انسان بنا دیتے ہیں:(۱)توحید کا اعلان، (۲) خالق کی حیثیت سے خدا کے ساتھ بندگی کے عہد و پیمان کا زندہ شعور اور اس کی ممکنہ ادائیگی کا عزم اور کوشش،(۳) اپنی بد عملی کی بنا پر عدمِ تحفظ کا احساس اور اس کے سنگین نتائج سے خدا کی پناہ مانگنا (۴)اعترافِ نعمت،(۵) اقرارِ گناہ اور (۶) اس بات کا پختہ یقین کہ گناہوں کی مغفرت اور ان کےمہلک نتائج سے حفاظت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔

یہ برتر حقائق جس انسان کے شعور و ادراک کی گہرائی میں اتر جائیں، وہ زبان سے ان کا اظہار کرنے کے بعد اگر حیاتیاتی سطح پر نہ مرے؛ تب بھی فکری اور عملی اعتبار سے گویا کہ اس کا سابقہ وجود مر جاتا ہے اور وہ از سرِ نو ایک ربانی پیکر میں ڈھل کر نمودار ہوتا ہے؛ جس کا نصب العین جنت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کا جسم گو اب بھی زمین پر رہتا ہے مگر اس کی روح جنت کی فضاؤوں میں بسیرا کرنے کے لئے ہمہ وقت بے قرار رہتی ہے اور بلا شبہ خدائے غفورو رحیم ایسے بندے کو اپنی مغفرت اور جنت سے محروم نہیں کرے گا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۲۳ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

زندگی: ایک انمول ربانی عطیہ

آپ اس وقت زندہ ہیں اور اس قابل ہیں کہ یہ سطریں پڑھ سکیں؛ یہی بذات خود نا قابلِ بیان حد تک عظیم الشان اور با معنی واقعہ ہے۔جس کے بارے آپ جتنا بھی لفظی و غیر لفظی تحیر و استعجاب اور تشکر و امتنان کا اظہار کریں؛ کم ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کا یک طرفہ فضل و کرم ہے کہ اس نے آپ کو وجود بخشا اور اپنی عظیم تخلیقی اسکیم میں آپ کو ایک ‘رول’ ادا کرنے کا موقع عطا کیا۔ نیز اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ آپ کی رہنمائی کا انتظام کیا، اس رہنمائی کے آخری مستند اور ناقابلِ تحریف متن کو قرآن کی صورت میں محفوظ کر دیا تاکہ آپ اپنا ‘مقررہ رول’ ٹھیک ٹھیک انجام دے سکیں اور بالآخر موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں جہنم کے گڑھے سے بچا کر جنت کے لا فانی نعمتوں بھرے باغات میں ہمیشہ کے لئے داخل کر دئیے جائیں۔

اس ضمن میں رب العالمین کی بے پناہ رحمت اور بے مثال عدل و انصاف کا ایک عجیب مظہر یہ بھی ہے کہ اس نے اگرچہ ایک انسان اور دوسرے انسان کو ظاہری شکل و صورت اور خارجی حالات کے لحاظ سے مختلف بنایا،؛ مثلاً کوئی کالا ہے تو کوئی گورا، کوئی امیر ہے تو کوئی غریب، کوئی صاحبِ جاہ و اقتدار ہے تو کوئی بے حیثیت اور کمزور، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کی رضا اور جنت تک پہنچنے کا راستہ بلا امتیاز سب کے لئے یکساں طور پر کھلا اور ہموار بنایا۔پھر اپنی تخلیقی اسکیم میں ہر ایک کی حیثیت و استطاعت کے دائرہ میں، سب کے لئے ایک ہی بنیادی ‘رول’ مقرر کیا اور وہ عبادت ہے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ”، سوره الذاريات، آيت، ۵۶) اسی کے ساتھ اس ‘رول’ کے رد و قبول کا معیار بھی سب کے لئے ایک ہی طے کیا اور وہ ہے تقوی۔ جو ایک ممکن الحصول اندرونی روحانی و اخلاقی صفت ہے اور ہر وقت ہر شخص کی دسترس میں ہے؛ نہ کہ محض چند افراد پر منحصر کوئی خارجی مظہر یا مادی طاقت: (“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”. سورة الحجرات، آيت، ١٣)-

اگر اس نقطہء نظر سے غور کریں؛ تو آپ سراپا عجز و نیاز بن کر اپنے خالق و مالک کی حمد و ثناء اور احسان مندی کے والہانہ احساسات میں ڈوب جائیں گے؛ کیونکہ آپ دیکھیں گے کہ اس وقت دنیا میں آپ جس جگہ اور جس حالت میں بھی اپنی زندگی گزار رہے ہیں؛ وہ ایک انمول ربانی عطیہ ہے؛ جو آپ کو ہر آنے جانے والی سانس کے ساتھ یہ بیش قیمت موقع فراہم کر رہا ہے کہ آپ اس زمین پر اپنے مقررہ رول (عبادت) کو ربانی معیار(تقوی) کے مطابق ادا کرنے کی اپنے بس بھر مخلصانہ سعی کریں، اور اس کے عوض خدا آپ کو جنت کے ابدی نعمت کدہ میں انبیاء و صدِّیقین اور شہداء و صالحین کے ساتھ رہائش کا شرف بخش دے(سورہ النساء، آیت ۶۹)۔

ایسی حالت میں یہ کیسی عجیب ہلاکت خیز نادانی ہے کہ اکثر انسان اپنی ساری “زندگی” خود “زندگی” کو بدلنے کی سعئِ لا حاصل میں گنوا ديتے ہیں؛ جبکہ جو چیز اصلاً انھیں بدلنی تھی اور جس کو وہ بدل سکتے تھے وہ “زندگی” نہیں بلکہ “زندگی” کے بارے میں ان کا تصور اور عملی روش تھی۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- ۲۴ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن: انسانیت کے لئے شفاء اور رحمت

آج سے ساٹھ برس قبل جون 1956 میں امریکی ماہرِ نفسیات مائک گورمین (Mike Gorman) کی ایک معرکۃ الآراء کتاب چھپ کر شائع ہوئی۔ جس کا نام تھا: “ہر دوسرا بستر= Every Other Bed”۔ اس کتاب میں طویل ریسرچ کے بعد اعداد و شمار کی روشنی میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ‘سائنسی، صنعتی، اقتصادی اور عسکری، ہر اعتبار سے دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے اسپتالوں میں ہر دوسرے بستر پر ایک ایسا شخص لیٹا ہوا ہے جسے کوئی حقیقی بیماری نہیں؛ بلکہ وہ محض ایک نفسیاتی مریض (psychiatric patient) ہے’۔

گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران، نہ صرف امریکہ، بلکہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں ذہنی و نفسیاتی مریضوں کی تعداد نیز ان کے درمیان خود کشی کرنے والے افراد کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے؛ چنانچہ اس کے تدارک اور علاج کے پروگراموں کو، اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ بین اقوامی منصوبۂ “پائیدار ترقی ۲۰۳۰” کے سترہ اہم ترجیحی مقاصد میں شامل کیا گیا ہے (تفصیلات کے لئے دیکھئے: ۲۰۱۵ میں پیش کردہ عالمی تنظیمِ صحت (WHO) کی رپورٹ: بعنوان “صحتِ دماغی کا اٹلس” (Mental Health Atlas)۔

مال و دولت کی فراوانی اور اسبابِ عیش عشرت کی بہتات کے باوجود، جديد تہذيب نے انسان کو “ذہنی سکون” (peace of mind) کم، اور “ذہنی تناؤ”(mental stress) زیادہ دیا ہے؛ جسے بیشتر نفسیاتی عوارض اور جسمانی بیماریوں کا بنیادی سبب بتایا جاتا ہے۔ اسی مسئلہ (ذہنی تناؤ) کے حل کی تلاش میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران عالمی سطح پر بالخصوص یورپ اور امریکہ میں روحانیت (spirituality)، گیان دھیان (meditation)، یوگا، اور دیگر “مذاہب و أسفار شرقیہ” (Oriental Faiths & Scriptures)، بشمول قرآن مجید، کے مطالعے اور ان پر عملی تجربات کو زبردست فروغ ملا ہے۔

اس موضوع پر آج غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ قرآن کی صرف تین مختصر سورتوں میں آج کی “بے چین انسانیت” کے لئے شفاء اور رحمت کا پورا سامان موجود ہے:

۱-سورہ التکاثر، جس میں انسان اور انسانیت کے اصل روگ (زیادہ سے زیادہ کی حرص)کی صحیح تشخیص کی گئی ہے۔

۲-سورہ العصر، جس میں انسان اور انسانیت کے اصل روگ کا حتمی علاج بیان کیا گیا ہے؛ جو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر قابلِ استعمال اور کار آمد ہے۔

۳- سورہ الفاتحہ، جو دعائیہ انداز میں گویا زیرِ علاج انسان اور انسانیت کو اپنے”شافئ حقیقی—رب العالمین” سے مسلسل رابطہ (round the clock in touch) میں رکھنے کا وسیلہ ہے تاکہ کسی بھی متوقع یا غیر متوقع صورتِ حال میں وہ اس کی رحیمانہ عنایت (compassionate care) کو طلب کر سکے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۲۵ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

“استرجاع”: ایک “زندگی بخش” کلمہ

آج صبح ایک قریبی رشتہ دار کی خبرِ وفات ملی اور بے ساختہ زبان سے “إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون” نکلا۔

جیسا کہ معلوم ہے، قرآن (البقرة، آیت، ۱۵۶) اور حدیث، دونوں میں اہلِ ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب بھی وہ کسی کی موت کی خبر سنیں یا بذاتِ خود کسی قسم کی ناگہانی مصیبت یا حادثہ یا مالی نقصان وغیرہ سے دوچار ہوں؛ تو مذکورہ کلمہ کہیں، جس کا مطلب ہے:”ہم اللہ کی مِلکیت ہیں اور اللہ ہی کے پاس ہمیں لوٹ کر جانا ہے”۔ اسے اسلامی اصطلاح میں “استرجاع” کہتے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں، اس پر اس دعائیہ جملے کا اضافہ ہے:” أللہم اجرنی فی مصیبتی وأخلف لی خیرًا منہا” یعنی ‘اے اللہ، مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کی جگہ اس سے بہتر عطا کر’۔

یہ’استرجاع’ (یعنی”إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون” کہنا) بظاہر ایک کلمہ ہے جو زندگی کے منفی اور تکلیف دہ واقعات (موت، مصیبت، حادثہ، خسارہ وغیرہ) سے دوچار ہونے پر کہا جاتا ہے؛ مگر عام انسانی رجحان اور سماجی رواج کے بالکل بر عکس؛ اس میں حسرت و افسوس یا رنج و ملال کے احساسات کا اظہار مطلق نہیں۔ بلکہ وہ حد درجہ ‘زندگی بخش’، ‘امید افزا’ اور ‘حوصلہ آفرین’ ایمانی تصورات پر مبنی عبارت ہے۔ اسی لئے قرآن نے اسے سچے ایمان والے “صابرین” کا شعار بتایا ہے اور پیغمبر کی زبانی انھیں خدائی رحمتوں اور برکتوں کی خوشخبری دی ہے (البقرة، آیت، ۱۵۵۔۱۵۷)۔ دوسری طرف حدیث میں کسی کی موت پر نوحہ و ماتم کرنے یا کسی المناک حادثہ پر واویلا مچانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے ‘عملِ جاہلیت’ قرار دیا گیا ہے۔

جب ایک شخص گہرے شعور و اذعان کے ساتھ “استرجاع” کرتا ہے تو وہ گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ:

۱- اللہ ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اور میں اور میری ہر شئے اسی کی علی الاطلاق ملکیت کا حصہ ہیں۔ اس لئے اس تکلیف دہ واقعہ یا نقصان کو میں اپنے مالک کی مشیئت جان کر اسے بلا اعتراض تسلیم کرتا ہوں۔ (یہ اقرار دل و دماغ کو بیک وقت سکینت واطمینان اور حوصلہ و امید سے بھر دیتا ہے)۔

۲- جو شخص یا چیز بھی مجھ سے جدا ہوئی یا چھن گئی ؛وہ حقیقتاً اپنے اصلی مالک (اللہ) کے حکم سے اس کے پاس واپس چلی گئی اور ٹھیک اسی طرح ہم سب کو بالآخر لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ لہذا مجھے اس واقعہ کو “رب العالمین سے ملاقات کی یاد دہانی” سمجھنا چاہئے اور اسی فیصلہ کن گھڑی کی تیاری کے لئے اب پوری سنجیدگی اور مستعدی سے یکسو ہو جانا چاہئے۔

بنا بریں، کسی جانی یا مالی خسارہ کے بعد ایک صاحبِ ایمان کے لئے غور طلب بات یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا اور اگر یہ نہ ہوتا تو ایسا نہ ہوتا- اس قسم کی بات کہنا یا سوچنا نہ صرف استرجاع کی اسپرٹ کے خلاف ہے، بلکہ نہایت غیر حقیقت پسندانہ ذہنیت کی دلیل ہے؛ جو نفسیاتی اور عملی ہر اعتبار سے انسان کے لئے سخت تباہ کن ہے۔ یہ ‘جاہلانہ رجحان’ اصل خسارہ پر مزید نا قابلِ تلافی نقصانات کا اضافہ کرنا ہے۔ باشعور اور مخلصانہ استرجاع کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ انسان کسی موت یا صدمہ کے بعد اپنی بقیہ زندگی اور اپنے پاس باقی ماندہ متاع نیز اہل و عیال کی نسبت سے مزید حساس اور ذمہ دار ہو جائے، وہ اپنے وقت اور وسائل کو زیادہ منظم اور با معنی طور پر اس طرح استعمال کرے کہ جلد یا بدیر جب وہ اپنے مالکِ حقیقی کے پاس واپس جائے تو وہ اس کے اعلی معیارِ کمال و جمال کے مطابق ‘قابلِ قبول’ ٹہرے؛ یا کم از کم وہ اپنی غیر ذمہ دارانہ روش کے نتیجہ میں اتنا فاسد اور ناکارہ نہ ہو چکا ہو کہ خدا اسے جہنم کے سوا کسی اور جگہ کے لائق نہ سمجھے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۲۶ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن کیسے سمجھیں؟

قرآن سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی عقل کی محدودیت کی بنا پر، بعض قرآنی آیات کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں۔ ان کا تعلق زیادہ تر غیبی معاملات سے ہے؛ اس لئے ان کے بارے میں اجمالی فہم پر قناعت کرنا ہوگا۔ البتہ بیشتر قرآنی آیات کا تعلق انسان کی عملی صلاح اور اخروی فلاح کے بنیادی تقاضوں سے ہے جو نہایت واضح لفظوں میں ہیں اور ان کو مکمل طور پر سمجھا اور روزمرہ زندگی میں ان کے مطابق اپنے فکر و عمل کو ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہی قرآن کا اصل مدعا ہے۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہماری کائنات کے فطری قوانین۔ ان کے بارے میں دنیا بھر کے بڑے بڑے عبقری سائنسداں مل کر بھی ایک فیصد سے زیادہ کچھ بولنے یا سمجھنے اور سمجھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں- البتہ ان قوانین کے بالواسطہ عملی استعمالات یا تکنیکی اثرات کو وسیع پیمانہ پر مشاہدے اور تجربے کا موضوع بنا کر انسانی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اب اس اصول کو منطبق کرتے ہوئے سورہ التکویر اور سورہ الانفطار پر غور کیجئے۔ دونوں سورتوں کا کم و بیش ایک تہائی حصہ قیامت کے مختلف ہولناک مراحل کی تصویر کشی پر مشتمل ہے، جن کا بر حق ہونا ہمیں ایسے ہی مان لینا ہے جیسے ہم ننانوے فیصد کائناتی “حقائق” کو براہِ راست دیکھے اور جانے بغیر انھیں مسلمات کی طرح مانے ہوئے ہیں اور اسے عین عقل و دانش کا تقاضہ سمجھتے ہیں۔

دونوں سورتوں کی بقیہ آیات کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے بعد انسان کی ابدی کامیابی یا ابدی بربادی کا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ اپنی موجودہ زندگی “ابرار” کی طرح جیتا ہے یا “فجار” کی طرح۔ گویا موجودہ دنیا وہ ‘کارخانہ’ ہے جس میں ہر انسان یا تو اپنی قیامت کے بعد کی لا زوال زندگی کو کامیاب اور پُر مسرت بنا رہا ہے یا ناکام اور حسرت آمیز۔ چنانچہ قیامت آتے ہی ہر نفس کو فردًا فردًا اس کی اپنی عمر بھر کی کارگزاری اور اس کے آخری نتیجہ سے آگاہ کر دیا جائے گا، جیسا کہ ارشاد ہوا:”علمت نفس ما أحضرت”(التکویر، آیت ۱۴) اور “علمت نفس ما قدمت وأخرت”(الانفطار، آیت،۵)۔

ان سورتوں کا پیغام مختصرًا یہ ہے___اس سے پہلے کہ قیامت کا طوفان آکر نظامِ کائنات کو تہ و بالا کردے؛ موجودہ زندگی کے ہر لمحے کی قدر کیجئے۔ یہ لمحے اگرچہ فانی ہیں؛ مگر انہیں لمحوں کے درست یا نا درست استعمال سے آپ اپنی آنے والی لا فانی زندگی کو آباد یا برباد کر رہے ہیں۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۳۷ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

لیلة القدر—”روحِ اسلام” کا کائناتی مظاہرہ

اسلام کی اصل روح، “تسلیم و رضا”(Surrender & Acceptance) ہے، یعنی زندگی کے ہر معاملہ میں ذہنی سوچ سے لے کر قلبی جذبات و واردات، ارادی اقوال و افعال اور غیر ارادی حرکات و سکنات تک کو بلا مزاحمت رب العالمین کی مشیئت کے تابع اور اس سے ہم آہنگ کر لینا؛ یا کم از کم اس ہم آہنگی کی مسلسل شعوری کوشش کرنا۔ “تسلیم و رضا” کے اصول کو برتنے کی اس سنجیدہ شعوری کوشش کا نام قرآنی اصطلاح میں تزکیہ ہے اور اسی کوشش میں کامیابی کے تسلسل اور تناسب کے بقدر وہ نادر اور بیش قیمت روحانی تجربہ حاصل ہوتا ہے جسے “ربانی معرفت” کہتے ہیں؛ جو حکمت و بصیرت اور اعلی اخلاق کا سر چشمہ ہے۔

اس اعتبار سے “تسلیم و رضا”، عینِ عبدیت اور بندگی ہے۔ نماز، روزہ، زکاة، حج اور دیگر عبادات و شعائر کا مقصود “اسلام” کی اسی روح یا جوہر کو نمایاں اور راسخ کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر تمام اسلامی اعمال، عبادات اور دینی سرگرمیاں، اپنی ظاہری خوشنمائی کے باوجود، ایسے ہی بے جان اور بے اثر ہیں جیسے کاغذ کے خوش رنگ پھول۔

خدا کے تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی “روحِ اسلام” کا عملی نمونہ پیش کیا، جس کا آخری مستند ترین مظاہرہ پیغمبرِ اسلام کے اسوۂ حسنہ کی شکل میں ہوا۔ اس پہلو سے قرآن میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (۴) کی تحسین کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:”جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ تابع ہو جا؛ تو اس نے کہا کہ میں رب العالمین کا تابع بن گیا (یعنی سراپا تسلیم و رضا بن کر اس کی مشیئت کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا)۔﴿ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (سورة البقرة، آيت، 131) ﴾ اس کے بعد کی آیات (البقرة 132-137) میں مزید بتایا گیا ہے کہ تسلیم ورضا کے اسی اسوۂ ابراہیمی کو اختیار کرنا؛ اسی پر جینا اور اسی پر مرنا، بلا استثناء سارے انبیاء اور صلحاء کا نصب العین رہا ہے اور وہی ہر مسلمان سے ہر جگہ اور ہر زمانے میں مطلوب ہے۔

در حقیقت ساری کائنات کا نظام اتنے محکم اور پُر امن طور پر اسی لئے چل رہا ہے کہ وہ ‘روحِ اسلام’ پر قائم یعنی اپنے خالق و مالک کی مشیئت کے ساتھ کلی طور پر ہم آہنگ ہے۔ ٹھیک اسی طرح انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی بھی سکینت اور سلامتی سے بھرپور اور ہر قسم کے فساد اور بد نظمی سے خالی ہو سکتی ہے؛ اگر وہ اس “روحِ اسلام” کو اپنا لے جس کو بیان کرنے کے لئے لیلة القدر میں قرآن اتارا گیا اور خود لیلة القدر کو فرشتوں اور جبریل کے ذریعہ اسی روحِ اسلام کا کائناتی مظاہرہ بنا دیا گیا- گویا ایک صاحبِ ایمان اپنے وجود کو شعوری سطح پر “تسلیم و رضا” کے سانچے میں مسلسل ڈھالنے کا جس قدر حوصلہ اور سعی کرے گا؛ کم و بیش اسی تناسب سے اس کے اندر قرآن اور لیلة القدر کی ربانی تجلیات کو محسوس کرنے، دیکھنے اور ان سے فیض یاب ہونے کی صلاحیت بیدار ہو گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۲۸ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

تزکیۂ نفس کیا ہے؟ (۲/۱)

‘تزکیہ’ کا لفظ ‘زکاة’ سے بنا ہے، جس کے معنی میں بیک وقت پاکیزگی (purity) اور نشو و نما (development & progress) دونوں پہلو سبب اور نتیجہ کے طور پر شامل ہیں؛ گویا ایک کے بغیر دوسرے کا حصول ممکن نہیں۔ جس طرح ایک عمدہ فصل یا پھل دار درخت کی بھر پور نشو و نما کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آپ اچھی (زرخیز) مٹی، اچھے بیج اور اچھی کھاد اور پانی وغیرہ کا انتظام کریں؛ بلکہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ آپ اس کے گرد و پیش کو کیڑے مکوڑوں، خود رو پودوں اور آندھی اور طوفان وغیرہ کی زد سے مسلسل محفوظ رکھنے کی تدابیر کرتے رہیں؛ ورنہ خدشہ ہے کہ آپ کی ساری محنت آپ کی فصل اور درخت کے پھلنے پھولنے سے پہلے ہی اکارت ہو جائے گی۔ ٹھیک یہی معاملہ نفس کے تزکیہ کا ہے۔

عربی گرامر کی رو سے ‘تزکیہ’ میں شدتِ اھتمام (intensive care) اور تسلسل (consistency) کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی نفس کی پاکیزگی اور نشو و نما کا یہ عمل، کوئی موسمی (occasional) سرگرمی یا رسم نہیں؛ جس کو محض ایک یا چند مخصوص اوقات میں کر دینا کافی ہو؛ بلکہ وہ ایک تا عمر جاری رہنے والا عمل (life-long process) ہے۔ اس اعتبار سے روحانی اور اخلاقی سطح پر ‘تزکیۂ نفس’ وہی چیز ہے جسے آج کل عالمی ماہرین، کامیاب تجارت اور معیاری تعلیم کا سب سے بڑا راز بتاتے ہیں اور اسے تا حیات سیکھتے رہنا (life-long learning)؛ ذاتی قدر پیمائی (Self Evaluation) اور مسلسل عملی ارتقاء (CPD) وغیرہ ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز بدھ- ۲۹ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

تزکیۂ نفس کیا ہے؟ (۲/۲)

تزکیہ کتنا اہم دینی عمل ہے، اس کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ قرآن نے اسے پیغمبر اسلام (صلعم) کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: (سورہ البقرة، آیت ۱۲۹ اور ۱۵۱؛ سورہ آل عمران، ۱۶۴؛ سورہ الجمعة، آیت، ۲)۔ پھر جنت کے ابدی باغات کو ان لوگوں کی جزا قرار دیا ہے ‘جنہوں نے اپنا تزکیہ کیا’ (سورة طه، آيت، ٧٦)۔ سورہ الأعلی (آیت، ۱۴) میں یہی بات مزید تاکید کے ساتھ یوں بیان ہوئی ہے:”قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ” یعنی ‘یقیناً اس نے فلاح پا لی؛ جس نے اپنا تزکیہ کیا’۔

تاہم قرآن (سورہ البقرة، آیت، ۱۷۴؛ سورہ آل عمران، آیت، ۷۷) سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ‘تزکیۂ نفس’ کے عمل کی تکمیل آخرت میں براہِ راست خدا کرے گا۔ گویا اس دنیا میں پیغمبر کے ذریعہ یا پیغمبرانہ اسوۂ حسنہ کے مطابق ایک صاحبِ ایمان صرف تا عمر اپنے نفس کے تزکیہ کی پیہم سعی و کوشش کر سکتا ہے، یہ سعی و کوشش جس حد تک رضائے الہی سے ہم آہنگ ہو گی؛ اسی حد تک وہ آخرت میں خدا کے نزدیک قابلِ قبول اور کامل ٹہرے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ تزکیہ کے عمل کی اصل نوعیت کیا ہے؟ بالفاظ دیگر، نفس کی وہ کیا کمزوری یا منفی صفت ہے جس سے اسے “پاکیزہ” بنانے کی ہمیں فکر و کوشش کرنی ہے تاکہ اس کے اندر موجود اعلی روحانی صفات اور ربانی امکانات ضائع نہ ہوں اور انھیں بھرپور نشو و نما کا موقع ملتا رہے۔

تزکیۂ نفس کا عمل در حقیقت اپنے آپ کو اس بھرم اور خوش فہمی سے بچانا ہے کہ میں ‘برگزیدہ’ اور ‘پاکیزہ’ ہوں۔ “احساسِ برگزیدگی” یا اپنی پاکیزگی کا زُعم، خواہ کسی درجہ میں ہو، وہ سب سے بڑا مہلک نفسیاتی روگ ہے؛ جو انسان کی حقیقی روحانی پاکیزگی اور اخلاقی ارتقاء کے تمام فطری امکانات کو کھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، خود فریبی، خود نمائی اور خود ستائی کے شیطانی جال میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ پھر اسے اپنا عیب بھی ہنر اور اپنے نقائص بھی کمالات دکھائی دیتے ہیں؛ چنانچہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی تہذیب واصلاح کی مطلق ضرورت محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے ناصح اور مصلح کو، اپنا سب سے بڑا دشمن اور بدخواہ خیال کرنے لگتا ہے۔ ظاہر ہے اس مزاج کے زیرِ اثر، وہ روحانی شعور اور فکر و کردار کی سطح پر جہاں اور جس حالت میں ہوتا ہے؛ اس سے نکلنے یا اسے بدلنے پر کبھی آمادہ نہیں ہو سکتا-

میں سمجھتا ہوں پیغمبرِ اسلام (صلعم) نے قرآن کے ذریعہ صحابۂ کرام (رض) کی جو بے مثال ربانی نسل تیار کی اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے اندر سے “برگزیدگی” اور “پاکیزگی” کے ہر احساس اور بھرم کو شعوری طور پر کھرچ کر نکال دیا تھا اور اس کی جگہ خدا کے سامنے “جوابدہی” کے احساس کو اپنے اندرون کی گہرائیوں میں اتار لیا تھا۔ اس لئے ان کے درمیان تزکیۂ نفس کا عمل بلا انقطاع جاری رہا۔ اس سلسلہ میں ان کے فکر و نظر کا معیار یہ قرآنی آیت تھی: “أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ” (سورہ النساء، آیت، 49) یعنی ‘کیا تم نے ان کو دیکھا جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں، نہیں، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے’۔

اس قرآنی مزاج کا اثر صحابہ کے بعد مزید دو نسلوں تابعین اور تبع تابعین کے اوپر بھی غالب رہا- اسی لئے ان کا شمار “خیر القرون” میں ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے یہاں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں:

۱-صحیح البخاری میں ایک باب کا بہت با معنی اور فکر انگیز عنوان یہ ہے: “باب خوف المؤمن من أن یحبط عمله وھو لا یشعر” یعنی مؤمن کا اس بات سے ڈرتے رہنا کہ اس کا نیک عمل رائیگاں ہو جائے اور اس کو احساس تک نہ ہو’۔

۲-حسن بصری کا قول ہے کہ: “مؤمن کو جب بھی دیکھو وہ ہمیشہ اپنے تئیں ملامت کرتا ہوا نظر آئے گا، مثلا وہ کہے گا: میں نے ایسا کیوں کیا؟ اس سے میرا ارادہ کیا تھا؟ اس عمل سے کہیں بہتر کرنے کا کام تو یہ تھا، وغیرہ”۔ نیز وہ کہا کرتے تھے کہ “مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نفاق میں مبتلا ہونے سے ڈرتا رہتا ہے؛ جبکہ منافق وہ ہے جو اس پہلو سے بالکل مطمئن ہوتا ہے”۔

۳-ابن أبي مليكة کہتے ہیں: “میں نے نبي صلى الله عليه وسلم کے تیس صحابیوں کا زمانہ پایا ہے ان میں ہر کوئی اپنے اوپر نفاق کا خطرہ محسوس کرتا تھا اور ان میں کسی کو یہ دعوی نہیں تھا کہ اس کا ایمان جبريل وميكآئیل کے درجہ کا ایمان ہے”۔

خلاصہ یہ کہ تزکیۂ نفس کا عمل از اول تا آخر یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کا ہر لمحہ ‘احساسِ جوابدہی’ (sense of accountability) کے تحت خود احتسابی کرتے ہوئے گزاریں اور اپنے اندر کبھی احساسِ برگزیدگی (sense of chosen-ness) یا زُعمٰ پاکیزگی نہ پیدا ہونے دیں۔ اسی عمل نے “خیر القرون” کو خیر القرون بنایا اور اسی کے فقدان نے بعد کے دور کو شر القرون بنا دیا ۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعرات- ۳۰ جون ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

قرآن: آپ کے حق میں یا آپ کے خلاف!

امام مسلم نے کتاب الطہارة کے ذیل میں پانچ لفظوں پر مشتمل ایک حدیث یوں نقل کی ہے:”القرآن حجة لك أو عليك”…یعنی: ‘قرآن یا تو تمہارے حق میں ایک حجت ہے یا تمہارے خلاف’۔

اس وقت جبکہ تمام مسلم دنیا؛ خصوصاً برِّ صغیر کے مسلمانوں میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر “ختمِ قرآن” کی سرگرمی پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے(جیسا کہ ہر سال رمضان المبارک میں ہوتا ہے)؛ مذکورہ حدیث ہمیں ایک سنجیدہ دعوتِ فکر بھی دیتی ہے اور اسی کے ساتھ ایک نہایت سنگین وارننگ بھی۔ غالباً اسی حدیث کے پیشِ نظر، جلیل القدر فقیہ صحابی عبد اللہ بن مسعود (رض) اکثر کہا کرتے تھے کہ: “إن أقواماً يقرؤون القرآن ولا يجاوز تراقيهم”؛ (‘بہت سے لوگ ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جاتا’)۔

مذکورہ حدیثِ رسول اور قولِ صحابی کی روشنی میں میں نے کچھ طالبِ علموں کو نصیحت کرتے ہوئے ایک بار کہا کہ: قرآن کا سچا قاری وہ ہے، جو قرآن پڑھنے کے بعد ‘دوسروں’ سے پہلے خود ‘اپنے’ خلاف ‘اعلانِ جنگ’ کردے۔ جب ایسا ہو تو گویا فی الواقع قرآن آپ کے حلق سے گزر کر آپ کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر گیا اور آپ کے فکر و عمل کی انقلابی تشکیلِ نو کرنے لگا۔ اس وقت بلا شبہ حدیث کے مطابق قرآن آپ کے حق میں حجت ہے۔ اس کے بر عکس اگر قرآن پڑھ کر آپ پہلے جہاں اور جس حالت میں تھے؛ وہیں اور اسی حالت میں پڑے رہیں یا اسے ‘دوسروں’ کے خلاف کسی خود ساختہ قسم کی بظاہر انقلابی یا اصلاحی مگر عملاً تخریبی کارروائی کی بنیاد بنا لیں؛ تو ایسی صورت میں وہ آپ کے خلاف حجت ہو گا۔ آپ اگرچہ اپنی اس تخریبی کارروائی کے جواز میں بعض قرآنی آیات کا حوالہ دیں گے مگر وہ حضرت امام علی (رض) کے اس مشہور حکیمانہ قول کا مصداق ہو گا کہ “بات تو حق کی ہے؛ مگر اس کا مدعا باطل ہے”( کلمة حق أرید بہا الباطل)

نزولِ قرآن سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر غارِ حراء میں کئی کئی دن معتکف ہو کر غور و فکر کرتے تھے۔ مگر نزولِ قرآن کے بعد دوبارہ آپ نے کسی غار میں عزلت نشینی اختیار نہیں کی۔ اسی طرح نزولِ قرآن کا اولین تجربہ آپ کے لئے اتنا شدید اور پُر ہیبت تھا کہ اس کے اثر سے آپ چادر اور کمبل اوڑھ کر اپنے گھر میں پڑ گئے۔ مگر اللہ تعالی نے آپ کو آگاہ کیا کہ آخری آسمانی کتاب کا حامل بننے کے بعد آپ کا کام گھر میں بیٹھنا یا چادر اوڑھ کر لیٹ جانا نہیں بلکہ ہمہ تن سرگرمِ عمل ہو جانا ہے۔ چنانچہ حکم ہوتا ہے کہ آپ اٹھیں اور قرآن کے مطابق خود اپنے روحانی و اخلاقی جوہر کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ ساری انسانیت کے فکر و کردار کی تطہیر اور اس کی از سرِ نو تعمیر کے جاں فشاں کام کا بیڑہ اٹھائیں۔ جیسا کہ معلوم ہے یہ کام تیئیس سالہ انتہائی پُر مشقت داخلی اور خارجی جہاد اور بے پناہ قربانیوں کے بعد ایک عظیم الشان عالمگیر انقلاب کی شکل میں پایۂ تکمیل تک پہنچا، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہ اس سے پہلے دیکھی گئی نہ اس کے بعد۔

قرآن کا مطلوب اس کے ہر قاری سے ہر جگہ اور ہر زمانے میں بنیادی طور پر وہی ہے جو اس کے پہلے قاری سے تھا۔ اگر اس کو پڑھ کر آپ کی سوچ، آپ کی عملی روش، آپ کا نظام الاوقات، آپ کے انسانی تعلقات، آپ کی ترجیحاتِ زندگی اور آپ کی پسند و نا پسند کے معیارات اس کے مطابق نہ بدلے؛ تو وہ آپ کے خلاف خدا کی حجت ہے، بظاہر ‘حاملِ قرآن’ اور ‘قارئِ قرآن’ ہو کر بھی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جن کی شکایت خود پیغمبر نے اپنے رب کی عدالت میں اس طرح درج کرائی ہے:اور رسول نے کہا کہ اے میرے پروردگار، میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی چیز بنا رکھا ہے (وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (سورہ الفرقان ، آیت ۳۰)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز جمعہ- یکم جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

دعائے ليلة القدر

سننِ ابن ماجة میں ہے کہ أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها نے نبي صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو میں کیا دعاء کروں؟ آپ (صلعم) نے فرمایا کہ یوں کہو:”اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي” (یعنی:اے اللہ، تو بہت عفو و در گزر کرنے والا ہے اور عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے، لہذا میرے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ فرما”۔ جامع الترمذی کی روایت میں “کریم” بمعنی: “عالی ظرف، مہربان” کا اضافہ ہے اور دعاء یوں ہے:( اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني)

جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، لیلة القدر وہ رات ہے جس میں اللہ کے ‘تمام حکیمانہ فیصلوں کا تصفیہ ہوتا ہے ( سورہ الدخان، آیت،۴)۔اس میں طلوعِ فجر تک جبریل سمیت خدا کے خاص فرشتے اپنے رب کے احکامات لے کر اترتے رہتے ہیں اور اس کے اثر سے پوری کائنات امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک رات میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ اپنی استثنائی برکتوں اور فضیلتوں کی بنا پر یہ رات ‘ایک ہزار مہینے’ سے بہتر ہے (سورہ القدر)۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مذکورہ دعاء بظاہر ‘بہت کم’ معلوم ہوتی ہے۔ غالباً ایک عام آدمی یہ سوچے گا کہ جب موقع اتنا مبارک ہے اور دینے والا اس قدر فیاض؛ تو صرف ‘عفو در گزر’ کی ایک طلب پر اکتفاء کیوں؟ ہمیں تو ‘سب کچھ’ اور ‘بے حد و حساب’ مانگ لینا چاہئے!

اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہر آدمی اپنے ذوق اور ضرورت اور امید اور حوصلہ کے لحاظ سے دین و دنیا سے متعلق کسی بھی جائز چیز کی دعاء کرے۔ مگر میں سمجھتا ہوں مذکورہ دعاۓ لیلة القدر کی شکل میں اہلِ ایمان کو ربانی معرفت کی وہ بنیادی کلید دی گئی ہے جس کا شعوری ادراک ہونے کے بعد “کچھ اور مانگنے” کی فکر کم بلکہ شاید بالکل ختم ہو جاتی ہے، اس کی جگہ یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ دینے والا در اصل ہمیں ہمارے حوصلے اور مانگ اور ضرورت سے کہیں بڑھ کر عملاً دے چکا ہے اور دیتا رہتا ہے نیز اپنے فضل و کرم سے مزید نوازنے کے لئے تیار ہے؛ مگر ہم خود اپنی بے شعوری اور غفلت سے اس کے ہر لحظہ برسنے والے فیض کی ناقدری کرتے ہیں اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں؛ جو گویا دانستہ یا نا دانستہ اس کی فیاضی اور مہربانی کی “تحقیر و اہانت” کے ہم معنی ہے؛ جس کو وہ رحمن و رحیم اگر نظر انداز نہ کرے، تو جو کچھ اس وقت ہمارے پاس ہے وہ بھی چھن جائے اور ہم سخت عذاب کی گرفت میں آجائیں۔اسی حقیقت کی طرف سورہ فاطر ( آیت، 45) میں اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خدا اگر انسانوں کی عام کمائی یا کار گزاری پر مواخذہ کرنے لگے تو روئے زمین پر کوئی چلتا پھرتا نہ بچے۔ چنانچہ لیلة القدر جیسے مبارک ترین موقع کی دعاء کا مرکز و محور اس سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا کہ بندہ اپنے رب سے کہے کہ: خدایا، میں سر تا پا تقصیر اور کوتاہی میں غرق ہوں۔ حتی کہ میری عبادت بھی بے شمار ‘نقائص’ سے پُر ہوتی ہے اور اس طرح وہ عبادت کے بجائے تیری “معصیت اور اہانت’ کہلانے کی مستحق ہے، لیکن تو سراپا عفو و درگزر ہے لہذا میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تو میری معصیتوں اور ناقص عبادتوں، دونوں سے عفو و در گزر فرماتے ہوئے مجھے اپنے رحم و کرم کی آغوش میں پناہ دے دے۔ (آمین!)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز سنیچر- ۲ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

اگر آپ آگے نہیں بڑھ رہے؛ تو آپ پچھڑ رہے ہیں! (٢/١)

نزولِ قرآن کی ابتدا آج سے ٹھیک ساڑھے چودہ سو برس پہلے مکہ کے ایک دور افتادہ تاریک غار میں ہوئی۔ یہ پوری تاریخِ بشری کا نہایت استثنائی واقعہ ہے کہ چوتھائی صدی سے بھی کم مدت (صرف ۲۳ سال) میں اپنی تدریجی تکمیل کے ساتھ، قرآن نے، اپنے دعوے کے عین مطابق، انسانیت کو “تاریکیوں” سے نکال کر “روشنی” میں پہنچا دیا۔ اس “روشنی” کو پا کر جزیرۂ عرب کے “اُمّی لوگ” (illiterate people) دینی و دنیاوی، ہر معاملہ میں اپنے وقت کے “امام” (leaders) بن گئے۔ قرآن کی “روشنی” پر مبنی، حاملینِ قرآن کی یہ امامت یا قیادت کم و بیش ایک ہزار سال تک ساری آباد دنیا پر براہِ راست یا بالواسطہ قائم رہی۔

قرآن کے اولین قارئین کس طرح اس قابل ہوئے کہ ایسے ہمہ گیر آنفرادی اور اجتماعی انقلاب کے بانی اور عالمی قائد بن جائیں؟ میری نظر میں اس کا مختصر جواب چار لفظوں میں یہ ہے: خدا شناسی، خود شناسی، وقت شناسی اور آخرت شناسی۔ قرآن اپنے ہر سنجیدہ قاری کو یہی چہار گونہ حرکی ذہنیت(four dimensional dynamic mind-set) دیتا ہے، جو اگر صحیح معنوں میں پیدا ہو جائے تو پھر قرآن کا قاری وہ نہیں رہ جاتا؛ جو وہ پہلے تھا، نیز اپنے ساتھ ساتھ وہ اپنے گرد وپیش کی مادی اور انسانی دنیا کو بھی اس کی ‘موجودہ یا سابقہ” حالت سے ہر ممکن پہلو سے بہتر دیکھنے اور بہتر بنانے کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔

خدا شناسی، خود شناسی، وقت شناسی اور آخرت شناسی پر مبنی قرآن کی یہ چہار گونہ حرکی ذہنیت جب کسی فرد یا مجموعۂ افراد میں ابھرتی ہے تو ان کی زندگی سے یک لخت سکون اور جمود اور ٹہراؤ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ ہر قسم کی سُستی اور کاہلی اور بے عملی اور تن آسانی کی غیر ذمہ دارانہ اور تباہ کن روش سے ایسے ہی بھاگتے اور خدا کی پناہ مانگتے ہیں جیسے کوئی صحت مند شخص کوڑھ اور سرطان جیسے امراضِ خبیثہ سے بھاگے اور خدا کی پناہ مانگے۔ زندگی کا، بلکہ زندگی کی ہر سانس کا پہلا اور آخری مصرف ان کی نظر میں صرف ایک ہو جاتا ہے اور وہ ہے: حسنِ عمل، اخلاصِ عمل، تنقیدِ عمل اور تحسینِ عمل کی مسلسل کاوش کرنا۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز اتوار- ۳ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhab

اگر آپ آگے نہیں بڑھ رہے؛ تو آپ پچھڑ رہے ہیں! (۲/۲)

مذکورہ رجحان کے تحت، قرآن میں سنجیدہ تدبر کرنے والے قارئین و سامعین کے ذہنوں میں ہر وقت کچھ اس قسم کے خیالات و احساسات امنڈتے رہتے ہیں:

۱-ہماری کائنات معجزاتی حد تک با معنی اور حسین ہے۔ اس میں کہیں کوئی خلل یا بد نظمی نہیں۔ اس کی ہر شئے کا ایک مقصد ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ ایک باقاعدہ نظام کی پابند ہو کر اپنے دائرۂ کار میں ہر وقت متحرک رہتی ہے۔ یہ گویا انسان کے لئے خالق کا ایک خاموش پیغام ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے مقصدِ اعلی کو جانے اور اس تک پہنچنے کے لئے یکسوئی کے ساتھ ہمیشہ رواں دواں رہے۔

۲-یہاں جس طرح ہر کام کا ایک وقت ہے؛ اسی طرح ہر وقت کا ایک کام ہے۔ کسی کام کو اس کے مقرر وقت پر بحسن و خوبی وہی انجام دے سکتا ہے جو ہر وقت کے کام کو بر وقت جاننے اور اسے کما حقہ پورا کرنے کی سعی کرتا ہے۔

۳-اگر آپ آج وہاں نہیں ہیں؛ جہاں اپنی تخلیق کے مقصدِ اعلی کی نسبت سے آپ کو آج ہونا چاہئے تھا؛ تو گویا آپ کل تک وہاں تھے جہاں آپ کو کل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اگر آپ اپنے ہر دن، بلکہ اس کے ہر لمحے کو اپنے ہر کل اور اس کل کے ہر لمحے سے بہتر بنانے کی سنجیدہ اور پیہم کوشش میں مصروف نہیں؛ تو عملاً آپ اپنے آپ کو مسلسل کھونے کے عمل میں مصروف ہیں۔ ایسی حالت میں آپ آج وہ بھی نہیں ہو سکتے جو آپ گزشتہ کل تک تھے؛ اور آئندہ کل آپ وہ بھی نہ رہ سکیں گے جو آپ آج ہیں۔

۴-اگر آپ فکر و شعور اور کردار و عمل کی سطح پر مسلسل آگے کی سمت نہیں بڑھتے تو لازماً آپ ہر سطح پر مسلسل پچھڑٹے جارہے ہیں۔ اگر آپ لحظہ بہ لحظہ ‘سنورتے اور نکھرتے’ نہیں ؛ تو ہر گزرتی ہوئی ساعت کے ساتھ آپ ‘بگڑتے اور گدلاتے’ جاتے ہیں اور انجامِٰ کار آپ کا حال آپ کے ماضی سے اور آپ کا مستقبل آپ کے حال سے زیادہ تاریک اور بد تر ہوتا جاتا ہے۔

۵-آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹنے، سنورنےاور نکھرنے یا بگڑنے اور گدلانے کی یہ دونوں ہی حالتیں آپ کی اپنی خود ارادیت پر مبنی ایک آزادانہ انتخاب ہے۔ آپ کے اسی آزادانہ انتخاب کی نوعیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کس حد تک خدا شناس، خود شناس، وقت شناس اور آخرت شناس ہیں؛ یا کس حد تک ان حقائق کی قدر و قیمت اور فیصلہ کن اہمیت سے نا آشنا یا ان کے منکر ہیں تاکہ بالآخر آپ کے اسی انتخاب کی بنیاد پر آپ کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے۔

اسی ذہنی رجحان کو ابھارنے اور پختہ کرنے کے لئے قرآن بار بار اپنے قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات اور زندگی کے حیرتناک اور سبق آموز مظاہر میں غور و فکر کرے۔ مثلاً سورہ المدثر (آیات ۳۲-۳۸) میں چاند، ڈھلتی ہوئی رات اور ابھرتے ہوئے دن کو گواہ بنا کر کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ تمہارے لئے خالق نے مسخر کیا ہے تاکہ “تم میں جو چاہے آگے بڑھتا جائے اور جو چاہے پیچھے ہٹتا چلا جائے۔ ہر شخص اپنی کمائی سے بندھا ہوا ہے”(لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ؛ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ).

قرآن کے اولین قارئین کے ذہنوں پر یہ رجحان کس طرح چھایا ہوا تھا، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) نے موت کے وقت اپنے جانشیں حضرت عمر (رض) کو جو اہم وصیتیں کیں؛ ان کا پہلا جملہ یہ تھا:”اے عمر، اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ اللہ کو ایک عمل دن میں مطلوب ہے، جسے وہ رات میں قبول نہیں کرتا اور ایک عمل رات کو مطلوب ہے؛ جسے وہ دن میں قبول نہیں کرتا؛ اسی طرح اس کی نظر میں کوئی ‘نفلی عمل’ قابلِ قبول نہیں جب تک کہ اس سے پہلے فرض کی ادائیگی نہ ہو چکی ہو” ((لَمَّا حَضَرَ أَبَا بَكْرٍ الْمَوْتُ دَعَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ : ” اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ، وَاعْلَمْ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَمَلا بِالنَّهَارِ لا يَقْبَلُهُ بِاللَّيْلِ ، وَعَمَلا بِاللَّيْلِ لا يَقْبَلُهُ بِالنَّهَارِ ، وَأَنَّهُ لا يَقْبَلُ نَافِلَةً حَتَّى تُؤَدَّى الْفَرِيضَةُ)) (مسند أحمد)

اسی خدا شناس، خود شناس، وقت شناس اور آخرت شناس ذہنی رجحان نے کل کے حاملینِ قرآن کو انسانیت کا معمار اور قائد بنایا تھا اور اسی کے فقدان نے بعد کے حاملینِ قرآن کو انسانی قافلے کی گزر گاہ میں اڑنے والے غبار کی طرح بے وقعت اور بے اثر بنا دیا ہے۔

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز پیر- ۴ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

رمضان کب اور کس کے لئے “مبارک” ہے؟

سورہ البقرہ (آیت ۱۸۴) میں رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسی مہینہ میں قرآن نازل کیا گیا؛ جو پوری انسانیت کے لئے “ہدایت، نیز اس ہدایت کے واضح دلائل اور حق و باطل میں فرق کا معیار” فراہم کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ “رمضان کے روزے” اور “قرآنی ہدایت” میں بہت گہرا تعلق ہے۔

در اصل قرآن ایک عملی ہدایت نامہ ہے۔اس سے رہنمائی پانے کے لئے صرف اسے زبان سے پڑھ لینا یا کان سے سن لینا کافی نہیں۔ بلکہ اس کے قاری اور سامع کے اندر حقیقت پسندی اور سنجیدگی کا مزاج ہونا لازمی ہے؛ جس کا نام دینی اصطلاح میں ‘تقوی’ ہے۔ چنانچہ قرآن کے بالکل آغاز (سورہ البقرہ، آیت، ۲) میں ہی یہ بتا دیا گیا کہ اس سے وہی لوگ ہدایت پائیں گے جو “تقوی والے ہیں” (ھدیً للمتقین)۔

اسی تقوی کے رجحان کو مزید ابھارنے اور تقویت پہنچانے کے لئے رمضان کے روزے فرض کئے گئے(سورہ البقرہ، آیت، ۱۸۳)۔ اس طرح گویا خدا کی آخری کتاب کے نزول کے ساتھ ساتھ اس بات کا خصوصی انتظام کیا گیا کہ اس سے استفادہ کی لازمی صفت (تقوی) کو ہر سال اس کے حاملین کے اندر ری چارج (recharge) کر دیا جائے تاکہ وہ اس ربانی ہدایت نامہ سے اپنے عملی تعلق کی مسلسل شعوری تجدید کرتے رہیں اور اسے تاعمر زندہ اور بار آور رکھ سکیں۔

بنا بریں، ‘رمضان’ اسی وقت آپ کے لئے ‘مبارک’ ہے، جب اس کی سالانہ تربیت سے آپ کے اندر موجود تقوی کی فطری صفت، خوابیدہ حالت (dormant state) سے نکل کر فعال اور نتیجہ خیز شکل (active & productive mode) اختیار کر لے؛ تاکہ قرآنی ہدایت سے آپ کا رشتہ محض لسانی تلاوت اور سلبی سماعت (passive listening) تک محدود نہ رہے؛ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ آپ کے فکر و کردار کی انقلابی تشکیلِ نو کا محرک اور نگراں بن جائے۔

رمضان آپ کے لئے کتنا “مبارک” ثابت ہوا؟ یہ جاننے کے لئے آپ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کے ذریعہ خدا کی رضا اور جنت کی خاطر، کتنا ضبطِ نفس (self discipline)؛ صبر-شکر (patience-gratitude) اور وقت شناسی (time-consciousness) کے رجحانات آپ کے شعور کی سطح پر ابھرے، گہرے ہوئے اور وہ آپ کی شخصیت اور روز مرہ عملی زندگی کا نمایاں حصہ بن گئے۔

آپ کا مقصدِ اعلی چاہے اس دنیا کی فانی زندگی کو اپنے “ارمانوں کی جنت” بنانا ہو؛ یا آخرت کی لا فانی دنیا میں “خدا کی ابدی جنت” کو پانا ہو؛ دونوں ہی کی خاطر آپ کو مذکورہ معنوں میں ایک “متقیانہ” زندگی گزارنی ہو گی۔ یعنی اپنے مطلوب “مقصدِ اعلی” کے لئے یکسو ہو کر ایک طرف اپنی ساری پونجی، سارا وقت اور ساری توانائی بلا بحث صَرف کرنی ہوگی تو دوسری طرف بہت سی جائز خواہشات اور ذاتی تقاضوں سے بلا شکایت دست بردار ہونا پڑے گا- آپ دین کا سودا کریں یا دنیا کا، دونوں کو پانے کی “قیمت” یہی ایک ہے؛ جس کو ادا کئے بغیر نہ دنیا آپ کے ہاتھ آئے گی نہ دین۔

رمضان اس وقت آپ کے لئے “مبارک” ہے؛ جب وہ آپ کی بصیرت کو اتنا روشن اور آپ کی ہمت کو اتنا بلند کر دے کہ آپ یہ شعوری فیصلہ کر سکیں کہ جب بہر حال “متقی” بن کر جینا اور مرنا ہی ہے؛ تو پھر “دنیوی جنت” کے بجائے “اخروی جنت” کے لئے متقی کیوں نہ بنا جائے؟ اس قسم کے شعوری فیصلہ کے بعد آپ کی سوچ اور عملی روش خود بخود قرآن کے ربانی سانچے میں ڈھلنا شروع ہو جائے گی، آپ کو ‘قربِ خداوندی’ کا لطیف تجربہ ہو گا، آپ والہانہ دعاؤں کی شکل میں خدا سے اپنی محبت اور حاجت کا اظہار کریں گے اور وہ قدم قدم پر آپ کی دستگیری اور رہنمائی فرمائے گا (سورہ البقرہ، آیت، ۱۸۶)۔

خدایا، اپنے فضل و کرم سے “رمضان المبارک” کو حاملینِ قرآن کے لئے ہر اعتبار سے “مبارک” بنا دے۔ (آمین!)

—————

رمضان ڈائری (جون-جولائی 2016)

بروز منگل- ۵ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

نفع بخش بنئے یا بے ضرر بن کر جینا سیکھئے

‏(Be Useful to All OR Harmful to None)

آج سے تیس (۳۰) سال پہلے, مالیگاؤں، محلہ ہزار کھولی کی ایک مسجد میں میں مسلم نوجوانوں کی ذہن سازی کے لئے ایک شبینہ عربی مدرسہ چلاتا تھا۔ اس سلسلے میں غالباً بروز سنیچر، ۵ جولائی، 1986 کو عشاء بعد میں نے سورہ البقرہ کی آیت “ھدیً للمتقین” پر ایک درسِ قرآن دیا۔ آخر میں حسبِ معمول اس کا تحریری خلاصہ املاء کرایا؛ جس میں میری کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ طبعی قوانین (physical laws) کی طرح ایک یا چند جامع، معنی خیز اور فکر انگیز جملوں پر مشتمل ہو۔ میری یاد داشت کے مطابق، مذکورہ درس کی تلخیص کا پہلا جملہ یہ تھا:

“عالمِ خارجی پر ہمارا تصرف، عالمِ داخلی پر ہمارے تصرف کے متناسب ہوتا ہے”۔

میں سمجھتا ہوں، اس جملہ کی معنویت (relevance) آج بھی باقی ہے اور میں اسے اس “رمضان ڈائری-۲۰۱۶” کے اختتامی خلاصے کے طور پر یہاں نقل کر رہا ہوں؛ جس کا ہر یومیہ گویا میرے گزشتہ ۳۰ سالہ مطالعے، مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں اسی اصول یا قانون کے کسی تطبیقی پہلو (applied aspect) کی تشریح کرتا ہے۔

اس قانون کی رو سے، زندگی نام ہے: ‘اثر پذیری’ اور ‘اثر اندازی’ کے دو طرفہ تعامُل کا۔ ایک زندہ وجود (پودا، جانور، انسان وغیرہ) ہر وقت اپنے گرد وپیش (ماحول) سے کوئی منفی یا مثبت اثر لیتا بھی ہے اور اس کے اوپر اپنا منفی یا مثبت اثر ڈالتا بھی ہے۔ کسی شئے اور اس کے ماحول کے ما بین تاثیر اور تاثر کے اس تبادلہ کا ختم ہو جانا، اس بات کی علامت ہے کہ وہ شئے اب زندہ نہیں رہی، اس پر ‘موت’ واقع ہو چکی۔

انسان، استثنائی طور پر، ذی عقل و ارادہ مخلوق ہے؛ جس کی بنا پر وہ، نباتات اور دیگر جانداروں کے بر عکس، اپنے گرد و پیش کے ساتھ ہونے والے اس تبادلۂ تاثیر و تاثر (exchange of mutual influence) کا شعوری ادراک رکھتا ہے اور بڑی حد تک اس کی مثبت اور منفی نوعیت کا آزادانہ انتخاب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صحت سے لے کر اخلاقی رویہ تک کے بارے میں اپنے ضمیر اور سماج اور بالآخر اپنے خالق و مالک کے سامنے جوابدہ ہے۔

مثلاً جب آپ بیمار ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے جسم نے، کھانے پینے اور رہن سہن کے بعض معمولات کی وجہ سے عارضی یا دائمی طور پر اپنی یہ داخلی صلاحیت کھو دی ہے کہ اپنے خارجی ماحول کے “صحت بخش عوامل” سے فیض یاب ہو اور “بیمار کُن عوامل” کی زد سے اپنا تحفظ کر سکے۔ ایسی حالت میں خود آپ کا ‘بیمار وجود’ بھی اپنے ماحول کی آلودگی اور کثافت میں اضافہ کرکے اس پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ دوا، علاج اور پرہیز وغیرہ کے ذریعہ جسم کی اسی اندرونی صلاحیت (immune system) کو بحال کیا جاتا ہے تاکہ وہ از سرِ نو اپنے ماحول کے ساتھ مثبت تاثیر و تاثر کا رشتہ استوار کر لے۔

ٹھیک یہی معاملہ آپ کی شخصیت کے روحانی، اخلاقی اور سماجی پہلووں کا ہے۔ اپنی داخلی دنیا (یعنی آپ کے خیالات، جذبات، ذہنی صلاحیتوں اور عملی روش وغیرہ) میں آپ کا تصرف (برتاؤ) جس قدر مثبت، صحت مند اور ذمہ دارانہ، یا اس کے الٹا ہو گا؛ اسی قدر آپ اپنی خارجی دنیا اور اس سے ملی ہوئی چیزوں یا اس میں پیش آنے والے واقعات و حوادث سے منفی یا مثبت اثر قبول کریں گے نیز اسی تناسب سے ان کے اوپر اپنا منفی یا مثبت اثر ڈالیں گے۔ لہذا “خارجی دنیا” سے “فائدہ” اٹھانے یا اس کے “ضرر” سے بچنے کے لئے انسان کو اپنی “داخلی دنیا” میں صحیح اور ذمہ دارانہ برتاؤ اختیار کرنا پڑے گا۔

انسان اور مسلمان ہونے کا کم سے کم تقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنے گرد وپیش کی دنیا کے لئے نفع بخش نہیں بن سکتے تو اس کے لئے بے ضرر بن کر رہیں (Be Useful to All Or Harmful to None)۔ اگر آپ اپنے ماحول پر کوئی ‘مثبت اثر’ نہیں ڈالتے تو اس کے منفی اثر سے خود بچئے اور اسے اپنے منفی اثرات سے بچائیے۔ بصورتِ دیگر، سخت اندیشہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کی نظر میں شاید آپ کی گنتی نہ انسانوں میں ہو اور نہ مسلمانوں میں۔۔۔!!

عید مبارک (ابو صالح انیس لقمان ندوی۔ ابو ظبی)

_________

بروز بدھ- ۶ جولائی ، ۲۰۱۶

‏ASAL Nadwi-Abu Dhabi

عید کا گلدستہ___ ‘رمضان’ (ر م ض ا+ن)

یہ ایک ‘فکری یا معنوی گلدستہ’ (A Bouquet of Thoughts) ہے؛ جس کو میں درد اور دعا میں ڈوبی ہوئی اپنی نیک خواہشات کے ساتھ، عید الفطر (2016) کے موقع پر اپنے اہل و عیال، احباب نیز وسیع تر اسلامی اور انسانی برادری کو از راہِ تہنیت پیش کرتا ہوں۔

عام نقطۂ نظر سے مذکورہ عنوان کو بر عکس طور پر یوں ہونا چاہئے تھا کہ ‘عید الفطر’، رمضان کا تحفہ یا گلدستہ ہے نہ کہ ‘رمضان’، عید کا گلدستہ۔

مگر یہاں ‘رمضان’ سے مراد ھجری کیلنڈر کا وہ مہینہ نہیں جو ابھی ابھی گزرا اور وہ اب گیارہ مہینوں بعد ہی لوٹ کر آئے گا۔ بلکہ یہاں ‘رمضان’ سے میری مراد ایک ‘چار نکاتی منصوبۂ کردار سازی’ (Four Point Character-building Program) ہے، جسے ایک صاحبِ ایمان کی روز مرہ زندگی کا اٹوٹ حصہ ہونا چاہئے۔اگر آپ پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ اس ‘رمضان’ منصوبے کو اپنا لیں؛ تو مجھے یقین ہے کہ، خدا کی توفیق سے، آپ کے اندر قرآن کی مطلوب ‘ربانی شخصیت’ پروان چڑھے گی؛ اس کا ہمہ جہتی روحانی و اخلاقی ارتقاء تا عمر بلا انقطاع جاری رہے گا؛ اور جو بالآخر ‘نفسِ مطمئنہ’ کے درجۂ کمال تک جا پہنچے گی؛ جس کی ابدی رہائش گاہ وہ ‘پُر سکینت گھر’ (“دار السلام”، سورہ یونس، آیت، ۲۵) ہے، جو خالقِ کائنات کا لا ثانی شاه کار ہے۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ رمضان کے روزے کی فرضیت اور اس میں نزولِ قرآن کا اصل مقصد بھی بلا شبہ یہی ہے کہ ہر انسان کو ربانی سانچے میں ڈھال کر اسے ‘دار السلام’ کی رہائش کے قابل بنایا جائے ۔

بہ آسانی سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کے لئے اس عملی منصوبۂ کردار سازی کے چاروں کلیدی نکات کو لفظِ ‘رمضان’ کے حروف سے اخذ کیا گیا ہے تاکہ جب بھی آپ یہ لفظ بولیں یا سنیں تو وہ ان کی یاد دہانی بن جائے۔ وہ چار نکات حسبِ ذیل ہیں: ر=رحمت؛ م=مغفرت؛ ض=ضمانت؛ (ا+ن)=اللہ/اسلام کی نصرت۔

اس منصوبہ کو موثر طور پر نافذ کرنے کا رہنما اصول یہ ہے___ اگر آپ “رب کی نوازش پانے والے” بننا چاہتے ہیں؛ تو آپ “رب کی نوازش بانٹنے والے” بن جائیے۔ یعنی جب آپ ماہِ رمضان کے روزہ و عبادت اور اس میں نازل ہونے والے قرآن کی تلاوت اور تعمیل سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی رحمت اور مغفرت اور اس کی جنت کی ضمانت پا سکیں؛ تو آپ کو عملاً دوسروں کے لئے اسی رحمت اور مغفرت اور جنت کی ضمانت کا مظہر اور ذریعہ بن کر اس دنیا میں رہنا ہو گا۔

اس رہنما اصول کے مطابق، ‘رمضان’ منصوبے کے چاروں نکات کی مختصر تشریح یوں ہو گی:

1- ر= رحمت___ترمذی کی مشہور روایت ہے کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا :” الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ , ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ” (جو رحم کرنے والے ہیں؛ انہیں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر مہربانی کرو؛ ‘آسمان والا’ تم پر مہربان ہو گا)۔اللہ رب العالمین کی نمایاں ترین صفت اس کی رحمت ہے، اسی طرح دینِ اسلام کی امتیازی خصوصیت اس کا دینِ رحمت ہونا ہے اور پیغمبرِ اسلام کا سب سے بڑا لقب “رحمة للعالمین” ہے۔ ظاہر ہے اگر آپ کی اپنی ذات و صفات اس رحمت کی آئینہ دار نہ ہو؛ تو گویا آپ کا کوئی بھی شعوری تعلق نہ دینِ رحمت سے ہے، نہ اس کے لانے والے رسولِ رحمت (صلعم) سے اور نہ ہی ان کو بھیجنے والے خدائے رحمان و رحیم سے۔ پھر آپ خود فیصلہ کیجئے کہ ایسی حالت میں آپ دنیا یا آخرت میں کسی قسم کی رحمت کے امیدوار یا حقدار کیسے ہو سکتے ہیں؟!

2- م= مغفرت___آخرت میں اپنے گناہوں کی بخشش کو یقینی بنانے اور ابدی نجات پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اس دنیا میں دوسروں کی لغزشوں، کوتاہیوں بلکہ ایذاء رسانیوں کو بخش دیں (سورہ آل عمران، آیت، ۱۳۴؛ سورہ الجاثیہ، آیت، ۱۴-۱۵؛ سورہ الشوری، آیت، ۴۳، وغیرہ)۔ قرآن کے علاوہ پیغمبرِ اسلام (صلعم) کی حدیثوں میں بار بار اس کی ترغیب دی گئی ہے اور آپ (صلعم) کی پوری زندگی اس کا بہترین عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔

3- ض= ضمانت___یعنی “جهنم سے امان اور جنت میں داخلے کی ضمانت”۔ اس کے لئے آپ کو اس زمین پر دوسروں کا بے لوث خیر خواہ اور ان کے لئے بالکل بے ضرر بن کر جینا ہو گا۔ “مومن اور مسلم” کے لغوی معنی ہیں: ‘ امن اور سلامتی دینے والا’۔ اسی بنا پر احادیث میں بڑی کثرت اور شدت سے یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ شخص صاحبِ ایمان اور صاحبِ اسلام نہیں ہو سکتا جس کی شر انگیزی یا فتنہ پردازی سے دوسرے لوگ امن و امان میں نہیں۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں آپ (صلعم) نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ جنت میں داخلے کے لئے ایمان شرطِ لازم ہے اور ایمان کے لئے باہمی محبت شرطِ لازم اور باہمی محبت کی شرطِ لازم ہے: آپس میں امن اور سلامتی کی فضا قائم کرنا۔

4-(ا+ن)= اللہ/اسلام کی نصرت___ اللہ کی نصرت کا مطلب اس کے دین یعنی اسلام کی نصرت بذریعۂ دعوت ہے اور اس کی خاطر حسبِ ضرورت اپنے جان و مال اور وقت کی قربانی دینا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو قرآن میں “انصار اللہ”( خدا کے مددگار) کہا گیا ہے [سورہ الصف، آیت، 14] اور خدا نے ان کی مدد کا پختہ وعدہ کیا ہے(سورة محمد، آيت، 7) یہ نکتہ “رمضان” منصوبے کا واحد خارجی نشانہ ہے جس کا نفاذ داخلی استعداد اور خارجی حالات کی حقیقت پسندانہ رعایت سے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر کیا جائے گا؛ جبکہ اوّل الذکر تین نکات اس کے داخلی نشانے ہیں جو ہر صاحبِ ایمان سے ہر جگہ اور ہر حالت میں فردًا فردًا مطلوب ہیں۔

دعا گو، طالبٰ دعا:

ابو صالح انیس لقمان ندوی ، ابو ظبی

اختلاف کے مسئلہ کا واحد حل

اختلاف کے مسئلہ کا واحد حل

فکر و نظر یا ذوق و عمل میں اختلاف بذات خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب اس قسم کے باہمی “اختلاف” کو ایک دوسرے کی “مخالفت” کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ 

تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں، جو ڈائیلاگ یا ڈسکشن سے نہ رفع ہو سکیں نہ اس حد تک کم ہو سکیں کہ آپ ان کے باوجود فریق ثانی کے ساتھ اپنا اتحاد قائم رکھیں۔ ایسی حالت میں اسلام اور دانشمندی دونوں کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اختلاف کو “گوارا” کریں۔ اس کی بنیاد پر دوسرے فریق کی مخالفت میں کوئی تحریک یا ہنگامہ نہ برپا کریں-اسی کا نام رواداری (tolerance) ہے جس کا اعلان اور عملی مظاہرہ، ایک برتر معاشرتی اور بین اقوامی اصول کی حیثیت سے تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں طور پر اسلام نے کیا۔ قرآن مجید میں اسی کو لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی دین وغیرہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جبکہ آج اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے تحت یہ اصول، بالاتفاق، انسانی تہذیب کی سب سے اعلی قدر کی حیثیت اختیا کر چکا ہے۔

‘رواداری’، خدا کا ایک آفاقی قانون ہے جس پر اس کائنات کی ہر شئے کا وجود اور اس کی بقا کا دار مدار ہے۔ رواداری کا مطلب ہے اپنے گرد و پیش میں موجود فطری یا فکری اختلافات سے نہ ٹکرانا اور ان کے درمیان یا اطراف سے اپنی مطلوبہ منزل کی سمت یکسوئی کے ساتھ رواں دواں رہنا۔ کائنات کی چھوٹی بڑی ہر چیز رواداری کے اس قانون پر بلا شرط اور بلا بحث پابندی سے عمل کرتی ہے اس لئے کائنات کا پورا نظام نہایت معیاری شکل میں پُر امن طور پر چل رہا ہے۔ یہ صرف انسان ہے جو رواداری کے اس آفاقی اصول کو اپنی انانیت اور گھمنڈ کی بنا پر توڑتا رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا کے فطری اور فکری اختلافات کہیں نظری مخالفت، کہیں اشتعال انگیز بحث و تکرار اور کہیں پر تشدد اور ہولناک جنگ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جن سے صرف بد امنی عام ہوتی ہے اور انسانی مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

اختلاف کا مسئلہ خواہ ایک مذہب یا فرقے کے مختلف مسلکوں کے ما بین پیدا ہو، یا دو قوموں اور مذہبوں یا ملکوں کے درمیان ظاہر ہو، اس کا واحد آفاقی حل روداری ہے جس کا سبق کائناتی اسکرین پر عالم بالا کی کہکشاؤں سے لے کر زمین کے حشرات تک، ہر شئے کی زبان سے ہر وقت دیا جارہا ہے، مگر بہت کم انسان ہیں جو اس کائناتی سبق کو دھیان سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔ 

انیس لقمان ندوی۔ ابو ظبی۔ ۳۰ دسمبر ۲۰۱۵

سیرت کا بیان

سیرت کا بیان 

أبو صالح آنیس لقمان ندوی

آبو ظبی۔ یکم ربیع الاول1437=12، دسمبر-2015

 “سیرت کا بیان” غالباّ مسلم معاشرہ کی سب سے زیادہ نمایاں اجتماعی سرگرمی ہے، جس کا اھتمام ھجری کیلینڈر کے تیسرے مہینہ، ربیع الاول میں پیغمبرِ اسلام (ص) کی ولادت کی یادگار کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہر سال اس مہینہ میں دنیا کے تقریباُ ہر خطہ کے مسلمان، اپنی مساجد اور دینی مدارس و دعوتی مراکز کے زیر اھتمام خصوصی پروگرام مرتب کرتے ہیں، جن میں سیرتِ رسول(ص) کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں اور نعتیہ کلام پیش کئے جاتے ہیں۔ مختلف زبانوں میں چھپنے والے مسلم جرائد و رسائل اس موضوع پر خصوصی شمارے یا ضمیمے بھی شائع کرتے ہیں۔ یہ ایک صحت مند روایت ہے، اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ضمن میں جتنے شاندار جشن اور کامیاب پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، وہ اپنے اصل مقصد کے حصول میں بھی اتنے ہی کامیاب ہوں۔ ان کا اصل مقصد، بلا اختلاف اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ پیغمبرانہ آئیڈیل کے مطابق مسلم فرد اور معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کی جائے۔ مگر مسلم معاشرہ کی بے عملی، بلکہ روز افزوں اخلاقی گراوٹ کے پیش نظر شاید ہی کوئی سنجیدہ شخص یا ادارہ اس سلسلہ میں کسی حقیقی کامیابی کا دعوی کر سکے۔

صدیوں سے جاری یہ بظاہر صحت مند روایت کیوں اتنی بے اثر ثابت ہوئی؟ اس کی وجہ میری نظر میں اس کا ایک غیر صحت مند پہلو ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلم معاشرے میں سیرت کا بیان “عظمتِ محمدی” کے بیان کے ہم معنی بن گیا ہے۔ جبکہ اسے، از روئے قرآن، “عبدیتِ محمدی” کا بیان ہونا چاہئے تھا۔ سرسری طور پر یہ محض ایک لفظ کا فرق ہے، مگر گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو اسی ایک لفظی فرق میں ملتِ اسلامیہ کے روشن ماضی اور تاریک حال کا اصل سبب پوشیدہ نظر آئے گا۔

سیرت کے عنوان سے”عظمتِ محمدی” کا بیان، کہنے اور سننے اور لکھنے اور پڑھنے والوں کے اندر خوش فہمی اور بے عملی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔وہ شعوری یا غیر شعوری طور اپنے آپ کو اس “عظمت” کا وارث بلکہ اس کے بنانے میں شریک سمجھنے لگتے ہیں اور مختلف مواقع پر نت نئے انداز سے اس کا تذکرہ ان  پر یہ سرور انگیز احساس  طاری کرتا ہے، کہ انہیں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں  پر فوقیت اور سبقت حاصل ہے۔  یہ وہی نفسیات ہے جسے ایک دوسرے سیاق میں قرآن نے “يحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا” (آل عمران، آیت 188) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے، یعنی کسی دینی یا سماجی یا انسانی خدمت میں آپ عملاً کوئی معمولی حصہ بھی نہ لیں، مگر اس کا کریڈٹ لینے کے سلسلے میں غیر معمولی جوش و خروش دکھائیں۔ عہدی نبوی میں مدینہ کی ایک محدود اقلیت اس نفسیاتی روگ میں مبتلا ہوئی تھی، مگر بعد کے دور میں ملت اسلامیہ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی اکثریت، کچھ کئے بغیر ہر قسم کا کریڈٹ لینے کی اس مہلک بیماری کا شکار ہو گئی۔ اس کے نتیجہ میں کم و بیش پوری دنیائے اسلام بتدریج “گفتار کے غازیوں” سے بھر گئی (الا ما شاء اللہ)، جبکہ اسلام کے دور اوّل کی تاریخ، اس کے برعکس، “کردار کے غازیوں” سے بھری نظر آتی ہے جس کو مشہور مستشرق فلپ ہٹی نے بجا طور پر “ہیروؤں کا گلزار” کہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے “کل” اور “آج” کے درمیان اس سنگین فرق کو کم کرنا ہے، تو اس کا نقطہ آغاز یہ ہو گا کہ سیرت نبوی کے بیان کی روایت کو “عظمتِ محمدی” کے بجائے “عبدیتِ محمدی” کا آئینہ دار بنایا جائے۔ 

“عظمتِ محمدی” کا چرچا، بے جا ملی فخر و ناز اور بے عملی کا مزاج ابھارتا ہے جبکہ “عبدیتِ محمدی” کا چرچا کرنے سے خود احتسابی، خدا ترسی اور اطاعت رسول کا مزاج ابھرتا ہے۔ ملت کے ذہنی رجحان میں اس بنیادی تبدیلی کے بغیر، کسی بھی دوسری اصلاحی یا ملی تحریک کے ذریعہ موجودہ مسلمانوں کو بے عملی اور بد عملی کی خندق سے نکالا نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کے بغیر ہر تدبیر ان کی مذکورہ مریضانہ نفسیات کا علاج کرنے کے بجائے اس کی جڑوں کو مزید پختہ کرے گی۔ 

شاید اسی اندیشہ کی بنا پر آپ (ص) نے اہل اسلام کو پیشگی خبردار کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے درمیان آپ کے “مقامِ عبدیت” کو چرچے کا موضوع بنائیں نہ کہ آپ کے”مقام عظمت” کو۔ مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت(حدیث 3445) کے مطابق آپ نے فرمایا:”أيها الناس لا تطروني كما أطرت النصارى المسيح ابن مريم، إنما أنا عبد، فقولوا: عبد الله ورسوله” یعنی: اے لوگو! تم میری تعریف میں اس طرح مبالغہ نہ کرو جیسے نصاری نے حضرت مسیح ابن مریم کی تعریف میں کیا۔ میں تو بس ایک بندہ ہوں لہذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔

قرآن مجید میں تمام انبیاء کرام (۴) کی بالعموم اور خاتم الانبیاء(ص) کی بالخصوص جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ‘عبدیت کا کمال’ ہے نہ کہ ‘انسانی عظمت کا کمال’۔ یعنی انہوں نے خدا کی بے مثل عظمت کے آگے اپنی کامل بندگی اور پر خلوص عبدیت کا مثالی مظاہرہ کیا اور اسی حیثیت سے وہ تمام انسانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ 

اسراء اور معراج کا سفر، جس کا تذکرہ عام طور واعظین آپ کی سب سے بڑی اور امتیازی شانِ عظمت کے طور پر کرتے ہیں، اسے اللہ تعالی نے قرآن میں آپ کی عبدیت کے ارتقائی مرحلہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے، چنانچہ، سورہ اسراء کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:”پاک ہے وہ ہستی جس نے ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر کرایا، جس کے گرد و پیش کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ اسے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں”۔

آپ (ص) کی بعثت کا مقصد اس دنیائے فانی میں عظمتوں کا مینار کھڑا کرنے کے لئے نہیں ہوئی تھی بلکہ انسانی عظمتوں کے ہجوم خدائے واحد کی عظمت سے سرشار ہو کر سچی عبدیت اور عبودیت کا پرفکٹ ماڈل( اسوۂ حسنہ) قائم کرنے کے لئے ہوئی تھی ۔

قرآن میں صرف ایک جگہ(سورۂ القلم ، آیت 4) پیغمبر اسلام (ص) کے حوالے سے ‘عظیم’ کا لفظ آیا ہے، مگر وہ بھی آپ کی شخصیت کے وصف میں نہیں بلکہ آپ کے بلند اخلاق کے وصف کے طور پر:”وانک لعلی خلق عظیم”۔   

سیرت کا بیان یا مطالعہ اگر آپ “عظمت محمدی” کے نقطہ نظر سے کریں تو آپ جھوٹے فخر کی نفسیات کا شکار ہو جائیں گے اور بالآخر آپ اسوہ محمدی کی سچی پیروی سے قاصر رہیں گے۔ کیونکہ اسوہ محمدی کی سچی پیروی صرف ان کے لئے ممکن ہے جو سیرت کے مطالعہ اور بیان سے عبدیت محمدی کے مقامات کی معرفت حاصل کریں۔

اس نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے یہاں “عبدیت محمدی” کی چند  واقعاتی مثالیں درج کی جاتی ہیں:  

۱- ایک دفعہ آپ نے اپنی باندی سے وضو کا پانی طلب کیا۔ مگر وہ باہر جاکر کھیل میں لگ گئی ۔ اس بے جا تاخیر پر آپ کو سخت غصہ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت أم سلمہ(رض) نے کسی طرح باندی اندر بلوایا۔ تاہم آپ (ص) نے وہاں باندی کے “آقا” کے بجائے “خدا کے بندہ کامل” کی حیثیت سے اپنے غصہ کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا کہ اگر قیامت کے دن بدلے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس مسواک سے تمہیں مارتا “لو لا خشیۃ القود یوم القیامۃ لأوجعتک بھذا السواک”

۲-مسیلمہ کذاب نے دعوی کیا کہ وہ نبوت میں آپ کا شریک ہے۔ اس نے آپ کو ایک خط میں لکھا کہ شریک نبوت کی حیثیت سے آدھی سرزمین عرب میری ہے اور آدھی آپ کی مگر قریش بڑے بے انصاف لوگ ہیں۔ یہ خط جتنا مضحکہ خیز تھا اتنا ہی اشتعال انگیز بھی تھا۔ مزید بآں، وہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کا کھلا انکار تھا۔مگر آپ نے اس کے جواب میں جو کچھ لکھا وہ اپنی پیغمبرانہ یا حاکمانہ شان کے بجائے آپ کی کامل عبدیت کا مظہر ہے، آپ نے لکھا کہ ساری زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور آخری انجام تو خدا شناس لوگوں کے لئے ہے : “إن الأرض للّٰہ یورثہا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین”

۳-فتحِ مکہ کے وقت آپ کے ساتھ دس ہزار سے زائد مسلح جانثار صحابہ تھے، خدا کی طرف سے بذریعہ خواب فتح کی پیشگی بشارت دی جا چکی تھی۔ مگر مکہ میں داخلہ کے وقت آپ کے اوپر فاتحانہ تمکنت نہیں، بلکہ بندگانہ عجز و رقت کی ایسی شدید کیفیت طاری تھی کہ آپ بار بار اپنی اونٹنی کی پشت پر جھک گویا مسلسل سجدے کر رہے تھے۔ آپ یا آپ کے اصحاب کی زبان پر “ہم جیت گئے”، یا “اسلام زندہ باد” یا “محمد زندہ باد” کے فخریہ نعرے نہیں۔ تھے، بلکہ سراپا عجز و نیاز میں ڈوبے ہوئے صرف اور صرف خدائے واحد کی تعریف و ستائش کے یہ الفاظ تھے کہ: الحمد للّٰہ وحدہ، صدق وعدہ و نصر عبدہ واعز جندہ وھزم الاحزاب وحدہ، لا الہ الا اللہ، لا نعبد الا ایاہ”

پیغمبر اسلام کا اسوہ حسنہ مختصر لفظوں میں یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے عظمت خدا وندی کی شعوری معرفت حاصل کرے تاکہ اس کا ایمان گہرا اور بصیرت پر مبنی ہو  اور پھر اس کے فطری تقاضہ کے طور وہ اپنے فکر و کردار کو خدا کی بے آمیز بندگی کے سانچہ میں ڈھال کر اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارے۔ اسی بے آمیز بندگی کا آخری صحیح ترین، کامل اور ابدی ماڈل ‘عبدیت محمدی’ کا ماڈل ہے۔ سیرت کا حقیقی بیان وہی ہے جس سے آپ کو عبدیت محمدی کا ادراک و عرفان ملے اور آپ کی سوچ اور عملی روش اس کے مطابق ڈھلتی چلی جائے۔ جو لوگ سیرت کے نام پر عظمت محمدی سے خود کو اور دوسروں کو سرشار کرنے میں سرگرم ہیں، انہیں حضرت ابو بکر (رض) کے اس تقریر کی روشنی میں اپنا احتساب کرنا چاہئے:”من كان يعبد محمدًا فإن محمدًا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت. وما محمد إلا رسول، قد خلت من قبله الرسل، أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم، ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئاً وسيجزي الله الشاكرين”.

————

کامیابی کا فارمولا

کامیابی کا فارمولا

(انیس لقمان ندوی- ابو ظبی)

‘کامیابی’ ایک مرکب لفظ ہے جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے: ‘کام’+’یابی’، جس کا مطلب ہے: “کام پانا”۔ یہی لفظی مفہوم میری نظر میں کامیابی کی صحیح ترین تعریف ہے، یعنی کسی انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے “حقیقی کام” کو پا لے اور اسی “کام” کو کما حقہ انجام دینے میں اپنی عمر کو کھپا دے۔باقی تمام تعریفات یا کامیابی کے فارمولے اور قصے، اسی اصل کی تشریحات ہیں۔ 

 پچھلے سو دیڑھ سو برس میں کامیابی کے موضوع پر ہزاروں کتابیں چھپی ہیں اور مسلسل چھپ رہی ہیں، جن میں “کامیابی” کے فارمولے اور “کامیاب” انسانوں کے سچے یا خیالی قصے بیان کئے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر کے اشتہارات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں بکتی ہیں، اس لئے انہیں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی(best seller) کتابیں کہا جاتا ہے۔ لائبریریوں اور تجارتی کتب خانوں میں ایسی کتابوں کا اندراج کامیابی کا ادب (success literature) کے ایک مستقل عنوان کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ نشر و اشاعت کے میدان میں سکسس لٹریچر، کم از کم اس کے لکھنے، چھاپنے اور بیچنے والوں کے لئے، آج سب سے زیادہ کامیاب اور منافع بخش انڈسٹری ہے۔ البتہ اس بات کا کوئی ٹھوس علمی ثبوت ملنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کو خریدنے اور پڑھنے والے لوگ بھی ان کے ذریعہ اتنے ہی کامیاب ہوئے ہوں۔

موجودہ سکسس لٹریچربظاہر ایک سنجیدہ ادب معلوم ہوتا ہے،مگر میری رائے میں وہ تقریباً پچانوے فیصد سے زیادہ ایک سطحی قسم کا تفریحی سامان (entertainment) ہے، جو پڑھنے والے کے اندر جلد از جلد اپنا آئیڈیل “ہیرو یا چیمپین یا ملٹی ملینیر یا کامیاب بزنس مین یا سیلزمین یا جنرل مینیجر” وغیرہ بننے کا ایک مبہم سا وقتی جوش تو اُبھار دیتا ہے، مگر اس سے انسانی شخصیت اور کردار میں کوئی گہرا اور پائیدار ارتقائی عمل جاری نہیں ہوتا، جو اسے ایک ایسی کامیاب اور با معنی زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے، جو بحیثیت “انسان” ہر ایک کا مقدر ہے، بلکہ وہی اس دنیا میں اس کی اساسی ذمہ داری ہے۔

سکسس لٹریچر کا بزنس آج دنیا بھر میں اتنا زیادہ مقبول اور کامیاب کیوں ہے؟ اس کا گہرا تجزیہ کرنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اس کا راز انسان کی “خود پسندی” اور “عاجلہ پسندی” کا رجحان ہے۔ کامیابی کے موضوع پر لکھنے اور بولنے والے اس رجحان کو بھر پور غذا فراہم کرتے ہیں اور ایک عام آدمی ان کو سننے اور پڑھنے میں اپنی فوری نفسیاتی تسکین پالیتا ہے۔ جس طرح قدیم زمانے میں شعراء اور ادباء بادشاہوں کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے تھے تاکہ وہ خوش ہو کر انہیں انعامات سے نوازیں، میں سمجھتا ہوں آج کا سکسس لٹریچر بڑی حد تک اسی قدیم “مدح سرائی” کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے، اس زمانی فرق کے ساتھ، کہ جمہوریت کے اس دور میں اس “مدح سرائی”کے “مخاطب” یا “خریدار” اب صرف بادشاہ اور امراء نہیں رہے، بلکہ عام لوگ بھی اس کو سننے یا پڑھنے کی “قیمت” چکا کر اس خیال سے “محظوظ” ہو سکتے ہیں کہ وہ “دنیا کے عظیم ترین اور کامیاب ترین افراد ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں اور جن کا ہر کام انوکھا اور لا فانی ہے”۔ 

اس سلسلہ میں مجھے ایک لطیفہ یاد آتا ہے، جو “کامیابی کے کاروبار” کی اس زبردست کامیابی کے پیچھے کام کرنے والی نفسیات کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔ برسوں پہلے کسی اخبار میں ایک اشتہار چھپا:

“ایک روپے میں لکھ پتی بنئے۔مزید تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر ایک روپیہ کا منی آرڈر اور ایک سادہ پوسٹ کارڈ اپنے پتے کے ساتھ جلد از جلد بھیجیں”۔ 

اس اشتہار کو پڑھ کر ایک مہینے میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے اس پر عمل کیا، اور بواپسی ڈاک، سب کو ان کے بھیجے ہوئے پوسٹ کارڈ پر یہ مختصر سا فارمولا جواباً موصول ہوا: “ایسی ہی ایک اسکیم آپ بھی شروع کر دیجئے”!

میں نے اوپر کامیابی کی جو تعریف کی ہے، یعنی “کام پانا”، اسے آپ وسیع سکسس لٹریچر کے پانچ فیصد سنجیدہ حصہ کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔ “کامیابی” کسی منزل یا مقام یا طلسماتی چیز کا نام نہیں، جسے پاکر آپ ہمیشہ کے لئے کامیاب اور سعادت مند بن جائیں۔ “کامیابی” درحقیقت ایک ایک متعین رخ پر، با معنی انداز میں اپنے روز و شب گزارنے کا تا عمر جاری رہنے والا سفر ہے۔اس بنا پر “کامیابی” کا سادہ اور عملی فارمولا یہ ہو گا کہ آپ جہاں کہیں اور جس حال میں ہوں، وہاں اپنے لئے ایک ایسا مثبت اور مفید “کام” پالیں، جس میں اپنے وقت اور ذہنی صلاحیتوں اور عملی قوتوں کا یکسوئی کے ساتھ بھر پور استعمال کر سکیں ۔ اسی “کام” کی شعوری دریافت اور اسے یکسوئی سے انجام دینے کی مسلسل تگ و دو کے لئے “امکانات” سے بھری ہوئی یہ عظیم کائنات بنا کر خالق نے آپ کو اس میں ایک محدود مدت کے لئے بسایا ہے۔ کیونکہ اس کا منشا یہی ہے کہ ہر انسان یہاں اپنی مقررہ مدت ختم ہونے تک ان “امکانات” کو اس طرح برتے کہ بالآخر وہ یہاں سے “کامیاب” بن کر رخصت ہو۔ 

اب سوال یہ ہے کہ وہ “کام” کیا ہے جس کو “پانا” کامیابی ہے؟ اس کا جواب خالقِ کائنات نے خود دے دیا ہے۔ وہ ہے اپنی زندگی کے ہر لمحہ اور اس لمحہ میں میسر ہر “امکان” کو خالق کی مرضی کے مطابق، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی منفعت میں استعمال کریں، اس سے قطع نظر کہ جو امکانات بر وقت اپ کی دسترس میں ہیں وہ چھوٹے ہیں یا بڑے یا کم ہیں یا زیادہ۔ کیونکہ اپ کی “کامیابی” کا دار و مدار امکانات اور وسائل کی نوعیت اور مقدار پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ اپ نے ان کو کتنا اور کہاں اور کیسے اور کس مقصد کے لئے استعمال کیا۔ 

دوسرے لفظوں میں، کامیابی خواہ مادی ہو یا معنوی، وہ کسی “امکان” کو اپنے شعوری اور سنجیدہ اور منظم عمل سے ایک “با معنی واقعہ” میں تبدیل کرنے کا نام ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا ہر “امکان” بیک وقت مادی اور معنوی دونوں نوعیت کی “کامیابی” کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مثلاً گیہوں کا دانہ ایک “امکان”ہے، جس پر سنجیدہ اور منظم جد و جہد کرکے آپ “گیہوں کی فصل” کا با معنی واقعہ وجود میں لا سکتے ہیں۔ یہ اس کا مادی پہلو ہوا۔ پھر جب اس واقعہ پر آپ مزید سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو آپ پاتے ہیں کہ “فصل” کے اس واقعہ کو وجود میں لانے کے لئے صرف آپ کی ذاتی محنت کافی نہ تھی، بلکہ ہوا، پانی، سورج کی روشنی، مٹی کی زرخیزی اور دوسرے بے شمار کائناتی عناصر کی ہم آہنگی کے علاوہ دوسرے بہت سے انسانوں کی معاونت بھی درکار تھی۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر “حمد و شکر” کا فطری جذبہ ابل پڑتا ہے اور اس کے اظہار کے لئے آپ اپنی فصل کا ایک حصہ خالق کےنام پر دوسرے ضرورت مندوں کو دیتے ہیں۔ یہ اسی بظاہر مادی واقعہ کا معنوی یا عبادتی پہلو ہے۔ 

علی ہذا القیاس، انسان کی زندگی کے مختلف مرحلے، اس کی دماغی اور عملی قوتیں، اس کی رشتہ داریاں اور سماجی تعلقات، اس کی علمی اور تکنیکی مہارتیں، اور اس پر گزرنے والے خوشگوار یا نا خوشگوار حالات وغیرہ، یہ سب اس کے لئے ہمہ وقت ایسے “کام” کے مواقع اور امکانات فراہم کرتے ہیں جن کو وہ مادی اور معنوی دونوں قسم کے مثبت واقعات میں تبدیل کرنے کی پیہم کوشش کے ذریعہ اپنے سفرِ حیات کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ 

گویا، اس دنیا میں ہر شخص کے لئے سچی کامیابی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ بر وقت حاصل شدہ “امکان” یا “امکانات” کو شعوری طور پر جانے اور اس کو مادی اور معنوی دونوں پہلوؤں سے ایسے واقعے میں تبدیل کرنے کے سنجیدہ عمل میں مسلسل سرگرم رہے، جن میں ایک طرف اپنی اور دوسرں کی منفعت ہو اور دوسری طرف خالق کی عبادت۔ کامیابی کا یہ فارمولا ایسا ہے جسے ہر با شعور مرد اور عورت، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، تندرست ہو یا بیمار، نوجوان ہو یا بوڑھا، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، اس کے حالات سازگار ہوں یا ناسازگار، ہر وقت اور ہر جگہ استعمال کر سکتا ہے۔ 

آخری بات جو اس سلسلہ میں یاد رکھنی چاہئے یہ ہے کہ “بر وقت حاصل شدہ امکان” ہی حقیقی امکان ہے اور آپ صرف اسی کو آج یا اس وقت استعمال کر سکتے ہیں اور بتدریج آج کے “نا ممکن” کو “ممکن” بنا سکتے ہیں۔۔ جو امکان بر وقت آپ کو حاصل نہیں، وہ امکان نہیں بلکہ آپ کی خوش خیالی یا وہم یا خود فریبی ہے، جس کا انتظار کرکے یا ان کے پیچھے دوڑ کر یا ان کے فقدان کا شکوہ کر کے آپ اپنے آج کے موجودہ امکانات کو بھی کھو دیں گے۔ 

کامیابی کا راستہ، آج کے “ممکنات” سے آج کے “نا ممکنات” کی طرف جاتا ہے، اس کے بر عکس، ناکامی کا راستہ، آج کے “ناممکنات” کے در پے ہو کر آج کے “ممکنات” سے محرومی کی طرف۔ 

واضح ہو کہ کامیابی کا یہ فارمولا، تاریخ کے سب سے زیادہ عظیم اور ہر پہلو سے کامیاب ترین انسان یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی ترجمانی ہے۔ آپ نے فرمایا: “قد أفلح من أسلم ورُزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه” یعنی وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لے آئے(اپنی زندگی خدا کی مرضی کے تابع کردے)، اور اسے بقدر کفایت روزی مل جائے اور پھر خدا کی توفیق سے وہ اس پر قناعت کرتے ہوئے اپنی عمر گزارے۔

ASAL Nadwi-Abu Dhabi

وقت شناسی

وقت شناسی (۲/۱)

(یکم جنوری ۲۰۰۰)

“Kazo, Move fast, we are getting too late”.

“Papa, How did it get so late so soon!

“کازو، جلدی چلو، ہمیں بہت دیر ہو رہی ہے”۔

“ابا، اتنی جلدی اتنی دیر کیسے ہو گئی”! 

ایک یوروپین باپ اور اس کی دس سالہ لڑکی کے درمیان یہ مکالمہ میں نے اپنی عشائیہ چہل قدمی کے دوران ایک سوپر مارکیٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے سنا۔ دونوں جملے انتہائی سادہ اور بظاہر تضاد پر مبنی ہیں، مگر میں نے غور کیا تو مجھے اس سرسری مکالمے میں انسانی زندگی کے ایک نہایت المناک پہلو کی تصویر جھلکتی نظر آئی۔ وہ ہے– وقت کی قدر نہ پہچاننا اور اس کے استعمال میں تباہ کن غفلت اور نادانی برتنا، جو غالباً انسانی تاریخ میں آج اپنی آخری حد کو پہنچ چکا ہے اور اس کے مہلک مظاہر شاید سب سے زیادہ مسلم گھرانوں اور بستیوں میں پائے جاتے ہیں(إلا ما شاء الله)۔  

آج کل بزنس کی دنیا میں وقت کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وقت پیسہ ہے (Time is money )۔ مگر یہ وقت کی قدروقیمت کا بہت سطحی اندازہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت ، زندگی کی طرح، انمول ہے؛ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ زندگی عملاً وقت کے شعوری ادراک کا ہی دوسرا نام ہے جبکہ موت، وقت کے اسی شعوری ادراک کو کھو دینے کا نام ہے۔ 

مال و دولت اور دوسرے اسبابِ زندگی پر کم و بیش آپ براہ راست کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ جتنا چاہیں آپ انہیں خرچ کریں اور جتنا چاہیں اندوختہ کریں۔ مگر وقت کا سرمایہ ایسی چیز ہے جس پر کسی انسان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ وہ براہ راست قدرت کے کنٹرول میں ہے۔ سونے یا چاندی کا ایک سکہ اگر کھو جائے تو آپ اسے تلاش کر کے یا مزید محنت کر کے دوبارہ پا سکتےہیں، لیکن وقت کے گزرتے ہوئے لمحات کو نہ آپ روک سکتے نہ کبھی کسی ایک گزرے ہوئے لمحہ کو کسی بھی قیمت پر لوٹا سکتے ہیں۔ گھڑی بظاہر آپ کو وقت بتاتی ہے، مگر زیادہ گہرائی سے سوچیں تو آپ پر منکشف ہو گا کہ گھڑی کی سوئیاں صرف یہ بتاتی ہیں کہ کتنا وقت آپ کی دست رس سے نکل چکا ہے اور مسلسل نکلا جا رہا ہے۔ 

دن اور رات کی شکل میں وقت کی مقدار اور رفتار، امیر اور فقیر، حاکم اور محکوم، چھوٹے اور بڑے، سب کے لئے یکساں ہے۔ وہ اشیائے صَرف کی طرح نہ دنیا کے کسی بازار میں خرید و فروخت کے لئے دستیاب ہوتا ہے نہ کسی کھیت یا کارخانہ میں اپنے حسب منشا یا حسب ضرورت اس کی پیداوار کی جا سکتی ہے۔ ایک مطلق العنان شہنشاہ اپنی تمام تر دولت اور سیاسی و عسکری طاقت کے زور پر اپنے دن اور رات کی پیمائش کو ایک بے سر و سامان فقیر کے دن اور رات کے مقابلہ میں نہ گھٹا سکتا ہے، نہ بڑھا سکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں یکساں طور پر وقت کے “قبضہ” میں ہیں اور وقت ہر ایک کے “قبضہ” سے مکمل طور پر آزاد، خدا کی تخلیقی اسکیم کے مطابق؛ اپنے دامن میں ہر ایک کے عمل اور بے عملی یا حُسنِ عمل اور بد عملی کے آثار و نقوش لئے ہوئے، آگے کی طرف پیہم رواں دواں رہتا ہے۔ 

اس ضمن میں ایک اور نازک فرق، جو صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، یہ ہے کہ مال و دولت یا کوئی اور چیز جب تک استعمال نہ کی جائے وہ صَرف (خرچ) نہیں ہو گی، اسی لئےاسے آئندہ کے لئے بچا کر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم وقت کا معاملہ استثنائی طور پر ہر شئے سے مختلف ہے، آپ خواہ شعوری طور پر وقت کا استعمال کریں یا نہ کریں، وہ اپنی قدرتی رفتار سے لمحہ بہ لمحہ بلا توقف خود بخود صَرف ہوتا رہتا ہے اور جب کسی خارجی محرک کے تحت آپ گزرے ہوئے وقت کے بارے میں اپنی غفلت سے چونکتے ہیں، تو آپ کا رد عمل مذکورہ بچی کی طرح نا قابل فہم حیرت اور تضاد پر مبنی ہوتا ہے:”اتنی جلدی اتنی دیر کیسے ہو گئی”!

How did it get so late so soon!

وقت گزر جانے کے بعد آپ کسی شاعر کی حسرت آمیز خیالی ترنگ میں کتنا ہی لَے سے لَے ملائیں کہ:

“دوڑ پیچھےکی طرف اے گردشِ ایام تو”!

مگر وقت آپ کی حسرتوں اور خوش خیالیوں سے بے نیاز، آگے کی سمت ہی دوڑتا چلا جائے گا۔  

(باقی آئندہ)

“عليكم أنفسكم”=اپنی فکر کرو

مذکورہ جملہ سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۱۰۵ کا ایک حصہ ہے۔ اردو میں اس کا لفظی مفہوم تقریباّ وہی ہے، جو اوپر عربی عبارت کے متوازی لکھا گیا ہے، یعنی “اپنی فکر کرو”۔بظاهر  یہ وہی بات معلوم ہوتی ہے جسے عام طور پر انگریزی میں یوں کہا جاتا ہے: 

Mind your own business    

یعنی: اپنے کام سے کام رکھو۔

اس بنا پر اکثر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسا ہے تو پھر دوسروں 

مگر قرآنی آیت میں مزید تدبر سے واضح ہوتا ہے کہ ۔۔۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ اس آیت میں “علیکم آنفسکم” (تم اپنی فکر کرو، یا تمہارے اوپر صرف اپنی ذمہ داری ہے) سے مراد آخرت کی جوابدہی ہے یہ وہی اصول ہے جو سورہ النجم کی آیت نمبر 38 میں یوں بیان ہوا ہے” ألا تزر وازرۃ وزر أخری” یعنی کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 

تاہم اس دنیا میں ایک مؤمن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہدایت کی سیدھی راہ پر قائم رکھتے ہوئے، اس بات کی بھی ہر ممکن کوشش کرے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور رشتہ دار نیز وسیع تر انسانی کنبہ کو بھی صراط مستقیم پر چلنے کی ترغیب اور دعوت دے۔ سورہ التحریم(آیت 6) میں کہا گیا ہے:”قوا أنفسکم وأھلیکم نارًا” یعنی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ”۔ زیادہ گہرائی سے دیکھئے تو دوسروں کو “آگ سے بچانے کی یہ کوشش” جتنی ان کے لئے ہے، انجام کار وہ اتنی ہی اپنے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اس کوشش کا نام “نصیحت” ہے جبکہ غیر مسلموں کے درمیان اسی کا نام دعوت ہے۔ اس نصیحت اور دعوت کا کوئی ٹھوس مثبت نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں، ایک مؤمن اس کا ذمہ دار نہیں، خدا کے یہاں اس کی جوابدہی صرف اس دائرہ میں ہو گی کہ وہ خود کس حد تک ہدایت پر قائم رہا اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کو ہدایت پر لانے کی سنجیدہ کوشش کس حد تک کی۔ اسی اصول کی وضاحت کے لئے سورہ التحریم کے آخر میں حضرت نوح اور حضرت لوط ( علیہما السلام) کی بیویوں کی مثال دی گئی ہے جو براہ راست پیغمبر کی ہدایت، نصیحت اور رفاقت کے باوجود، فکر و عمل کے اعتبار سے اپنے ماحول کی فرسودہ اور فاسد روایات سے اوپر نہ اٹھ سکیں، بلکہ حق سے منہ موڑا اور باطل کا ساتھ دیا۔ یہی حال نوح (۴) کے ایک بیٹے کا ہوا جیسا کہ سورہ ہود(آیات 42-43) میں بیان ہوا ہے۔

تاہم اس کے باوجود، نصیحت اور دعوت کا عمل تا عمر جاری رہنا چاہئے۔ کیونکہ اس عمل کو مخلصانہ طور پر مسلسل کرتے رہنا ایک مؤمن کی ذمہ داری ہے جبکہ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کی جوابدہی اس کے مخاطبین کی ہے۔

ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

ایک خواب۔۔ ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی

۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۵

بروز سنیچر۔ صبح چار بجے (أبو ظبی)

۳۰۔۳۱ اکتوبر ۲۰۱۵ کی شب کے آخری پہر میں میں نے ایک خواب دیکھا۔ آنکھ کھلی تو حسب معمول میری گھڑی میں صبح کے چار بجے تھے۔ خواب کا آخری حصہ اتنا واضح تھا، کہ دن بھر وہ میرے ذہن میں بار بار تازہ ہوتا رہا، حتی کہ جہری نمازوں کے دوران پڑھی جانے والی قرآنی آیات سے اس کی مناسبت اس ذہنی تکرار کا مزید محرک بن گئی۔ چنانچہ اس وقت عشاء کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ریکارڈ کر لینا چاہئے۔ 

میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل ایک بستی ہے۔ ہر طرف سناٹا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آخرت کی دنیا ہے اور انسانوں کا حساب کتاب ہو رہا ہے یا عنقریب ہونے والا ہے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا شکیب عزام اپنی سائیکل پر وہاں ایک گھر کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے۔ اس وقت وہ ۲۵ سال کا ہو چکا ہے مگر خواب میں وہ دس برس کا بچہ دکھائی دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا:

” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

“شکیب(مسکراتے ہوئے): دادا کہتے ہیں کہ اس کمرے میں جو آدمی ہے وہ بہت بے بس اور پریشان ہےکیونکہ اس بیچارے کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے۔” 

میں نے غور سے دیکھا تو گھر کی شفاف دیوار کے پیچھے برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نظر آیا، جو سراسیمگی کی حالت میں اندر اس طرح چل رہا تھا جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ اپنی صورت اور حلیہ کے اعتبار سے وہ بعینہ اس کے مطابق تھا جو اس کی آخری عمر کی تصویروں میں نظر آتا ہے۔میں نے اپنے لڑکے کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی میں کہا:

“Pitiful. He was one of the greatest mathematicians and philosophers of 20th century but now he is so helpless.”

اس جملہ پر میری آنکھ کھل گئی۔ 

برٹرینڈ رسل(1970-1872) دور جدید کے ان معروف ملحدین میں سے ہے جنہوں نے علی الاعلان خدا اور مذہب کا انکار کیا۔ بظاہر اپنے اس انکار کی توجیہ وہ خوبصورت فلسفیانہ اور علمی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں مگر اپنے آخری تجزیہ میں اس سے زیادہ بے بنیاد اور غیر علمی توجیہ کوئی نہیں۔ مذکورہ خواب میں رسل کی بے بسی کا منظر حرف بحرف وہی تھا جو قرآن میں کئی مقامات پر منکرین خدا کے آخری انجام کی تصویر کشی کرتے ھوئے دکھایا گیا ہے۔ مثلاً سورہ غافر کی آیات ۱۰، ۱۱، ۱۲، اور١٦، ۱۷ ۱۸۔ یعنی سخت حسرت و افسوس میں ڈوبی ہوئی سراسیمگی،اور بے بسی کی حالت جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ 

بچہ کی زبان سے خواب میں نکلا ھوا یہ جملہ کہ” دادا کہتے ھیں اس آدمی کو کوئی وکیل نہیں مل رہا ہے” شاید وہ فطرت کی زبان میں سورہ غافر کی آیت نمبر ۱۸ کے ایک ٹکڑے کی طرف اشارہ تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں ” ظالموں کے لئے نہ کوئی ہمدرد ہو گا، نہ ہی کوئی سفارشی جس کی بات سنی جائے”۔ 

خواب کے ضمن میں “دادا” کا حوالہ بھی غالباً دوبارہ “فطرت انسانی” کی اس بے آمیز حالت کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے وجدانی تقاضے کے تحت کسی فلسفیانہ تعمق یا منطقی دلیل کے بغیر ایک خدا پر سنجیدہ ایمان رکھتی ہے۔ شکیب کے دادا (محمد لقمان ، وفات ۱۹۹۸) بیسویں صدی کی اس مسلم نسل سے تعلق رکھتے تھے، جن کی اکثریت اگرچہ نیم خواندہ تھی مگر اپنی بے آمیز فطرت کی بنا پر وہ ایک خدا پر گہرا وجدانی یقین رکھتی تھی جبکہ اسی زمانہ میں ایک قابل لحاظ اقلیت ایسی بھی ابھر رہی تھی، جو خود کو “جدید تعلیم” اور “جدید فلسفہ” اور “ترقی پسند رجحانات” کی علمبردار سمجھتی تھی اور ان کی اس مستعار لی ہوئی”جدیدیت” یا ترقی پسندی کا واحد کارنامہ یہ تھا کہ خدا کے وجود کا انکار کرے اور مذہب کو افیون اور دقیانوسیت قرار دے۔ 

رسل اور اس جیسے ملحدین کے پاس انکار خدا کی آخری دلیل یہ ہے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ کائنات کو خدا نے پیدا کیا، تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا، جس کا، ان کے بقول، کوئی عقلی یا منطقی جواب نہیں۔ بنا بریں، ان کی نظر میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ” خدا نہیں ہے”۔ مگر یہ موقف بذات خود حد درجہ غیر منطقی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ اصل سوال “کائنات کو کس نے پیدا کیا”، اپنی جگہ بدستور قائم رہتا ہے، جس کا ان کے پاس کوئی عقلی یا علمی جواب نہیں۔ ایسی حالت میں خدا کے خالق کائنات ہونے کے مذہبی تصور کا انکار گویا یہ دعوی کرنا ہے کہ کائنات اپنی خالق آپ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خدا کو خالق ماننے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ غیر منطقی اور خلاف عقل بات ہے۔ 

مزید گہرائی سے دیکھئے تو انکار خدا کا سبب کوئی عقلی دلیل نہیں، بلکہ ایک قسم کا عقلی غرور اور گھمنڈ ہے۔ کائنات کی با معنی توجیہ ایک خالق کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے باوجود جو خالق کا انکار کرے وہ در حقیقت ایک نفسیاتی فریب کا شکار ہے اور گویا اس بات کا مدعی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو خدا کا ہمسر خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں منکرین خدا کو متکبر کہا گیا ہے۔ چونکہ اپنے ملحدانہ موقف کے ذریعہ وہ دنیا میں یہ اعلان کرتے تھے کہ انہیں خدا کی ضرورت نہیں۔ وہ اور ساری کائنات خدا سے “بے نیاز” ہے۔ خدا کو ماننا کمزور، سادہ لوح اور بزدل لوگوں کا کام ہے، اس لئےقرآن میں ان کے جواب میں عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ ان کے آخری حسرتناک انجام کی جا بجا تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ تصویر بذات خود ایک نفسیاتی دلیل ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگوں کا انکار خدا در اصل محض ان کی انانیت اور خود پسندی اور اپنے محدود علم پر لا محدود فخر و ناز کا نتیجہ تھا نہ کسی سنجیدہ علمی غور و فکر کا نتیجہ۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کو ماننا عقلی طور اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ممکن تھا جتنا کہ اس کو نہ ماننا۔ مگر خدا کو ماننے کی صورت میں اپنے کو خدا کے مقابلہ میں چہوٹا بنانا پڑتا، اس لئے ان کا متکبرانہ مزاج، نہ کہ کوئی حقیقی عقلی دلیل، ان کے لئے ایک خدا پر ایمان لانے میں رکاوٹ بن گئی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں خدائے وحدہ لا شریک کو دیکھے بغیر ماننا، نہ صرف عقلی طور پر سب سے زیادہ ممکن بات ہے، بلکہ وہی سب سے زیادہ اہم چیز ہے جو انسان سے اس دنیا میں مطلوب ہے ۔خدا کا انکار یا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا، حقیقتاً خود اپنے آپ کو خدا کے برابر یا خدا سے بھی بڑا سمجھنا ہے ، اسی لئے کفر اور شرک کرنے والے، اپنے آخری نفسیاتی تجزیہ میں ، خود پسندی اور تکبر کے مجرم ثابت ہوتے ہیں نہ کہ عقلیت پسند یا سچائی کے سنجیدہ متلاشی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا جرم خدا کے یہاں نا قابل معافی ہے۔

“خدا کو کس نے پیدا کیا؟”، یہ کوئی ایسا عقلی اعتراض نہیں ہے جس کو رسل یا ڈاوکنس وغیرہ نام نہاد عقلیت پسند ملحدین نے تاریخ میں پہلی بار اٹھایا ہو۔ یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان اور اس کی عقلی تگ و دو کی تاریخ۔ غالباً روایتی فلسفہ کی کوئی کتاب اس کے ذکر سے خالی نہیں۔ اس طرح آج کے منکرین خدا کے پاس جو عقلی سرمایہ ہے وہ ان کی”جدیدیت” سے زیادہ ان کی “دقیانوسیت” کا ثبوت ہے۔   

صحیح مسلم کی ایک روایت (134) میں مذكوره سوال کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” شیطان تم میں سے کسی کے پاس آکر کہے گا، مخلوقات کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہے گا اللہ۔ پھر شیطان کہے گا: اس خالق یا اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ سو تم میں جو کوئی اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہو، وہ کہے کہ “آمنت بالللہ” یعنی میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں”۔ 

الطبرانی اور البیہقی کی ایک روایت کے مطابق آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم اللہ کی مخلوقات اور نشانیوں میں غور و فکر کرو، اس کی ذات میں نہیں ورنہ تم ھلاک ہو جاؤ گے۔

پیغمبر اسلام کی یہ ہدایت محض ایک واعظانہ تلقین نہیں، بلکہ وہ مذکورہ قسم کے ملحدانہ سوال کا آخری معقول ترین جواب ہے۔ ” میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں” کہنا در اصل انسانی عقل کی آخری حد کو شعوری طور پر دریافت کرنے کا نام ہے۔ اسی حد کے اندر رہتے ہوئےانسان زندگی اور کائنات کی حقیقتوں کا گہرا ادراک کر کے ایک با معنی زندگی گزار سکتا ہے۔ جو عقل کی اس محدودیت کو تسلیم نہ کرے، اس کا کیس عقلیت پسندی کا نہیں، بلکہ غیر عاقلانہ گھمنڈ اور خود پسندی کا کیس ہے۔ اس کا انجام اس دنیا میں مسلسل حیرانی اور آخرت میں ابدی حسرت اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں۔

Hikmah/ Wisdom

Once I participated in a group discussion in my school on: ‘What is Wisdom and How to acquire it’. It was attended by a number of experienced educationists and highly qualified Islamic and secular scholars. Towards the end of the discussion, there was almost a unanimous agreement on that Hikmah or Wisdom consists in whatever the Prophets in general and Prophet Muhammad (PBUT) in particular ‘said’ or ‘did’ and subsequently the more we reflect on it the more treasure of wisdom we explore. 
In my concluding remarks as the host I disagreed and opined that actually the most significant and invaluable pearls of Hikmah or ‘prophetic wisdom’ are disguised in what the Prophet ‘Did NOT do or did NOT say’ in a given situation when someone would have otherwise ‘said or did’ something! And the more we reflect on this aspect of Prophet’s ideal life and ask ‘Why’ the wiser we become. 

For example, Quran permits to take ‘revenge’ against anyone who harms you in equal measure. But the Prophet never retaliated to any verbal and non verbal abuse he had been so frequently subjected to both in Makkah and Madinah. Ask why and you will discover a well of wisdom. 

The hypocrites in Madinah insulted him including his family and Companions on many occasions but he did NOT take any disciplinary action. Ask why and you will explore yet another treasure of wisdom. 

In fact, unless we thoroughly understand what the Prophet did NOT do or say in a given set of circumstances and reflect on Why, we won’t be ever able to appropriately and consistently follow him in what he did or said. Hence, I so often insist on knowing what ‘NOT to be done’ in order to be able to ‘do what ought to be done.’ The more insightful you are in consciously realizing this difference, the wiser you grow.

Redefining Hijrah

This is a portion of my diary:

Wednesday,

1st Muharram 1405-26 Sep. 1984

Nomaniya Hostel-Nadwah-Lucknow

(Originally penned in Urdu)

Shared with a hope that it may motivate EBUC® group members to redefine Hijrah for themselves and strive to make the new Hijri Year 1437 the best ‘Islamic Year’ of their own life by Almighty’s Grace.

-————–——

“Just came back from Pata Nala after attending the inaugural ‘Jalsah’ organized by ‘Anjuman-e-Tahaffuz-e-Namus-e-Sahabah’. My senior roommate informed that he never miss a single day this 10 day series of Jalsahs which is annually conducted to “defend” Sahabas’ dignity particularly the first Two Righteous Caliphs against Shi’ahs’ ‘Tabarra’ and other allegedly ‘malpractices’ they do in Imam Barah area during the first 10 days of Muharram….Speeches as usual were fiery and inviting the audience to being ever ready to die for ‘protection of Sahaba’s’ honor and dignity’. This is first time I realized why so often we hear about clashes between the two Muslim sects in Lucknow that sometimes even requires police intervention.

Regardless of this sad aspect, my mind since dawn of the 1st Muharram was focused on exploring some meaningful relevance of Hijrah to me and other Muslims today. 

First Muharram as a begging of New Islamic year is basically related to commemorate an epoch making event of Islamic and human history and that should be the focal point of reflection on this occasion instead of any other event. And that is Prophet’s migration from Makkah to Madinah which has also been highlighted in the Quran. 

Prophet’s Hijrah was both a geographical shift as well as a Strategic Action Plan to march forward with the Islamic mission. Each and every step of this plan was well thought of and divinely guided. Hence, it must have an everlasting relevance to all Muslim generations to come thereafter. 

Hijrah, in the sense of ‘geographical shift was obligatory for all contemporary Muslims till Conquest of Makkah but after that Prophet himself stopped this process as he declared ” لا هجرة بعد الفتح” that is ‘there no more migration from Makkah or elsewhere to Madinah’.  

However, Hijrah in the sense of a ‘strategy’ for intellectual, moral and social transformation at individual as well as community levels is a continuing process. This aspect has been defined by the Prophet as:

 ‘المهاجر من هجر ما نهى الله عنه’

‘The true Muhajir/migrant is one who quits whatever is forbidden by Allah.’

In application this broader and perpetual aspect of Hijrah would mean a range of different things for individuals, families and groups they should ‘quit’ in order to do what they have got to do as Muslims and subsequently get closer to Allah. This act of consciously ‘quitting’ what ought not to be done for the sake of doing what ought to be done will be counted as their Hijrah.

Thus, every Muslim individual or group willing to initiate self-renewal or self-transformation has to ‘re-define’ Hijrah within one’s own situational context. One has to simply ask oneself: Am I living here and now up to the Islamic standards and values? If not, then what is there within me or my surroundings that I am preoccupied with instead? As soon as one honestly finds the answer to this question, one’s intellectual, moral and social Hijrah begins instantly. 

For some it would mean to quit some useless or rather harmful habits such as: laziness, procrastination, late sleeping and late rising, smoking, over spending on food, cloths and luxuries. For others it would require to repent/Tawbah from sinful tendencies and behavior. While still others find their Hijrah in saying goodby to some ‘friends’ or seemingly innocent hobbies or parties or family -get-togethers to minimize distraction and maximize concentration on the things that matter the most. And so on.

-—————

السلام  علیکم،

بلاگ کا تعارف

بلاگ کا نام EBUC در اصل شارٹ فارم ہے، جس کا فل فارم حسب ذیل ہے:

 Expected Behaviour Under Unexpected Circumstances = “متوقع کردار ، غیر متوقع حالات میں”-

 یہ ڀوزیٹیو تھنکنگ سے آگے کا مرحلہ ہے جسے ميں اٻنے تمام تعليمی اور دعوتی مطالعات ،تجربات اور غور و فکرکا خلاصہ سمجھتا ہوں- معياری تعلیم وتر بیت ، دعوتی جد و جہد اور روحانی تزکیہ کا مقصد میری نظر میں ایسے انسان وجود میں لانا ہے جو نہ صرف “متوقع حالات” میں بلکہ انتہائی “غیر متوقع حالات” میں بھی اس معیاری کردار کا ثبوت دے سکیں جو ان سے بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان “متوقع” ہے- اس اصول کو میں وہ ربانی کسوٹی سمجھتا ھوں چس کی بنیاد ٻر خدا اس دنیا کے مختلف احوال و ظروف کے درمیان اٻنے ان مخلص بندوں کا انتخاب کرتا ہے جو جنت کی شہریت کے قابل ہوں – ٻیغمبرانہ اسوہ کی اگر کوئی عملی اور قابل عمل تعریف کرنی ہو تو شاید مختصر لفظوں میں يہی ہو گی: متوقع کردار، غیر متوقع حالات میں-

اس بلاگ کے ذریعہ اسی فلسفہ حیات کے مختلف نظری اور عملی پہلوؤں پر اپنے افکار و تجربات اور مطالعے کا حاصل ناظرین کے ساتھ تبادلہ خیالات اور ارادہ و استفادہ کی غرض سے پیش کرنا مقصود ہے۔ حسب موقع و ضرورت میں کبھی اردو ، کبھی انگریزی اور کبھی عربی زبان کو اظہار خیال کا ذریعہ بناؤں گا-